உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    IPL 2022: ہاردک پانڈیا کی ٹیم نے چنئی سپرکنگس کو روندا، 10واں میچ جیت کر کوالیفائر-1 میں جگہ یقینی

    IPL 2022: ہاردک پانڈیا کی ٹیم نے چنئی سپرکنگس کو روندا

    IPL 2022: ہاردک پانڈیا کی ٹیم نے چنئی سپرکنگس کو روندا

    اردک پانڈیا (Hardik Pandya) نے بطور کپتان آئی پی ایل کے پہلے ہی سیزن میں کمال دکھایا ہے۔ ان کی قیادت میں گجرات ٹائٹنس نے اتوار کو ایک مقابلے میں چنئی سپرکنگس کو 7 وکٹ سے روند دیا۔ یہ ٹیم کی 13 میچوں میں 10ویں جیت ہے۔ اس طرح سے اس کا اب ٹاپ-2 میں رہنا طے ہوگیا۔

    • Share this:
      ممبئی: ہاردک پانڈیا (Hardik Pandya) نے بطور کپتان آئی پی ایل کے پہلے ہی سیزن میں کمال دکھایا ہے۔ ان کی قیادت میں گجرات ٹائٹنس نے اتوار کو ایک مقابلے میں چنئی سپرکنگس کو 7 وکٹ سے روند دیا۔ یہ ٹیم کی 13 میچوں میں 10ویں جیت ہے۔ اس طرح سے اس کا اب ٹاپ-2 میں رہنا طے ہوگیا۔ یعنی وہ اب کوالیفائر-1 میں اترے گی۔ ٹیم ابھی بھی ٹیبل میں نمبر-1 پر قابض ہے۔

      میچ میں پہلے کھیلتے ہوئے دفاعی چمپئن چنئی سپرکنگس کی ٹیم کچھ خاص کارکردگی نہیں پیش کرسکی۔ اس نے 5 وکٹ پر 133 رن بنائے۔ ریتو راج گائیکواڑ نے نصف سنچری لگائی۔ جواب میں گجرات ٹائٹنس نے ہدف کو 19.1 اوور میں 3 وکٹ پر حاصل کرلیا۔ ردھمان ساہا نے ناٹ آوٹ نصف سنچری اننگ کھیلی۔ یہ چنئی سپرکنگس کی 13 میچوں میں 9ویں شکست ہے۔

      ہدف کا تعاقب کرنے اتری گجرات ٹائٹنس کو شبھمن گل اور ردھمان ساہا نے اچھی شروعات دلائی۔ دونوں نے پہلے وکٹ کے لئے 7.1 اوور میں 59 رن جوڑے۔ پہلا میچ کھیل رہے سری لنکا کے تیز گیند باز متھیشا پتھیرانا نے شبھمن گل کو آوٹ کیا۔ انہوں نے 17 گیندوں پر 18 رن بنائے۔ 3 چوکے لگائے۔ اس کے بعد اترے میتھیو ویڈ بڑی اننگ نہیں کھیل سکے۔ وہ 15 گیندوں پر 20 رن بناکر آف اسپنر معین علی کا شکار ہوئے۔ 2 چوکا لگایا۔

      آخری 5 اوور میں ایک بھی باونڈری نہیں

      ریتو راج گائیکواڑ نے 49 گیندوں کی اننگ کے دوران 4 چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ انہوں نے معین علی (21) کے ساتھ دوسرے وکٹ کے لئے 39 گیندوں میں 57 رنوں کی نصف سنچری شراکت کے بعد پھر تیسرے وکٹ کے لئے این جگدیشن کے ساتھ 48 رن جوڑے۔ چنی سپرکنگس نے 10 اوور میں 2 وکٹ پر 73 رن بنا لئے تھے، لیکن آخری 10 اوور میں ٹیم 3 وکٹ گنواکر 60 رن ہی بناسکی۔ ٹیم نے آخری 5 اوور میں 24 رن بناکر 3 وکٹ گنوائے۔ اس دوران اس کے بلے باز ایک بھی باونڈری نہیں لگا سکے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: