உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اس بلے باز کے طوفان میں اڑگئے ٹیم انڈیا کے گیند باز، 6 چھکوں کی مدد سے ٹھوک دی سنچری

    ویسٹ انڈیز کے نوجوان بلے باز شمران ہیٹ مائر نے ٹیم انڈیا کے خلاف گوہاٹی میں شاندار سنچری لگائی۔

    ویسٹ انڈیز کے نوجوان بلے باز شمران ہیٹ مائر نے ٹیم انڈیا کے خلاف گوہاٹی میں شاندار سنچری لگائی۔

    شمران ہیٹ مائرنے پانچ ونڈے میچوں کی سیریزکے پہلے مقابلے میں شاندارسنچری لگائی۔ ہیٹ مائرنے محض 78 گیندوں میں 106 رن بنائے، جس میں انہوں نے 6 چھکے اور6 چوکے لگائے۔

    • Share this:
      ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھلے ہی ہندوستان کے خلاف ونڈے سیریزمیں بغیرکرس گیل کے کھیل رہی ہے، لیکن ان کی ٹیم میں طوفانی بلے بازوں کی کمی نہیں ہے۔ ویسٹ انڈیز کے نوجوان بلے بازشمران ہیٹ مائر نے گوہاٹی ونڈے میں کرس گیل کی کمی کو محسوس نہیں ہونے دیا۔

      شمران ہیٹ مائرنے پانچ ونڈے میچوں کی سیریزکے پہلے مقابلے میں شاندارسنچری لگائی۔ ہیٹ مائرنے محض 78 گیندوں میں 106 رن بنائے، جس میں انہوں نے 6 چھکےاور6 چوکے لگائے۔ شمران ہیٹ مائرکی بلے بازی بے حد جارحانہ رہی۔

      شمران ہیٹ مائرکی جارحیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے چھکا لگاکراپنی سنچری پوری کی۔ انہوں نے ابھی محض 13 ونڈے میچ کھیلے ہیں اور وہ  3 سنچری لگاچکے ہیں۔ ہیٹ مائرنے بنگلہ دیش اورآئرلینڈ کے خلاف بھی سنچری لگائی ہے۔

      wes

      شمران ہیٹ مائر ہندوستان کے خلاف ونڈے سنچری لگانے والے تیسرے سب سے نوجوان کھلاڑی ہیں۔ ہیٹ مائرنے محض 21 سال 299 دنوں کی عمر میں سنچری لگائی۔ ہیٹ مائرویسٹ انڈیز کے لئے سب سے تیزی سے تین ونڈے سنچری لگانے والے کھلاڑی ہیں۔

      west 1

      ہیٹ مائر 2016 میں ویسٹ انڈیز کی انڈر 19 ٹیم کی کپتانی بھی کرچکے ہیں اوران کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے ٹیم انڈیا کو شکست دے کر خطاب بھی جیتا تھا۔

      west 2

      یہ بھی پڑھیں:     ٹی -20 سیریز میں اگرآسٹریلیا نے پاکستان کو ہرایا تو ٹیم انڈیا کو ہوگا بڑا نقصان

      یہ بھی پڑھیں:            پاکستان کوملا 15 سال کا طوفانی گیند باز، دوسرے ہی میچ میں حاصل کرلئے 6 وکٹ

      یہ بھی پڑھیں:     حیدرآباد ٹیسٹ میں ٹیم انڈیا نے ویسٹ انڈیز کو 10 وکٹوں سے دی مات ، سیریز پر بھی کیا قبضہ

      یہ بھی پڑھیں:     دو دہائی بعد تیز گیند باز امیش یادو نے کیا یہ بڑا کمال، دنیا کررہی ہے سلام
      First published: