ہوم » نیوز » اسپورٹس

بھوپال ہاکی کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش، نئی نسل میں ہاکی کا شوق پیدا کرنے کے لئے اٹھایا گیا قدم

نوابین بھوپال نہ صرف ہاکی کھیل کے دلدادہ تھے بلکہ انہوں نے ہر قدم پر ہاکی کھیل کی سرپرستی کی ۔ بھوپال میں ہاکی کے فروغ کے لئے بڑے بڑے میدان اور اسٹیڈیم بنائے گئے۔ نواب بھوپال حمیدیہ اللہ خان نے عیش باغ جیسا پرشکوہ اسٹیڈیم بھی بنایا جہاں پر ہاکی کے بڑے بڑے میچبوں کا انعقاد کرایاگیا۔

  • Share this:
بھوپال ہاکی کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش، نئی نسل میں ہاکی کا شوق پیدا کرنے کے لئے اٹھایا گیا قدم
بھوپال ہاکی کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش

بھوپال کو ہاکی کی نرسری کہاجاتا ہے۔ ہاکی کی اس نرسری نے ہاکی میں ایسے ایسے گواہر نایاب دیئے ہیں جن کے ذکر کے بغیر ہندستانی ہاکی کی تاریخ نہیں لکھی جاسکتی ہے مگر ہاکی کی اسی نرسری میں اب ہاکی کا کھیل خستہ حالی کا شکار ہے۔ ماسٹر ہاکی ایسو سی ایشن کی ٹیم نے ہاکی کی روشن تاریخ کی بازیافت کے لئے ایک بار پھر کوشش شروع کی ہے۔


نوابین بھوپال نہ صرف ہاکی کھیل کے دلدادہ تھے بلکہ انہوں نے ہر قدم پر ہاکی کھیل کی سرپرستی کی ۔ بھوپال میں ہاکی کے فروغ کے لئے بڑے بڑے میدان اور اسٹیڈیم بنائے گئے۔ نواب بھوپال حمیدیہ اللہ خان نے عیش باغ جیسا پرشکوہ اسٹیڈیم بھی بنایا جہاں پر ہاکی کے بڑے بڑے میچبوں کا انعقاد کرایاگیا۔ آزادی کے بعد بھی بھوپال ہاکی کی سرپرستی حکومتوں کے ذریعہ کی جاتی رہی ۔یہی وجہ ہے کہ پہلے ہاکی اولمپک سے لیکر دو ہزار تین تک کے ہاکی اولمپک میں کوئی ایسی ٹیم نہیں بنی جس میں بھوپال کے کھلاڑی موجود نہ رہے ہو مگر دوہزار تین کے بعد بھوپال ہاکی ملکی اور مقامی سیاست کا ایسا شکار ہوئی کہ دوہزار تین کے بعد بھوپال ہاکی نرسری سے کسی بھی کھلاڑی کا اولمپک ٹیم میں سلیکشن نہیں ہوسکا ۔ماسٹر ہاکی ایسو سی ایشن نے بھوپال ہاکی کو زندہ کرنے کے لئے پھر سے قدم اٹھایاہے۔ ایسو سی ایشن کے ذریعہ نئی ٹیم کا انتخاب کیاگیا اور نئی ٹیم نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی بھوپال ہاکی نرسری میں نئی جان ڈالنے کی قواعد شروع کردی۔


ماسٹر ہاکی ویلفیئر ایسو سی ایشن کے صدر معین الدین قریشی کہتے ہیں کہ یقینا بھوپال ہاکی کی ایک روشن تاریخ ہے اور ہمیں اس تاریخ پر ناز ہے۔ سابقہ سالوں میں کیا ہوا ہم اس کو نہیں دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے یہاں ہاکی کے جو سینئر کھلاڑی ،اولمپیئن موجود ہیں ان سب کی قیادت میں نئی نسل کو تربیت دی جائے تاکہ ہم پھر نہ صرف بھوپال یا مدھیہ پردیش ہی نہیں بلکہ قومی ہاکی میں شامل ہوکر ملک کی نمائندگی کریں ۔ ہمارا کام جوڑنے کا ہے اور پوری ٹیم جس کا الیکشن کے ذریعہ انتخاب کیاگیا ہے ۔سبھی نیشنل اور اننٹر نیشنل ہاکی پلیئر ہیں اور سبھی ہاکی کے فروغ کے لئے پوری طرح سے ڈیڈیکیٹڈ ہیں ۔ماسٹر ہاکی ایسو سی ایشن کے سکریٹری تبریزشیر کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے جب بچپن میں ہاکی کھیلنا شروع کیاتھا تب بھوپال کے سبھی محلوں میں گراؤنڈ موجود تھے مگر ہمارے بچوں کے پاس گراؤنڈ ہی نہیں بچے ہیں ۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم حکومت کے نمائندوں سے مل کر اس جانب توجہ دلائیں اور بچوں کو کھیلنے کے لئے میدان مل سکیں۔


ماسٹر ہاکی ایسو سی ایشن کے رکن فیروزداد کہتے ہیں کہ کوشش کرنے سے راہیں نکلتی ہیں۔ اب کوشش شروع ہوئی ہے لوگ ساتھ بیٹھے ہیں  تو لوگوں میں ہاکی کو لیکر خاصہ جوش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انشا اللہ نئے سال میں ایسو سی ایشن ہاکی کے میچ کا بھی انعقاد عیش باغ اسٹیڈیم میں منعقد کریگی اور نئی نسل کو ہاکی کی جانب راغب کرنے کے لئے انہیں ہاکی کے سامان بھی مہیاکرائے گی۔

واضح رہے کہ بھوپال جسے ہاکی نرسری کے نام سے جاناجاتا ہے۔ یہاں پر بیسویں صدی کے اختتام تک شہر میں ہاکی کھیلنے کے لئے ایک دو نہیں بلکہ بائیس میدان موجود تھے۔ مگر عدم توجہی اور اپنوں کی بے حسی کے سبب ستر فیصد سے زیادہ میدانوں پر ناجائز قبضہ ہوگیا ہے اور جو میدان ہیں بھی وہ اس لائق نہیں ہیں کہ وہاں پر ہاکی کھیلی جا سکے۔ ماسٹر ہاکی ایسو سی ایشن نے پھر ایک بار کوشش شروع کی ہے ،اگر اس کی کوششیں اسی اسپرٹ کے ساتھ جاری رہتی ہیں تو اس سے یقینا کچھ امید افزا نتائج سامنے آئینگے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 18, 2020 10:20 AM IST