உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    IPL 2022: چار کھلاڑی برقرار رکھ سکتی ہیں ٹیمیں، CSK دھونی، جڈیجا، گائیکواڈ کو رکھے گا برقرار

    مہندر سنگھ دھونی ، رویندرا جڈیجا ، ریتوراج گائیکواڈ اور فاف ڈو پلیسی یا ڈوین براوو میں سے ایک کو آئی ایس پی ایل 2022 (IPL 2022) کے لئے  سی ایس  کے  کی طرف سے برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

    مہندر سنگھ دھونی ، رویندرا جڈیجا ، ریتوراج گائیکواڈ اور فاف ڈو پلیسی یا ڈوین براوو میں سے ایک کو آئی ایس پی ایل 2022 (IPL 2022) کے لئے سی ایس کے کی طرف سے برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

    مہندر سنگھ دھونی ، رویندرا جڈیجا ، ریتوراج گائیکواڈ اور فاف ڈو پلیسی یا ڈوین براوو میں سے ایک کو آئی ایس پی ایل 2022 (IPL 2022) کے لئے سی ایس کے کی طرف سے برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: آئندہ انڈین پریمیئر لیگ کی نیلامی (آئی پی ایل 2022) کے لیے کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کی پالیسی (Retention Policy) پر ایکاتفاق بن چکا ہے۔ اس بات کا پورا امکان ہے کہ موجودہ آٹھ فرنچائزی کو زیادہ سے زیادہ چار کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کی اجازت ہوگی ۔ مہندر سنگھ دھونی ، رویندرا جڈیجا ، ریتوراج گائیکواڈ اور فاف ڈو پلیسی یا ڈوین براوو میں سے ایک کو آئی ایس پی ایل 2022 (IPL 2022) کے لئے  سی ایس  کے  کی طرف سے برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آئی پی ایل کی دو نئی ٹیموں کو نیلامی سے باہر 2 یا 3 کھلاڑیوں کے انتخاب کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ (اس میں غیر ملکی کھلاڑی بھی شامل ہیں لیکن جب اگر کوئی بڑا ہندوستانی کھلاڑی دستیاب نہیں ہے)۔
      میگا نیلامی کیلئے آئی پی ایل (IPL ) ٹیموں کو آر ٹی ایم کارڈ ملنے کا امکان نہیں ہے۔
      بتادیں کہ ابھی آئی پی ایل کی ایک فرنچائزی کے پاس زیادہ سے زیادہ 90 کروڑ روپے کا پرس ہوتا ہے۔ یعنی کوئی بھی فرنچائزی اپنی ٹیم بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ 90 کروڑ روپے کھلاڑیوں پر خرچ کر سکتی ہے۔ آئی پی ایل 2022 میں اس رقم کو 90 کروڑ سے بڑھا کر 95 کروڑ یا 100 کروڑ کیا جا سکتا ہے۔

      CSK دھونی، جڈیجا، گائیکواڈ کو رکھے گا برقرار


      کرک بز کی ایک رپورٹ کے مطابق ، متحدہ عرب امارات میں حال ہی میں اختتام پذیر آئی پی ایل کے کچھ آخری دنوں کے دوران ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی BCCI) اور ٹیم کے نمائندوں کے درمیان غیر رسمی بات چیت ہوئی۔ مانا جارہا ہے کہ تمام جماعتوں نے اس پر اتفاق کیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: