உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    India vs Pakistan: جاوید میانداد کے چھکے کو آج بھی نہیں بھول پائے کپل دیو، اب بھی نہیں آتی ہے نیند

    جاوید میانداد کے چھکے کو آج بھی نہیں بھول پائے کپل دیو

    جاوید میانداد کے چھکے کو آج بھی نہیں بھول پائے کپل دیو

    Asia Cup 2022, India vs Pakistan: ایشیا کپ 2022 میں ہندوستان کا پہلا مقابلہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہے۔ ہندوستان کو عالمی چمپئن بنانے والے کپتان کپل دیو نے 36 سال پہلے ہوئے ایک یادگار فائنل کی کہانی سنائی ہے۔ 1986 کے آسٹریلیشیا کپ کے فائنل میں چیتن شرما کی آخری گیند کو یاد کرکے آج بھی کپل دیو سو نہیں پاتے ہیں۔ جانئے پورا معاملہ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستان 28 اگست کو ایشیا کپ 2022 کے بلاک بسٹر مقابلے میں پاکستان سے مد مقابل ہوگا۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک کے کرکٹ کی بھرپور تاریخ رہی ہے۔ سیاسی کشیدگی کے سبب دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ سیریز نہیں ہو رہی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کی ٹیمیں ایک دوسرے سے آئی سی سی ٹورنا منٹس میں کھیلتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں کئی دلچسپ مقابلے ہوئے ہیں، جنہیں اب تک فینس یاد کرتے ہیں۔ ہندوستان کا آئی سی سی ٹورنا منٹس میں پاکستانی ٹیم پر دبدبہ ہے تو اوور آل پاکستان جیت کے معاملے میں ٹیم انڈیا سے آگے ہے۔

      ہندوستان-پاکستان کے درمیان جب بھی کرکٹ میچ کی بحث ہوتی ہے تو سب سے پہلے لوگوں کو چیتن شرما اور جاوید میانداد کا نام ہی یاد آتا ہے۔ چیتن شرما کی گیند پر جاوید میانداد کے ذریعہ لگایا گیا چھکا کروڑوں ہندوستانیوں کو زخمی دے گیا تھا۔ جاوید میانداد نے 18 اپریل 1986 کو آسٹریلیشیا کپ کے فائنل میں چیتن شرما کی آخری گیند پر چھکا لگاکر پاکستان کو تاریخی جیت دلائی تھی۔ تب ہندوستانی ٹیم کے کپتان کپل دیو تھے۔ انہوں نے اسٹار اسپورٹس کے ایک پروگرام میں 36 سال پہلے کھیلے گئے اس فائنل کو یاد کیا۔ ان کے ساتھ اس بحث میں پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم نے بھی حصہ لیا۔ جاوید میانداد کے چھکے سے ملی جیت نے ہندوستانی کرکٹ پر پاکستانی ٹیم کا دبدبہ چار سالوں تک بنائے رکھا۔

      جاوید میانداد نے 18 اپریل 1986 کو آسٹریلیشیا کپ کے فائنل میں چیتن شرما کی آخری گیند پر چھکا لگاکر پاکستان کو تاریخی جیت دلائی تھی۔
      جاوید میانداد نے 18 اپریل 1986 کو آسٹریلیشیا کپ کے فائنل میں چیتن شرما کی آخری گیند پر چھکا لگاکر پاکستان کو تاریخی جیت دلائی تھی۔


      وسیم اکرم نے اس میچ کی کہانی بتاتے ہوئے کہا، ہندوستانی ٹیم 270 رن بنانے کے قریب تھی، لیکن انہیں جلدی جلدی تین وکٹ مل گئے اور ٹیم انڈیا 245 رن ہی بناسکی۔ اس مقابلے میں ہندوستان کی طرف سے سلامی بلے باز سنیل گواسکر نے 92، کے شری کانت نے 75 اور دلیپ وینگسرکر نے 50 رن بنائے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے دو وکٹ حاصل کئے۔

      یہ بھی پڑھیں۔
      پاکستانی ٹیم کے یہ 5 تیز گیند باز ایشیا کپ میں برپا کریں گے قہر، پڑھیں ٹی20 کیریئر

      یہ بھی پڑھیں۔

      ICC ODI Rankings: ٹیم انڈیا کو ملا بڑا فائدہ، پاکستان کی ٹیم بھی زیادہ پیچھے نہیں

      یہ بھی پڑھیں۔

      ہندوستان-پاکستان نے کی ایک جیسی غلطی، کہیں ایشیا کپ اور ٹی20 عالمی کپ میں اٹھانا نہ پڑ جائے بڑا نقصان! 

      اس کے بعد ٹیم انڈیا نے شاندار گیند بازی کرتے ہوئے پاکستان کے 9 وکٹ 241 رن بننے تک جھٹک لئے۔ دوسرے اینڈ پر جاوید میانداد چٹان کی طرح ڈٹے رہے تھے۔ پاکستان 49.5 اوور میں 242 رن بنا چکا تھا۔ اسے جیت کے لئے میچ کی آخری گیند پر چار رن کی ضرورت تھی۔

      کپتان کپل دیو نے آگے کا قصہ سناتے ہوئے کہا، ’جب آخری اوور آیا، ہم چیتن شرما کے پاس گئے۔ مجھے ابھی بھی لگتا ہے کہ یہ ان کی غلطی نہیں تھی۔ انہیں آخری گیند پر 4 رن چاہئے تے اور ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ ایک لو یارکر ہوگا۔ کوئی دیگر متبادل نہیں تھا۔ اس نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی، ہم سب نے کوشش کی۔ یہ لو فُل ٹاس نکلا۔ میانداد نے اپنا بیک فٹ برقرار رکھا اور شاٹ جڑ دیا۔ آج بھی جب ہمیں یاد آتا ہے، تو ہم سو نہیں سکتے۔ اس ہار نے پوری ٹیم کی خود اعتمادی کو 4 سال کے لئے کچل دیا۔ وہاں سے واپسی کرنا بہت مشکل تھا‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: