உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    IPL 2022: آئی پی ایل میں ہندوستانی کھلاڑیوں کا دبدبہ، اب غیرملکی کھلاڑی کے سہارے نہیں ہے کوئی ٹیم

    IPL 2022: آئی پی ایل میں ہندوستانی کھلاڑیوں کا دبدبہ

    IPL 2022: آئی پی ایل میں ہندوستانی کھلاڑیوں کا دبدبہ

    IPL 2022: آئی پی ایل کا 15 واں سیزن (IPL 15) شروع ہوگیا ہے۔ پہلا مقابلہ چنئی سپرکنگس اور کولکاتا نائٹ رائیڈرس کے درمیان ہے۔ ریکارڈ یہی کہتے ہیں کہ آئی پی ایل چمپئن بننے کے لئے غیرملکی اسٹار سے زیادہ ہندوستانی کھلاڑیوں (Indian Cricketer) کا تعاون رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سیزن کے مقابلے اس بار آئی پی ایل ٹیموں نے ہندوستانی کھلاڑیوں پر بڑی بولیاں لگائی ہیں۔

    • Share this:
      انڈین پریمیئر لیگ (Indian Premier League) یعنی آئی پی ایل۔ اس ٹی20 لیگ کے نام میں بھلے ہی انڈین جڑا ہے، لیکن یہ اصل میں ایسا گلوبل ٹورنامنٹ ہے، جس میں دنیا کے بڑے سے بڑے کرکٹر کھیلنے کو بے قرار رہتے ہیں۔ کرس گیل، اے بی ڈیویلیئرس، شکیب الحسن جیسے کئی کرکٹر آئی پی ایل (IPL) میں کھیلنے کے لئے قومی ٹیم تک کو بھی نظر انداز کرتے رہے۔ آئی پی ایل فرنچائزی بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کو زیادہ اہمیت دیتی آئی ہیں۔ حالانکہ ریکارڈ یہی کہتے ہیں کہ آئی پی ایل چمپئن بننے کے لئے غیرملکی اسٹار سے زیادہ ہندوستانی کھلاڑیوں (Indian Cricketer) کا تعاون رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سیزن کے مقابلے اس بار آئی پی ایل ٹیموں نے ہندوستانی کھلاڑیوں پر بڑی بولیاں لگائی ہیں۔

      اس سال آئی پی ایل کا 15 واں سیزن (IPL 15) کھیلا جا رہا ہے۔ اب تک ہوئے 14 سیزن میں ممبئی انڈینس (Mumbai Indians) نے سب سے زیادہ 5 خطاب جیتے ہیں۔ چنئی سپرکنگس (Chennai Super Kings) نے 4 ٹرافی اپنے نام کئے ہیں۔ کولکاتا نائٹ رائیڈرس (Kolkata Knight Riders) نے دو ٹرافی جیتی ہیں۔ سن رائزرس حیدرآباد، ڈکن چارجرس اور راجستھان رائلس کے نام ایک ایک خطاب درج ہیں۔ ان سبھی ٹیموں کی جیت میں ایک بات ملتی ہے۔ وہ یہ کہ ویسے تو ان ٹیموں میں بڑے بڑے غیرملکی کھلاڑی ہیں، لیکن ٹیم کا کور ہندوستانی کھلاڑی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      IPL 2022: وراٹ کوہلی نے کیوں چھوڑی RCB کی کپتانی؟ بتائی بڑی وجہ

      سال 2008 میں جب راجستھان رائلس نے آئی پی ایل کا پہلا خطاب جیتا تو جیت کا سہرا کپتان شین وارن کے سر سجا۔ فاتح ٹیم کے لئے پاکستان کے سہیل تنویر اور آسٹریلیا کے شین واٹسن نے بھی زبردست کارکردگی پیش کی۔ پہلے سیزن میں ان بڑے بڑے غیر ملکی ناموں کے درمیان یوسف پٹھان اور رویندر جڈیجہ جیسے ہندوستانی کھلاڑی سرخیوں میں آئے۔ دوسرے سیزن میں بھی یہی حال رہا اور جب 2009 میں دکن چارجرس نے خطاب جیتا تو لوگوں کے ذہن میں سب سے پہلے کپتان ایڈم گلکرسٹ، ہرشل گبس، اینڈریو سائمنڈس کے نام سامنے آئے۔ اس بار روہت شرما، پرگیان اوجھا، آرپی سنگھ کی کارکردگی اتنی توجہ نہیں ملی، جتنے کے وہ حقدار تھے۔

      چنئی کی جیت نے توازن بدل دیا

      آئی پی ایل میں غیر ملکی اسٹار کے بھروسے خطاب جیتنے کی روایت کو چنئی سپرکنگس نے بدلا۔ مہندر سنگھ دھونی کی کپتانی میں جب چنئی سپرکنگس نے 2010 میں اپنا پہلا خطاب جیتا تو اس کے جتنے ہیرو غیرملکی تھے، اتنے ہی ہندوستانی بھی تھے۔ ہندوستانی کھلاڑیوں میں مہندر سنگھ دھونی، سریش رینا، مرلی وجے، روی چندرن اشون اور شاداب زکاتی نے زبردست کارکردگی پیش کی اور پہلی بار آئی پی ایل جیتنے والی کسی ٹیم میں جب اسٹار پرفارمر کی بات آئی تو ملکی اور غیرملکی برابر تھے۔ چنئی کے غیر ملکی پرفارمر میں میتھو ہیڈن، ایل بی مورکل، ڈگ بولنجر اور متھیا مرلی دھرن اہم تھے۔ چنئی سپرکنگس کی 2011 کی خطابی جیت کے ہیرو بھی تقریباً یہی کھلاڑی تھے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: