உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹی-20 عالمی کپ: بابر اعظم کے کرکٹر بننے کے پیچھے ہے پاکستان کرکٹ کے متنازعہ چہرے کی کہانی

    ٹی-20 عالمی کپ: بابر اعظم کے کرکٹر بننے کے پیچھے ہے پاکستان کرکٹ کے متنازعہ چہرے کی کہانی

    ٹی-20 عالمی کپ: بابر اعظم کے کرکٹر بننے کے پیچھے ہے پاکستان کرکٹ کے متنازعہ چہرے کی کہانی

    T20 World Cup 2021: بابر اعظم نے سال 2015 میں زمبابوے کے خلاف ونڈے میچ سے انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا اور کچھ ہی سالوں میں وہ دنیا کے سب سے بہترین بلے بازوں میں شامل ہوگئے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستان اور پاکستان (India vs Pakistan) کی ٹیم ٹی-20 عالمی کپ (T20 World Cup 2021) میں چھٹی بار ایک دوسرے کے آمنے سامنے اتریں۔ ایک طرف وراٹ کوہلی (Virat Kohli) کی فوج پہلے سے پُرجوش تھی تو دوسری طرف بابر اعظم (Babar Azam) کی بریگیڈ۔ پوری دنیا کی نگاہیں اس میچ پر مرکوز تھیں، آخر کار بابر اعظم کی ٹیم کو پہلی بار آئی سی سی عالمی کپ میں کامیابی ملی۔ بہترین فارم میں چل رہے بابر اعظم اور ان کے ساتھی سلامی بلے باز محمد رضوان نے شاندار اننگ کھیلی، جس کی بدولت ٹیم انڈیا کو 10 وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی نہیں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اپنے دوسرے میچ میں بھی جیت حاصل کرلی ہے۔ اس نے نیوزی لینڈ کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر اپنا بدلہ بھی لے لیا اور سیمی فائنل کے لئے راستہ ہموار کرلیا۔

      27 سال کے بابر اعظم نے سال 2015 میں زمبابوے کے خلاف ونڈے میچ سے انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا اور کچھ ہی سالوں میں وہ دنیا کے سب سے بہترین بلے بازوں میں شامل ہوگئے۔ 15 اکتوبر 1994 کو پنجابی فیملی میں پیدا ہوئے بابر اعظم کی دلچسپی کرکٹ میں اپنے چچازاد بھائیوں کی کہانی سننے کے بعد پیدا ہوئی۔

      عمر اکمل پر لگ چکی ہے پابندی

      ایک وقت پاکستان کرکٹ کے اسٹار رہے کامران اکمل اور عمراکمل، بابر اعظم کے چچا زاد بھائی ہیں۔ دونوں ان سے بڑے ہیں۔ اسی وجہ سے بابر اعظم کی دلچسپی کرکٹ کی طرف تھی اور اپنے بڑے بھائیوں کی کہانیوں اور کامیابی نے انہیں کرکٹ کی جانب راغب کیا۔ اس کے بعد ہی انہوں نے کرکٹ کو پیشہ ور طریقے سے منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ قذافی اسٹیڈیم میں بال بوائے بھی رہ چکے ہیں۔ عمراکمل کی بات کریں تو انہیں پاکستان کرکٹ کا بدنام کھلاڑی مانا جاتا ہے۔

      اسپاٹ فکسنگ کی جانکاری نہ دینے کے الزام میں ان پر سال بھر کی پابندی بھی عائد ہوچکی تھی۔ وہیں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے سبب ان کی کافی تنقید بھی ہوتی ہے۔ وہیں بابر اعظم اپنے بڑے بھائی عمر اکمل سے بالکل مختلف ہیں۔ انہوں نے گزشتہ کچھ سالوں سے اپنی پوری توجہ کرکٹ پر لگائی اور پاکستانی ٹیم کی ذمہ داری بھی سنبھال لی۔ سال 2015 میں انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبیو کرنے کے بعد بابر اعظم نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ سال 2017 چمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بابر اعظم نے 46 رنوں کی شراکت داری والی اننگ کھیل کر ہندوستان کے خطاب جیتنے کے خوابوں پر بریک لگا دیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: