உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    IPL 2022:ٹورنامنٹ سے پہلے 3 دن کا سخت کورنٹائن ضروری، BCCI نے ٹیموں کو بتایا بائیو-ببل پروٹوکال

    اس مرتبہ IPL میں ہوں گے سخت رولس۔ کھلاڑیوں کو کرنا ہوگا یہ کام۔

    اس مرتبہ IPL میں ہوں گے سخت رولس۔ کھلاڑیوں کو کرنا ہوگا یہ کام۔

    ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (BCCI) کورونا انفیکشن کے خطرے سے محفوظ رکھنے اور اسے ملک میں مکمل طور پر منظم کرنے کے لیے کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتا اور اسی لیے سختی کی ہے۔ بائیو ببل کا اصول بورڈ نے تمام فرنچائزز کو بائیو ببل پروٹوکول (IPL 2022 Bio-bubbla Protocol)کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:انڈین پریمیئر لیگ 2022 (IPL 2022) بھارت میں ہی منعقد ہورہا ہے۔ 2020 کا سیزن مکمل طور پر متحدہ عرب امارات اور پھر 2021 کا سیزن آدھے ہندوستان اور آدھے متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے کے بعد ٹورنامنٹ دوبارہ ملک میں واپس آرہا ہے۔ ایسے میں ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (BCCI) کورونا انفیکشن کے خطرے سے محفوظ رکھنے اور اسے ملک میں مکمل طور پر منظم کرنے کے لیے کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتا اور اسی لیے سختی کی ہے۔ بائیو ببل کا اصول بورڈ نے تمام فرنچائزز کو بائیو ببل پروٹوکول (IPL 2022 Bio-bubbla Protocol)کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے، جس کے مطابق ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والی ہر ٹیم (کھلاڑی، سپورٹ اسٹاف، آفیشلز) کو تین دن کے سخت کورنٹائن سے گزرنا ہوگا اور نیگیٹیو ٹسٹ آنے پر ہی ٹورنامنٹ کے بائیو ببل میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      اس بار یہ ٹورنامنٹ ممبئی اور پونے میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہر ٹیم کو ممبئی پہنچنے پر سخت کورنٹائن سے گزرنا پڑے گا۔ کرکٹ ویب سائٹ ESPN-Cricinfo کی رپورٹ کے مطابق ہر کسی کو تین دن تک سخت کورنٹائن میں رہنا پڑے گا۔ اس دوران روزانہ ٹیسٹ کرنے ہوں گے جو کہ 24 گھنٹے کے فاصلے پر ہوں گے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      چوتھے دن دوبارہ ٹیسٹ کیا جائے گا اور صرف اس صورت میں جب اس کی رپورٹ منفی آئے گی تو اسے بائیو سیکیور ببل میں داخل ہونے دیا جائے گا۔ لیکن اتنا ہی نہیں، ببل میں داخل ہونے کے بعد بھی، ہر کسی کو اگلے تین دن یعنی مجموعی طور پر 6 دن تک اپنا کورونا ٹیسٹ کرانا پڑے گا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Women's World Cup 2022 :میچ سے پہلے ٹوائلیٹ میں پھنس گئی یہ مشہور کرکٹر، سنائی آب بیتی
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: