اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ٹیم انڈیا کو بڑا جھٹکا، جسپریت بمراہ ٹی20 عالمی کپ سے باہر، بی سی سی آئی نے لگائی مہر

    جسپریت بمراہ ٹی20 عالمی کپ سے باہر، بی سی سی آئی نے لگائی مہر

    جسپریت بمراہ ٹی20 عالمی کپ سے باہر، بی سی سی آئی نے لگائی مہر

    ہندوستانی تیز گیند باز جسپریت بمراہ آئی سی سی مرد ٹی20 عالمی کپ 2022 سے باہر ہوگئے ہیں۔ آج یعنی ات پیر کے روز بی سی سی آئی نے آخری مہر لگا دی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستانی تیز گیند باز جسپریت بمراہ آئی سی سی مرد ٹی20 عالمی کپ 2022 سے باہر ہوگئے ہیں۔ آج یعنی ات پیر کے روز بی سی سی آئی نے آخری مہر لگا دی۔ یہ فیصلہ بی سی سی آئی کی میڈیکل ٹیم نے تفصیلی جائزہ لینے اور ماہرین کے مشورے کے بعد فیصلہ لیا ہے۔ جسپریت بمراہ کو پیٹھ کی چوٹ کے سبب جنوبی افریقہ کے خلاف چل رہی تین میچوں کی  ٹی20 سیریز سے باہر کردیا گیا تھا۔

      بی سی سی آئی کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں لکھا گیا ہے، ’بورڈ کی میڈیکل ٹیم نے ٹیم انڈیا کے تیز گیند باز جسپریت بمراہ کو آئی سی سی مینس ٹی20 عالمی کپ ٹیم سے باہر کردیا ہے۔ یہ فیصلہ تفصیلی غوروخوض اور ماہرین کی رائے بعد لیا گیا ہے۔ جسپریت بمراہ کو شروع میں پیٹھ کی چوٹ کے سبب جنوبی افریقہ کے خلاف چل رہی ماسٹرکارڈ تین میچوں کی ٹی20 سیریز سے بھی باہر کر دیا گیا تھا۔ بی سی سی آئی جلد ہی جسپریت بمراہ کی جگہ کسی نئے دوسرے کھلاڑی کو ٹی20 عالمی کپ ٹورنا منٹ کے لئے ٹیم میں شامل کرے گا‘۔

      تیز گیند باز جسپریت بمراہ پیٹھ کی چوٹ کے سبب ٹی20 عالمی کپ سے باہر ہوگئے ہیں۔
      تیز گیند باز جسپریت بمراہ پیٹھ کی چوٹ کے سبب ٹی20 عالمی کپ سے باہر ہوگئے ہیں۔


      6 ماہ کے لئے ہوسکتے ہیں کرکٹ سے دور

      مانا جا رہا ہے کہ جسپریت بمراہ پیٹھ کی چوٹ کے سبب چھ ماہ تک کرکٹ سے دور رہ سکتے ہیں۔ جسپریت بمراہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی20 سیریز کے لئے ٹیم کے ساتھ تروننت پورم گئے تھے، لیکن ہاں ایک دن پریکٹس کرنے کے بعد وہ بنگلورو واپس لوٹ گئے تھے۔ بی سی سی آئی نے بتایا تھا کہ انہیں پیٹھ میں درد کی وجہ سے پہلے میچ میں نہیں کھلایا جائے گا۔ اس کے دو دن بعد پتہ چلا کہ بمراہ بیک اسٹریس فریکچر کی وجہ سے ٹی20 عالمی کپ سے باہر ہوگئے ہیں۔ حالانکہ بی سی سی آئی کا اس پر باضابطہ طور پر کوئی بیان نہیں آیا تھا۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: