ہوم » نیوز » اسپورٹس

معین علی پر تسلیمہ نسرین کے ٹویٹ سے مچا ہنگامہ، جوفرا آرچر نے دیا مصنفہ کو کرارا جواب

انگلینڈ کے تیز گیندباز جوفرا آرچر نے تسلیمہ نسرین کو کرارا جواب دیا ہے۔ آرچر نے ٹویٹ کیا، کیا آپ ٹھیک ہو؟ مجھے نہیں لگتا کہ آپ ٹھیک ہو۔ تنازعہ بڑتھتا دیک تسلیمہ نے بھی اہنی صفائی پیش کی۔

  • Share this:
معین علی پر تسلیمہ نسرین کے ٹویٹ سے مچا ہنگامہ، جوفرا آرچر نے دیا مصنفہ کو کرارا جواب
انگلینڈ کے تیز گیندباز جوفرا آرچر نے تسلیمہ نسرین کو کرارا جواب دیا ہے۔

نئی دہلی: بنگلہ دیشی مصنف تسلیمہ نسرین (Taslima Nasreen)  جو اکثر تنازعات کے ذریعے سرخیوں میں بنی رہتی ہیں  اب انہوں نے انگلینڈ کے کرکٹر معین علی  (Moeen Ali)  کے بارے میں قابل اعتراض ٹویٹ کیا۔ معین علی آئی پی ایل 2021 میں چنئی سپر کنگز کا حصہ ہیں اور وہ تیاریوں میں مصروف ہیں۔ دریں اثنا ، پیر (5 اپریل) کو تسلیمہ نسرین نے ٹویٹ کیا ، "اگر معین علی کرکٹ نہیں کھیل رہے ہوتے تو وہ شاید آئی ایس آئی ایس جوائن کرنے سیریا جا چکے ہوتے ۔" اس ٹویٹ کے فورا بعد ہی تسلیمہ کو انگلینڈ کے کرکٹرز نے جم کر لتاڑا ہے۔

انگلینڈ کے تیز گیندباز جوفرا آرچر نے تسلیمہ نسرین کو کرارا جواب دیا ہے۔ آرچر نے ٹویٹ کیا، کیا آپ ٹھیک ہو؟ مجھے نہیں لگتا کہ آپ ٹھیک ہو۔ تنازعہ بڑتھتا دیک تسلیمہ نے بھی اہنی صفائی پیش کی۔ تسلیمہ نے کہا نفرت کرنے والوں کو پتہ ہونا چاہئے کہ معین علی پر کیا گیا ٹویٹ مزاق میں کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس پر مجھے پریشان کرنے کا ایک مسئلہ بنا لیا میں اسلامک شدت پسندی کی مخالفت کرتی ہوں۔ انسانیت کی سب سے بڑی پریشانی ہے کہ خواتین کی حامی لیفٹسٹ خواتین مخالف اسلامک شدت پسندی کی حمایت کرتے ہیں۔

آرچر نے تسلیمہ کی صفائی والے ٹویٹ پر بھی اپنا رد عمل دیا۔ انہوں نے لکھا، sarcastic، کوئی بھی نہیں ہنس رہا، آپ بھی نہیں، آپ کم سے کم یہ کر سکتی ہیں کہ اس ٹویٹ کو ہٹادیں۔




بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے انگلینڈ کے کرکٹر معین علی سے متعلق ایک متنازعہ ٹوئٹ کیا ہے۔ ٹوئٹ کے بعد ٹرولنگ ہونے پر تسلیمہ نسرین نے صفائی میں یہ بھی کہا ہے کہ یہ طنز کے طور پر کیا گیا تھا۔ دراصل، پیر کو تسلیمہ نسرین نے ٹوئٹ کیا تھا- اگر معین علی کرکٹ نہیں کھیل رہے ہوتے تو وہ شاید آئی ایس آئی ایس جوائن کرنے شام جا چکے ہوتے۔ اس ٹوئٹ کے فوراً بعد تسلیمہ نسرین کا سخت ردعمل دیکھنے کو ملا۔
Anuradha Exwaized نام کی ایک ٹوئٹر صارف نے تسلیمہ نسرین سے پوچھا کہ ’کیا ایک مذہب پر عمل کرنے والا مسلم دہشت گرد ہے؟ کسی کو اپنے مذہب کی آزادی کے لئے دہشت گرد نہیں کہا جاسکتا‘۔ پلکت سنگھ نے نام کے ایک صارف نے تسلیمہ نسرین کے ٹوئٹ پر جواب دیتے ہوئے پوچھا- ’کیا وہ داڑھی رکھتے ہیں اور پاکستانی ہیں، اس لئے آپ ایسے سوال کھڑے کر رہی ہیں’؟
ناراضگی میں دی صفائی
ایسے سینکڑوں ٹوئٹس کے بعد اب تسلیمہ نسرین نے صفائی دیتے ہوئے کہا- نفرت پھیلانے والے جانتے ہیں کہ معین علی پر کیا گیا ٹوئٹ ایک طنز تھا، لیکن اسے مدعا اس لئے بنایا گیا کیونکہ میں مسلم معاشرے میں سیکولرازم پھیلانا چاہتی ہوں۔ میں اسلامک شدت پسندی کی مخالفت کرتی ہوں۔ انسانیت کی سب سے بڑی پریشانی ہے کہ خواتین کی حامی لیفٹسٹ خواتین مخالف اسلامک شدت پسندی کی حمایت کرتے ہیں۔

غصے میں تسلیمہ نسرین نے لکھا، ’اگر آپ اسلام کے علاوہ کسی دیگر مذہب کا جائزہ لیتے ہیں تو آپ کو پروگریسیو، فری تھنکر، لبرل سیکولر، دانشور ریوولیوشنری مانا جاتا ہے، لیکن اگر آپ اسلام کا جائزہ لیں تو آپ کو نفرت کرنے والا اور پیڈ ایجنٹ ایجنٹ بتایا جاتا ہے‘۔
کویتا کرشنن نے کھڑے کئے تھے سوال
دراصل تسلیمہ نسرین کے ٹوئٹ پر سی پی آئی ایم ایل کی لیڈر کویتا کرشنن نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ تسلیمہ نسرین کو مصنفہ کے طور پر نہیں بلکہ شدت پسند شخص کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Apr 07, 2021 12:44 PM IST