உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    IPL 2022: ایم ایس دھونی کے کپتان بنتے ہی چنئی سپرکنگس کو ملی جیت، ریتو راج اور کانوے نے حیدرآباد کو پیٹا

    IPL 2022: ایم ایس دھونی کے کپتان بنتے ہی چنئی سپرکنگس کو ملی جیت

    IPL 2022: ایم ایس دھونی کے کپتان بنتے ہی چنئی سپرکنگس کو ملی جیت

    آئی پی ایل 2022 (IPL 2022) کے 46ویں مقابلے میں چنئی سپرکنگس نے سن رائزرس حیدرآباد کو 13 رنوں سے شکست دی۔ دھونی سیزن میں پہلی بار کپتانی کر رہے تھے۔ سیزن کے پہلے 8 میچ میں رویندر جڈیجہ کے پاس کمان سنبھالی تھی۔ تاہم ٹیم کی خراب کارکردگی کے سبب انہوں نے کپتانی چھوڑ دی۔

    • Share this:
      پنے: ایم ایس دھونی (MS Dhoni) چنئی سپرکنگس کے سب سے بڑے کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کیا ہے۔ آئی پی ایل 2022 (IPL 2022) کے 46ویں مقابلے میں چنئی سپرکنگس نے سن رائزرس حیدرآباد کو 13 رنوں سے شکست دی۔ دھونی سیزن میں پہلی بار کپتانی کر رہے تھے۔ سیزن کے پہلے 8 میچ میں رویندر جڈیجہ کے پاس کمان سنبھالی تھی۔ تاہم ٹیم کی خراب کارکردگی کے سبب انہوں نے کپتانی چھوڑ دی۔ میچ میں (SRH vs CSK) چنئی سپرکنگس نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 2 وکٹ پر 202 رنوں کا ہمالیائی اسکور کھڑا کردیا۔ ریتو راج گائیکواڑ اور ڈیوان کانوے نے طوفانی اننگ کھیلی۔ جواب میں حیدرآباد کی ٹیم 6 وکٹ پر 189 رن ہی بناسکی۔ یہ ٹیم کی 9 میچوں میں تیسری جیت ہے۔ اس کے ساتھ ٹم کے پلے آف کی امید بچی ہوئی ہے۔ وہیں حیدرآباد کی یہ 9 میچوں میں چوتھی شکست ہے۔

      ہدف کا تعاقب کرنے اتری حیدرآباد کو کپتان کین ولیمسن اور ابھیشیک شرما نے اچھی شروعات دلائی۔ دونوں نے پہلے وکٹ کے لئے 5.5 اوور میں 58 رن جوڑے۔ بائیں ہاتھ کے نوجوان بلے باز ابھیشیک 24 گیند پر 39 رن بناکر تیز گیند باز مکیش چودھری کی گیند پر آوٹ ہوئے۔ انہوں نے 5 چوکا اور ایک چھکا لگایا۔ مکیش نے اگلی گیند پر راہل ترپاٹھی کو گولڈن ڈک پر پویلین بھیجا۔

      سینٹر نے دلائی تیسری کامیابی

      بائیں ہاتھ کے اسپنر مچیل سینٹنر مہنگے ثابت ہوئے، لیکن انہوں نے ٹیم کو تیسری بڑی کامیابی دلائی۔ انہوں نے ایڈن مارکرم کو آوٹ کیا۔ انہوں نے 10 گیندوں پر 17 رن بنائے۔ 2 چھکے لگائے۔ تیسرا وکٹ 10ویں اوور میں 88 رن کے اسکور پر گرا۔ اس کے بعد بھی ٹیم کو لمبا سفر طے کرنا تھا۔ اب ولیمسن کا ساتھ دینے نکولس پورن اترے۔ اس درمیان کین ولیمسن 37 گیندوں پر 47 رن بناکر پریٹوریس کا شکار ہوئے۔ ٹیم کو آخری 5 اوور میں 72 رن بنانے تھے اور 6 وکٹ ہاتھ میں تھے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: