اپنا ضلع منتخب کریں۔

    IPL Media Rights: بی سی سی آئی کی بھریں گی تجوریاں،4 کمپنیوں میں ٹکر، 50 ہزار کروڑ روپیے ہوں گے خرچ!

    جب آئی پی ایل 2008 میں شروع ہوا تھا، بی سی سی آئی نے پہلی بار 8200 کروڑ روپے میں 10 سال کے لیے آئی پی ایل کے حقوق فروخت کیے تھے۔ پھر سونی پکچرز نیٹ ورکس کو یہ حقوق مل گئے۔ بی سی سی آئی کے صدر سورو گنگولی نے بھی کہا ہے کہ آئی پی ایل کے حقوق 40 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ میں جا سکتے ہیں۔

    جب آئی پی ایل 2008 میں شروع ہوا تھا، بی سی سی آئی نے پہلی بار 8200 کروڑ روپے میں 10 سال کے لیے آئی پی ایل کے حقوق فروخت کیے تھے۔ پھر سونی پکچرز نیٹ ورکس کو یہ حقوق مل گئے۔ بی سی سی آئی کے صدر سورو گنگولی نے بھی کہا ہے کہ آئی پی ایل کے حقوق 40 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ میں جا سکتے ہیں۔

    جب آئی پی ایل 2008 میں شروع ہوا تھا، بی سی سی آئی نے پہلی بار 8200 کروڑ روپے میں 10 سال کے لیے آئی پی ایل کے حقوق فروخت کیے تھے۔ پھر سونی پکچرز نیٹ ورکس کو یہ حقوق مل گئے۔ بی سی سی آئی کے صدر سورو گنگولی نے بھی کہا ہے کہ آئی پی ایل کے حقوق 40 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ میں جا سکتے ہیں۔

    • Share this:
      ممبئی:آئی پی ایل 2022 کی نیلامی(IPL 2022 Auction) کے بعد اب آئی پی ایل کے میڈیا رائٹس کی باری ہے۔ اس کے لیے دنیا کی کئی بڑی براڈکاسٹنگ کمپنیوں کے درمیان مقابلہ ہے۔ ڈزنی انڈیا، سونی پکچرز نیٹ ورکس انڈیا، ویاکوم 18 اور ایمیزون انڈیا جیسی اسٹار اور بڑی کمپنیاں آئی پی ایل میڈیا رائٹس(IPL Media Rights) حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ بی سی سی آئی میڈیا کے حقوق کی نیلامی کے لیے ٹینڈر دستاویز تیار کر رہا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس بار آئی پی ایل میچز کے نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے لیے پچھلی بار کے مقابلے تین گنا زیادہ رقم خرچ کی جا سکتی ہے۔ اس وقت اسٹار انڈیا کے پاس آئی پی ایل کے میڈیا حقوق ہیں۔ انہوں نے 2018 سے 2022 تک پانچ سال کے لیے 16,347.50 کروڑ روپے میں رائٹس حاصل کیے تھے۔ اسٹار کا معاہدہ اپریل-مئی 2022 میں ختم ہو رہا ہے۔

      اخبار اکنامک ٹائمز کی خبر کے مطابق 2023 سے 2027 کے درمیان آئی پی ایل کی نشریات کے لیے 50 ہزار کروڑ روپے تک خرچ کیے جا سکتے ہیں۔ اگلے پانچ سالوں کے لیے نیلامی دو سے تین ماہ میں کی جا سکتی ہے۔ ایک مشاورتی فرم کے حوالے سے رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اس بار آئی پی ایل کے حقوق کی قیمت کسی بھی اندازے سے زیادہ ہوگی۔ اگر منافع اور نقصان کے دستاویز کو دیکھیں تو اس کی قیمت 30-32 ہزار کروڑ سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن یہ (IPL) ایک ایسا اسٹریٹجک اقدام ہوگا جس سے پورے کاروبار پر اثر پڑتا ہے۔

      ’صرف پیسہ کمانا ہی وجہ نہیں‘
      ایک مشاورتی افسر کا حوالہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں لکھا گیا ہے، ’جب اسٹار انڈیا نے 2017 میں میڈیا کے رائٹس کے لیے 16,000 کروڑ روپے دیے تھے، تب بھی یہ کہا گیا تھا کہ زیادہ رقم خرچ کی گئی ہے۔ یہ قابل بحث ہے کہ اسٹار انڈیا نے پیسہ کمایا یا نہیں لیکن آئی پی ایل کے ذریعے انہوں نے ہاٹ اسٹار کو اٹھایا۔ کسی بھی نئے بولی لگانے والے کے لیے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے سبسکرائبرز کو کتنا بڑھاتا ہے۔

      2008 میں 8200 کروڑ میں فروخت ہوئے رائٹس
      جب آئی پی ایل 2008 میں شروع ہوا تھا، بی سی سی آئی نے پہلی بار 8200 کروڑ روپے میں 10 سال کے لیے آئی پی ایل کے حقوق فروخت کیے تھے۔ پھر سونی پکچرز نیٹ ورکس کو یہ حقوق مل گئے۔ بی سی سی آئی کے صدر سورو گنگولی نے بھی کہا ہے کہ آئی پی ایل کے حقوق 40 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ میں جا سکتے ہیں۔

      آئی پی ایل میڈیا رائٹس کے لیے بی سی سی آئی کی جانب سے ٹینڈر کا دعوت نامہ اگلے 10 دنوں میں جاری کیا جائے گا۔ اس بار بولی لگانے کے لیے ای نیلامی کی جائے گی۔ اس سے پہلے بی سی سی آئی 10 فروری کو ٹینڈر کا دعوت نامہ جاری کرنے والا تھا۔ لیکن قانونی مشورے اور دیگر کاموں کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: