உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    India vs Pakistan: روہت شرما بطور کپتان بابر اعظم سے کافی آگے، ٹیم انڈیا آسٹریلیا میں پاکستان پر رہی ہے حاوی

    روہت شرما بطور کپتان بابر اعظم سے کافی آگے، ٹیم انڈیا آسٹریلیا میں پاکستان پر رہی ہے حاوی

    روہت شرما بطور کپتان بابر اعظم سے کافی آگے، ٹیم انڈیا آسٹریلیا میں پاکستان پر رہی ہے حاوی

    India vs Pakistan: روہت شرما (Rohit Sharma) کے طور پر ٹیم انڈیا (Team India) کو ٹی-20 کا نیا کپتان مل چکا ہے۔ نیوزی لینڈ سیریز (India vs New Zealand) سے روہت شرما شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ آئندہ سال آسٹریلیا میں ٹی-20 عالمی کپ (T20 World Cup 2022) ہونا ہے۔ اس دوران ہندوستان اور پاکستان کا مقابلہ (India vs Pakistan) ہوسکتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: روہت شرما (Rohit Sharma) 17 نومبر یعنی کل سے نئی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ انہیں ٹی-20 ٹیم کا کپتان بنایا جاچکا ہے۔ تین میچوں کی ٹی-20 سیریز (India vs New Zealand) ٹیم انڈیا کے لئے بھی اہم ہے۔ ٹیم (Team India) ٹی-20 عالمی کپ (T20 World Cup 2022) میں اچھی کارکردگی نہیں پیش کرسکی تھی۔ روہت شرما اس سے پہلے بھی انٹرنیشنل مقابلوں میں ٹیم کی کپتانی کرچکے ہیں، لیکن تب انہیں مستقل کپتان کے نہیں رہنے پر ذمہ داری ملتی تھی۔ آسٹریلیا میں آئندہ سال ٹی-20 عالمی کپ ہونا ہے۔ اس دوران ہندوستان اور پاکستان (India vs Paksitan) کا مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ روہت شرما کا بطور کپتان ریکارڈ پاکستان کے بابر اعظم (Babar Azam) سے بھی اچھا ہے۔

      پاکستان کے کپتان بابر اعظم کے ریکارڈ کو دیکھیں تو انہوں نے 49 میں سے 29 انٹرنیشنل مقابلے جیتے ہیں۔
      پاکستان کے کپتان بابر اعظم کے ریکارڈ کو دیکھیں تو انہوں نے 49 میں سے 29 انٹرنیشنل مقابلے جیتے ہیں۔


      روہت شرما کی کپتانی کا ریکارڈ شاندار

      روہت شرما کے کپتانی کا ریکارڈ کی بات کریں تو انہوں نے 29 میں سے 23 مقابلے جیتے ہیں۔ یعنی تقریباً 79 فیصدی۔ دوسری طرف پاکستان کے کپتان بابر اعظم کے ریکارڈ کو دیکھیں تو انہوں نے 49 میں سے 29 انٹرنیشنل مقابلے جیتے ہیں۔ یعنی 59 فیصدی۔ ان دونوں ریکارڈ کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ روہت شرما کا ریکارڈ بابر اعظم سے اچھا ہے۔ روہت شرما نے بطور کپتان 15 ٹی-20 اور 8 ونڈے انٹرنیشنل کے مقابلے جیتے ہیں۔ آئندہ سال ستمبر میں سری لنکا میں ایشیا کپ (Asia Cup) بھی ہونا ہے۔ اس دوران بھی ہندوستان اور پاکستان کا مقابلہ ہو سکتا ہے۔

      روہت شرما اس سے پہلے بھی انٹرنیشنل مقابلوں میں ٹیم کی کپتانی کرچکے ہیں، لیکن تب انہیں مستقل کپتان کے نہیں رہنے پر ذمہ داری ملتی تھی۔
      روہت شرما اس سے پہلے بھی انٹرنیشنل مقابلوں میں ٹیم کی کپتانی کرچکے ہیں، لیکن تب انہیں مستقل کپتان کے نہیں رہنے پر ذمہ داری ملتی تھی۔


      7 وینیو پر کھلے جانے ہیں مقابلے

      کرکٹ آسٹریلیا (Cricket Australia) نے منگل کو 2022 میں ہونے والے ٹی-20 عالمی کپ کا پروگرام جاری کیا۔ حالانکہ شیڈول جنوری میں ڈکلیئر ہوگا۔ اس کے مطابق، 7 وینیو پر کل 45 مقابلے کھیلے جائیں گے۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں نے سپر-12 کے لئے کوالیفائی کرلیا ہے۔ ایسے میں ایک بار پھر انہیں ایک ہی گروپ میں جگہ مل سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کے سبب سالوں سے دوطرفہ سیریز نہیں ہو رہی ہے۔ ایسے میں وہ آئی سی سی یا بڑے ٹورنامنٹ میں ہی ایک دوسرے کے خلاف اترتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      کیمن ولیمسن ہندوستان کے خلاف ٹی-20 سیریز میں نہیں کھیلیں گے، جانئے کون کرے گا کپتانی


      آسٹریلیا میں ٹیم انڈیا کا پلڑا بھاری

      ٹی-20 عالمی کپ کا مقابلہ آسٹریلیا میں ہونا ہے۔ ایسے میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان آسٹریلیا میں ہوئے میچ کے ریکارڈ پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ریکارڈ کے لحاظ سے یہاں بھی ٹیم انڈیا کا پلڑا بھاری ہے۔ دونوں کے درمیان آسٹریلیا میں اب تک 8 ونڈے انٹرنیشنل کے مقابلے کھیلے گئے ہیں۔ ٹیم انڈیا نے اس میں سے 5 میں جیت درج کی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی ٹیم 3 میچ جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔ یعنی دونوں ٹیمیں عالمی کپ کے دوران آسٹریلیا میں پہلی بار ٹی-20 انٹرنیشنل میں آمنے سامنے ہوں گی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      راہل دراوڑ کے طور پر ٹیم انڈیا کو نیا کوچ بھی مل گیا ہے۔
      راہل دراوڑ کے طور پر ٹیم انڈیا کو نیا کوچ بھی مل گیا ہے۔


      ٹیم انڈیا کو مل گیا نیا کوچ

      روہت شرما کے علاوہ راہل دراوڑ (Rahul Dravid) کے طور پر ٹیم انڈیا کو نیا کوچ بھی مل گیا ہے۔ ایسے میں دونوں پر ٹیم کو بڑا خطاب دلانے کا دباو ہوگا۔ ٹیم 2013 سے آئی سی سی ٹرافی نہیں جیت سکی ہے۔ ٹیم انڈیا نے آخری بار 2007 میں ٹی-20 عالمی کپ کا خطاب جیتا تھا۔ ٹیم کے پاس تیاری کے لئے 11 ماہ کا وقت ہے۔ ایسے میں اسے اس دوران خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔ سال 2023 میں ونڈے عالمی کپ بھی ہونا ہے۔ اس کے مقابلے ہندوستان میں ہونے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: