உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وراٹ کوہلی اور بابر اعظم ایک ٹیم سے کھیلتے ہوئے نظر آئیں گے! ہر سال ٹورنا منٹ کرانے کی ICC کی تیاری

    Afro Asia Cup: ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 2012-13 سے دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی جا رہی ہے۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی آئی سی سی یا ایشیا کپ جیسے بڑے ٹورنا منٹ میں ہی ایک دوسرے کے خلاف اترتے ہیں۔

    Afro Asia Cup: ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 2012-13 سے دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی جا رہی ہے۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی آئی سی سی یا ایشیا کپ جیسے بڑے ٹورنا منٹ میں ہی ایک دوسرے کے خلاف اترتے ہیں۔

    Afro Asia Cup: ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 2012-13 سے دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی جا رہی ہے۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی آئی سی سی یا ایشیا کپ جیسے بڑے ٹورنا منٹ میں ہی ایک دوسرے کے خلاف اترتے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستان اور پاکستان (India vs Pakistan) کے درمیان اکتوبر میں ٹی20 عالمی کپ کا پہلا میچ متعین ہے۔ اس میچ کے ٹکٹ منٹوں میں فروخت ہوگئے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے میچ کا فینس کو کتنی بے صبری سے انتظار رہتا ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کے سبب 13-2012 کے بعد سے دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی جاسکی ہے۔ آئی پی ایل میں بھی پاکستان کے کھلاڑیوں کے اترنے پر روک ہے۔ ایسے میں اگر ہندوستان اور پاکستان کے کھلاڑی ساتھ میں کھیلتے ہوئے نظر آجائیں، تو فینس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہے گا۔ وراٹ کوہلی اور بابر اعظم ایک ہی ٹیم کا حصہ ہوں، اسے لے کر بڑی پلاننگ کی جارہی ہے۔

      فوبرس کی خبر کے مطابق، آئی سی سی کی آئندہ ماہ میٹنگ ہونے جا رہی ہے۔ اس میں ایشین کرکٹ کاونسل کے صدر جے شاہ، افریقن کرکٹ ایسوسی ایشن کے نئے چیئرمین سمود دامودر، اے سی سی ڈیولپمنٹ کمیٹی کے چیئرمین مہندا ولّی پورم، جو آئی سی سی بورڈ میں ایسوسی ایٹ رکن ڈائریکٹر بھی ہیں، کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ ایشین کرکٹ کاونسل (ACC) کے کامرشیل اور ایونٹس کے سربراہ پربھاکرن تھنراج نے کہا کہ حالانکہ ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی بورڈ کے ایفرو ایشیا کپ کے پرپوزل کے ساتھ آنے کا امکان ہے، لیکن امید زیادہ ہے۔

      بہت بڑا ایونٹ ہے

      انہوں نے کہا کہ ہمیں ابھی تک دونوں بورڈ سے رضا مندی نہیں ملی ے، لیکن ہم منصوبہ بندی کرنے میں مصروف ہوئے ہیں اور اسے دونوں بورڈ کے سامنے رکھا جائے گا۔ ہمارا منصوبہ ہندوستان اور پاکستان کے سب سے بہترین کھلاڑیوں کو ایشین الیون میں شامل کرنے کا ہے۔ منصوبوں کو حتمی شکل دیئے جانے کے بعد ہم اسپانسرشپ اور براڈ کاسٹر کے لئے مارکیٹ میں اتریں گے۔ یہ ایونٹ بہت بڑا ہے۔ حقیقت میں بہت بڑا۔

      تنازعہ حل کرنے کی پہل

      سب کچھ ٹھیک رہا ہے، تو اس ایونٹ کے ذریعہ ہندوستان اور پاکستان بورڈ کے درمیان کے تنازعہ کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ سمود دامودر نے کہا کہ ہم دونوں کے درمیان صلح کرانے کے مواقع سے خوش ہیں اور دونوں ممالک کے کھالڑیوں کو ساتھ میں کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل 2000 میں وسطی ایشیا الیون کی طرف سے پاکستان کے تیز گیند باز شعیب اختر، شاہد آفریدی اور ہندوستان کی طرف سے ویریندر سہواگ اور راہل دراوڑ کھیلتے ہوئے نظر آئے تھے۔

      سیاست سے دور رکھا جائے

      سمود دامودر نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ کھلاڑی چاہتے ہیں کہ ایسا ہو اور سیاست کو اس سے دور رکھا جائے۔ پاکستان اور ہندوستان کے کھلاڑیوں کو ایک ہی ٹیم میں کھیلتے ہوئے دیکھنا بہت اچھی بات ہوگی۔ اسے ایک سالانہ پروگرام بنانے اور اس میں ایسوسی ایٹ ممالک کے کھلاڑیوں کو بھی شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ سمود دامودر نے کہا کہ ایفرو-ایشیا کپ ایک پریمیم پروڈکٹ ہے اور اس سے زیادہ ریوینیو جنریٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے مختلف بورڈ کو بھی فائدہ ہوگا۔ خاص طور پر افریقی بورڈ کو، جنہیں ابھی حمایت کی ضرورت ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: