உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    IND vs ENG: یوم آزادی کے موقع پر لارڈس میں جنگ، ہندوستان کے پاس انگریزوں کے ارمانوں پر پانی پھیرنے کا وقت

    India vs England 2nd test: ہندوستان اور انگلینڈ کی (England) کرکٹ ٹیمیں لارڈس ٹسٹ (Lords Test) میں 12 اگست کو آمنے سامنے ہیں۔ پہلے تین دن تک تو مقابلہ برابری پر لگا، لیکن 15 اگست فیصلہ کن ہونے جا رہا ہے۔ ہندوستانی ٹیم (Team India) کو اگر لارڈس ٹسٹ جیتنا ہے تو آج اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنی ہوگی۔

    India vs England 2nd test: ہندوستان اور انگلینڈ کی (England) کرکٹ ٹیمیں لارڈس ٹسٹ (Lords Test) میں 12 اگست کو آمنے سامنے ہیں۔ پہلے تین دن تک تو مقابلہ برابری پر لگا، لیکن 15 اگست فیصلہ کن ہونے جا رہا ہے۔ ہندوستانی ٹیم (Team India) کو اگر لارڈس ٹسٹ جیتنا ہے تو آج اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنی ہوگی۔

    India vs England 2nd test: ہندوستان اور انگلینڈ کی (England) کرکٹ ٹیمیں لارڈس ٹسٹ (Lords Test) میں 12 اگست کو آمنے سامنے ہیں۔ پہلے تین دن تک تو مقابلہ برابری پر لگا، لیکن 15 اگست فیصلہ کن ہونے جا رہا ہے۔ ہندوستانی ٹیم (Team India) کو اگر لارڈس ٹسٹ جیتنا ہے تو آج اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنی ہوگی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کرکٹ اور وقت کب کروٹ بدل لیں، کوئی نہیں جانتا۔ ہندوستان اور انگلینڈ (India vs England 2nd Test) کے درمیان کھیلا جا رہا دوسرا ٹسٹ بھی ایسے ہی موڑ پر ہے، جہاں کوئی نہیں جانتا کہ میچ کس طرف جا رہا ہے۔ دونوں ہی ٹیمیں امید سے ہیں۔ وراٹ کوہلی کو امید ہوگی کہ ٹیم انڈیا (Team India) 16 اگست کو لارڈس میں پرچم بلند کردے گی۔ انگریز کپتان جو روٹ (Joe Root) کی ٹیم تو پہلی دو اننگوں کے بعد 27 رن کی لیڈ میں ہے۔ ایسے میں ان کا بھروسہ تو کم ہونے سے رہا۔ ویسے، لارڈس کی اس لڑائی میں 16 اگست سے زیادہ اہم 15 اگست (15th August) ہے کیونکہ یہ طے ہے کہ جیتے گی وہی ٹیم، جو آج زیادہ اچھا کھیلے گی۔

      ہندوستان اور انگلینڈ (India vs England) کے درمیان لارڈس کی یہ جنگ 5 دنوں کی ہے۔ لڑائی 12 اگست کو شروع ہوئی ہے۔ اس لئے ایک نظر شروعات سے۔ 12 اگست کو انگلینڈ (England) کے کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ منتخب کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ آسمان میں چھائے بادلوں کا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، اس لئے پہلے گیند بازی منتخب کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے بھی کہا کہ وہ ٹاس جیتنے پر پہلے گیند بازی کا فیصلہ لیتے۔

      ہندوستان اور انگلینڈ (India vs England) کے درمیان لارڈس کی یہ جنگ 5 دنوں کی ہے۔
      ہندوستان اور انگلینڈ (India vs England) کے درمیان لارڈس کی یہ جنگ 5 دنوں کی ہے۔


      پہلا دن ہندوستان کے نام

      جو روٹ کا بادلوں کا فائدہ لینے کا یہ ارادہ تب ہوا ہوگیا، جب ہندوستان نے پہلے دن 3 وکٹ پر 276 رن بنا لئے۔ کے ایل راہل (129 رن) نے سنچری لگا دی۔ ظاہر ہے میچ کا پہلا دن ہندوستان کے نام رہا۔ دن کا کھیل ختم ہونے کے بعد ایسا لگا کہ جو روٹ بادلوں کا فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے تھے، بلکہ وہ بادلوں سے ڈرے ہوئے تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ بادلوں کے سایے میں ان کی بلے بازی بکھر سکتی ہے۔

      دوسرا دن برابری پر رہا

      پہلے دن جب کھیل رکا تو کے ایل راہل اور اجنکیا رہانے کریز پر تھے۔ ہندوستانی کھیل مداح امید کر رہے تھے کہ ٹیم انڈیا 450 رنوں سے زیادہ بناسکتی ہے، لیکن انگلینڈ کے گیند باز جو پہلے دن نہیں کرسکے تھے، وہ دوسرے دن بخوبی نبھایا۔ انہوں نے 13 اگست کو ہندوستانی بلے بازوں کو صرف 88 رن بنانے دیئے اور 364 رنوں پر مہمان ٹیم کو سمیٹ دیا۔ ہندوستانی گیند بازوں نے بھی امید کے مطابق کھیل دکھایا۔ جب دوسرے کا کھیل ختم ہوا تو ہندوستان نے انگینڈ کے تین وکٹ 119 رن بننے تک حاصل کرلئے تھے۔ یعنی دوسرے دن کا کھیل برابری پر ختم ہوا۔

      وراٹ کوہلی کو امید ہوگی کہ ٹیم انڈیا (Team India) 16 اگست کو لارڈس میں پرچم بلند کردے گی۔
      وراٹ کوہلی کو امید ہوگی کہ ٹیم انڈیا (Team India) 16 اگست کو لارڈس میں پرچم بلند کردے گی۔


      تیسرا دن انگریزوں کے نام

      میزبان انگلینڈ میچ کے پہلے دن اپنے مداحوں کی امیدوں پر کھرا نہیں اترا، لیکن 14 اگست کو کرکٹ نے کروٹ لی اور میچ انگلینڈ کی طرف جھکتا نظرآیا۔ اس دن انگلینڈ نے 119 رن کے اپنے اسکور میں 272 رن جوڑ لئے اور کل اسکور 391 رنوں تک پہنچا دیا۔ جو روٹ 180 بناکر ناٹ آوٹ رہے۔ ناٹنگھم میں 9 وکٹ لینے والے جسپریت بمراہ لارڈس میں وکٹ کے لئے ترستے رہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ انگلینڈ نے ہندوستان پر پہلی اننگ میں 27 رنوں کی سبقت حاصل کرلی، جو فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

      چوتھا دن 15 اگست، یہ تاریخ ہی ہندوستان کی جیت کی ہے

      میچ کا چوتھا دن 15 اگست ہے۔ یہ تاریخ ہی ہندوستان کی جیت کی ہے۔ وراٹ کوہلی کی ٹیم بھی ہندوستان کی انگریزوں پر سب سے بڑی جیت کی تاریخ سے ترغیب لینا چاہے گی۔ ہندوستانی ٹیم کے سامنے ویسے بھی کوئی پہاڑ سا ہدف نہیں ہے۔ اسے تو بس دوسری اننگ میں تقریباً 100 اور بلے بازی کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان نے پہلی اننگ میں 126.1 اوور بلے بازی کی ہے۔ اگر ہندوستانی ٹیم دوسری اننگ میں 100 اوور بلے بازی کر پائی تو اسکور 300 کے پار جاسکتا ہے۔ اگر ٹیم انڈیا، انگلینڈ کو 16 اگست کو تقریباً 300 رنوں کا ہدف دے پائی تو سمجھئے کہ میچ اپنا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کرکٹ کب کس کروٹ بیٹھے، کوئی نہیں جانتا۔ اس لئے جس طرح ہندوستان کی جیت کی امیدیں قائم ہیں، ویسے ہی انگلینڈ بھی امید سے ہے۔ اس کی کوشش تو یہی رہے گی کہ ہندوستان دوسری اننگ میں 250 رنوں کے اوپر کا اسکور نہ بنا پائے تاکہ انہیں سوا دو سو سے کم کا ہدف ہی ملے اور ساتھ میں زیادہ اوور بچے رہیں۔ تاہم ہمیں دوسروں کی امیدوں کا کیا... ہم تو کوہلی اینڈ کمپنی سے یہی کہیں- ’پانی ڈالئے انگریزوں کے ارمانوں پر‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: