உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'حلال گوشت' تنازع پر بی سی سی آئی نے توڑی خاموشی ، دیا یہ بڑا بیان، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    حلال گوشت تنازع پر بی سی سی آئی نے توڑی خاموشی ، دیا یہ بڑا بیان، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    حلال گوشت تنازع پر بی سی سی آئی نے توڑی خاموشی ، دیا یہ بڑا بیان، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    بی سی سی آئی کا بیان سامنے آیا ہے۔ بی سی سی آئی نے ٹیم انڈیا کے ڈائٹ پلان کی خبروں کی تردید کی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : بی سی سی آئی کی جانب سے ہندوستانی کھلاڑیوں کو صرف 'حلال گوشت' کھانے کے مبینہ حکم پر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ کانپور ٹیسٹ کے دوران ہندوستانی کھلاڑیوں کو مبینہ طور پر ایسے احکامات دینے پر بورڈ کی تنقید کی جا رہی ہے۔ مرکز اور اتر پردیش میں حکمراں پارٹی بی جے پی کے ترجمان گورو گوئل نے اس حکم کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اب اس معاملے میں بی سی سی آئی کا بیان سامنے آیا ہے۔ بی سی سی آئی نے ٹیم انڈیا کے ڈائٹ پلان کی خبروں کی تردید کی ہے۔ بی سی سی آئی کے خزانچی ارون دھومل نے کہا کہ بورڈ نے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پسند کے مطابق کھانا کھانے کے لئے آزاد ہیں۔ دھومل نے کہا کہ اس نام نہاد ڈائٹ پلان پر کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کھلاڑیوں پر کچھ بھی تھوپا جائے گا۔

      ارون دھومل کے مطابق بی سی سی آئی نے کسی کھلاڑی یا ٹیم کے عملے کو اس بارے میں کوئی ہدایت نہیں دی ہے کہ کیا کھایا جائے اور کیا نہ کھایا جائے۔ یہ سبھی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ ڈائٹ پلان پر کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کچھ بھی تھوپا جائے گا۔ بورڈ کھانے کے حوالے سے کسی کو کوئی مشورہ نہیں دیتا ہے ۔ وہ اپنا کھانا خود منتخب کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

      اس سے قبل نیوز ایجنسی پی ٹی آئی نے ٹیم انڈیا کے کیٹرنگ اور مینیو ڈاکیومنٹ کی بنیاد پر خبر دی تھی کہ کھلاڑیوں کو کسی بھی طرح خنزیر کا گوشت یا بیف نہ دینے کا حکم دیا گیا تھا ۔ ساتھ ہی گوشت بھی صرف حلال کیا ہوا ہی دئے جانے کی بات کہی گئی تھی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹیم انڈیا کا یہ مینیو سپورٹ اسٹاف اور میڈیکل اسٹاف نے ڈائٹ سپلیمنٹ کو دھیان میں رکھتے ہوئے تیار کیا ہے ۔

      کیا ہوتا ہے ’جھٹکا’ اور ’حلال‘ گوشت

      ہندو اور سکھ طبقہ عموماً ’جھٹکا‘ والا گوشت جبکہ مسلمان ’حلال‘ گوشت کھانا پسند کرتے ہیں۔ حلال میں جانور کے گلے کی نس کو ذبح کرکے اس کا پورا خون نکلنے تک چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ جھٹکا میں جانور کے گردن پر تیز دھار دار ہتھیار سے حملہ کرکے اسے فوراً مار دیا جاتا ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: