ہوم » نیوز » اسپورٹس

جوفرا آرچرنے انگلینڈ کو جیت دلانے کےلئے لگا دی 'جان'، جنوبی افریقہ پرایسے برپا کیا قہر

جوفرا آرچرنے جنوبی افریقہ کے خلاف 27 رن دے کرتین وکٹ لئے، وہ میچ کے سب سے کامیاب گیند بازرہے۔

  • Share this:
جوفرا آرچرنے انگلینڈ کو جیت دلانے کےلئے لگا دی 'جان'، جنوبی افریقہ پرایسے برپا کیا قہر
جوفرا آرچرنے جنوبی افریقہ کے خلاف 27 رن دے کرتین وکٹ لئے، وہ میچ کے سب سے کامیاب گیند باز رہے۔

آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے پہلے میچ میں میزبان ٹیم کے ایک کھلاڑی پرپوری دنیا کی نظریں تھیں اوراس کا نام تھا جوفرا آرچر۔ دائیں ہاتھ کے اس تیز گیند بازکوای سی بی نے ضوابط میں تبدیلی کرکے ٹیم میں منتخب کیا تھا، جس کے بعد اس کی کافی مخالفت بھی ہو رہی تھی، لیکن جوفرا آرچرنےاپنی کارکردگی سے ثابت کردیا کہ آخرکیوں انہیں عالمی کپ اسکواڈ میں جگہ ملی۔


جنوبی افریقہ کے خلاف جوفرا آرچرنے7 اوورمیں27 رن دے کرتین وکٹ لئے، وہ میچ کے سب سے کامیاب گیند بازرہے۔ جوفرا آرچرنے اپنی لائن لینتھ اوررفتارسے جنوبی افریقی ٹیم کوبری طرح پریشان کیا۔ آرچرنے پہلے اوورسے ہی ہاشم آملہ اورکونٹن ڈی کاک کو پریشان کیا۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ کے چوتھے اوورمیں آرچرنے زبردست باونسرپھینکی، جو ہاشم آملہ کے ہیلمیٹ پرجالگی۔ ہاشم آملہ کو چوٹ بھی لگی اوروہ ریٹائرہرٹ ہوگئے۔


آرچرنےاس کے بعد جنوبی افریقہ کوپہلا جھٹکا دیا۔ ان کی گیند پرمارکرم سلپ میں کیچ دے بیٹھے۔ یہ ورلڈ کپ میں آرچرکا پہلا شکارتھا۔ اس کے بعد آرچرنے جنوبی افریقہ کےکپتان فاف ڈوپلیسی کوبھی باونسرپرآوٹ کرکےانگلینڈ کودوسری کامیابی دلائی۔ آرچرکا تیسرا شکار راسی وین ڈردوسوں بنے، جنہوں نے 50 رنوں کی اننگ کھیلی۔


آپ کوبتا دیں کہ جوفرا آرچراس میچ میں بے حد تیزگیند بازی کرتے نظرآئیں۔ ان کی اوسط رفتار144.38 کلو میٹرفی گھنٹہ رہی۔ ان کی 94 فیصد سے زیادہ گیندیں 140 کلو میٹرفی گھنٹےسےتیزتھی۔ وہیں جنوبی افریقی تیزگیند بازکگیسورباڈا کی اوسط رفتار136.26 تھی۔

جوفرا آرچر۔
جوفرا آرچر۔


جوفرا آرچر کےلئے انگلینڈ نے کیا یہ کام

واضح رہے کہ جوفرا آرچرکی پیدائش بارباڈوس میں ہوئی تھی، لیکن انہیں ٹیم میں شامل کرنے کےلئےانگلینڈ کرکٹ بورڈ نےاپنے ضوابط میں تبدیلی کئے۔ ای سی بی نے آرچرکو ورلڈ کپ کی ٹیم میں شامل کرنے کے لئے غیرملکی کھلاڑیوں کے لئے اپنا 7 سال ریزیڈنسی کا رول تبدیل کیا۔ اگر سات سال کا ضابطہ رہتا تواس کے لحاظ سے آرچر2022 سے پہلے ٹیم میں نہیں آسکتے تھے۔ تب تک اس کرکٹرکی عمربھی 27 سال ہوجاتی۔ ساتھ ہی اس ضابطے کے حساب سے آرچرکوایک سال میں 210 دن یوکےمیں ہی رہنا ضروری تھا، جس سے وہ دنیا کے دوسرے ممالک میں ٹی -20 لیگس بھی نہیں کھیل پاتے، لیکن آرچرکے ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئےانگلینڈ کرکٹ بورڈ نےاس ضوابط کوہی تبدیل کردیا۔
First published: May 31, 2019 10:05 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading