உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بنگلہ دیش کے گیند باز محموداللہ کا ’ڈریم اوور‘ بھی نہیں روک سکا پاکستان کی جیت کا سفر، جانیں کہاں ہوگئی غلطی

    بنگلہ دیش کے گیند باز محموداللہ کا ’ڈریم اوور‘ بھی نہیں روک سکا پاکستان کی جیت کا سفر، جانیں کہاں ہوگئی غلطی

    بنگلہ دیش کے گیند باز محموداللہ کا ’ڈریم اوور‘ بھی نہیں روک سکا پاکستان کی جیت کا سفر، جانیں کہاں ہوگئی غلطی

    Pakistan vs Bangladesh: پاکستان نے تیسرے ٹی-20 بین الاقوامی میچ میں بنگلہ دیش (Pakistan vs Bangladesh) کو پانچ وکٹ سے شکست دے کر سیریز میں 0-3 سے جیت حاصل کی۔ 125 رنوں کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری پاکستانی ٹیم آسان جیت کی طرف بڑھ رہی تھی اور پھر تین وکٹ گنوا بیٹھی، کیونکہ بنگلہ دیش کے کپتان محموداللہ (Mahmudullah) نے تقریباً کرشمہ ہی کردیا تھا، لیکن میچ کو محمد نواز (Mohammad Nawaz) کے ایک متنازعہ پُل آوٹ کے لئے یاد کیا جائے گا

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان نے تیسرے ٹی-20 بین الاقوامی میچ میں بنگلہ دیش (Pakistan vs Bangladesh) کو پانچ وکٹ سے شکست دے کر سیریز میں 0-3 سے جیت حاصل کی۔ 125 رنوں کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری پاکستانی ٹیم آسان جیت کی طرف بڑھ رہی تھی اور پھر تین وکٹ گنوا بیٹھی، کیونکہ بنگلہ دیش کے کپتان محموداللہ (Mahmudullah) نے تقریباً کرشمہ ہی کردیا تھا، لیکن میچ کو محمد نواز (Mohammad Nawaz) کے ایک متنازعہ پُل آوٹ کے لئے یاد کیا جائے گا، جنہوں نے آخری گیند پرجیت کے رن بنائے۔ آخری گیند پر دو رنوں کی ضرورت تھی۔ محمد نواز کو محموداللہ نے بولڈ کردیا، لیکن آخری وقت میں پاکستان کے بلے باز نے پل آوٹ کرلیا۔ جیسے ہی  یہ صورتحال پیدا ہوئی، امپائروں نے اسے ڈیڈ بال قرار دیا۔

      پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش میں یہ ہوا ڈرامہ

      اس میچ میں محموداللہ کے پاس ڈیڈ بال والے ڈرامے کے بعد نان اسٹرائیک پر کھڑے پاکستانی بلے باز خوش دل شاہ (Khushdil Shah) کی مانکڈنگ کرنے کا موقع تھا، لیکن انہوں نے کھیل جذبے کا احترام کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا۔ حالانکہ بہت سے لوگ اسے محموداللہ کی غلطی یا بے وقوفی بتا رہے ہیں، لیکن وہیں دوسری طرف اسے کھیل جذبہ کا احترام بتایا جا رہا ہے۔ دراصل، آئی پی ایل 2019 کے دوران جب روی چندرن اشون (Ravichandran Ashwin) نے راجستھان رائلس کے بلے باز جوس بٹلر کو مانکڈ کیا تھا، تب کھیل جذبہ کو لے کر کافی سوال اٹھے تھے۔ کرکٹ دنیا اور مداح دو گروپوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔

      آئی سی سی کے ضوابط 42.14 میں شروعاتی طور پر کہا گیا تھا، ’گیند باز کو، جب وہ گیند نہیں پھینکنی ہو اور اپنی عام ڈیلیوری کے لئے سوئنگ پورا نہ کیا ہو تب وہ نان اسٹرائیکر اینڈ پر کھڑے بلے باز کو رن آوٹ کرسکتا ہے‘۔ سال 2017 میں نئے ضوابط آئے، جس کے بعد گیند باز کو گیند پھینکنے کا پوری طرح اندازہ لگانے کے بعد بھی نان اسٹرائیکر اینڈ پر کھڑے بلے باز کو آوٹ کرنے کا حق ہوتا ہے‘۔ ایسا ہی موقع میچ کے دوران محمود اللہ کو ملا، اگر وہ اس موقع کا فائدہ اٹھا لیتے تو میچ بنگلہ دیش کی جھولی میں جاسکتا تھا۔



      واضح رہے کہ سیریز کی اپنی تیسری جیت کے لئے 125 رنوں کا پیچھا کرتے ہوئے مہمان پاکستان جیت کے لئے اچھی طرح سے تیار تھا۔ بنگلہ دیش کے خلاف آخری چار اووروں میں 26 رن کی ضرورت تھی۔ حالانکہ کچھ تنگ گیند بازی نے حالات کو 20 ویں اوور میں 8 رن پر پہنچا دیا۔ محموداللہ، جنہوں نے کھیل میں پہلے گیند بازی نہیں کی تھی، وہ اس اوور میں گیند بازی کرنے کے لئے آئے۔

      محموداللہ نے آخری اوور کی پہلی گیند ڈاٹ پھینکی۔ اس کے بعد اگلی دو گیندوں پر وکٹ آئے۔ سرفراز احمد اور حیدرعلی کو بنگلہ دیشی گیند باز نے واپس پویلین بھیجا۔ اس کے بعد چوتھی گیند پر افتخار احمد نے 90 میٹر کا چھکا لگایا۔ پانچویں گیند پر محموداللہ نے افتخار احمد کو پویلین کی راہ دکھا دی۔ اب آخری گیند میں پاکستان کو جیت کے لئے دو رن کی ضرورت تھی۔ آخری گیند پر ڈراما ہوا۔ محموداللہ نے محمد نواز کو بولڈ کردیا تھا، لیکن انہوں نے پُل آوٹ کرلیا، جس کے بعد امپائر نے اسے ڈیڈ بال قرار دے دیا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      BAN vs PAK : پاکستان نے بے ایمانی نے جیتا آخری ٹی 20 میچ! بنگلہ دیش کے کپتان نے اٹھائے سوال، دیکھئے ویڈیو


      اس کے بعد محموداللہ کو خوش دل کی مانکڈنگ کا موقع ملا، لیکن انہوں نے کھیل جذبہ دکھاتے ہوئے اس موقع کو ہاتھ سے جانے دیا۔ آخری گیند پر محمد نواز نے چوکا لگایا اور پاکستان کو تیسرے اور آخری ٹی-20 میچ میں بھی جیت دلا دی۔ میچ کے بعد محموداللہ امپائر کے فیصلے سے ناخوش نظر آئے۔ انہوں نے کہا، ’میں نے صرف امپائر سے پوچھا کہ کیا یہ فیئر بال ہے یا نہیں، کیونکہ وہ (نواز) دیر سے آوٹ ہوا۔ میں نے امپائر سے صرف  یہ پوچھا اور کچھ نہیں۔ امپائر کی کال آخری ہے اور ہم امپائروں کا احترام کرتے ہیں۔ یہ تھوڑا دل توڑنے والا ہے۔ ہم قریب گئے، لیکن بدقسمتی سے، ایسا نہیں ہوا۔ وہیں محمد نواز نے اپنے پُل آوٹ کو ڈیفنڈ کرتے ہوئے کہا، ’میں نیچے دیکھ رہا تھا اور اس نے (محموداللہ) گیند ڈالی، جب گیند آدھی آچکی تھی، تب میں نے اوپر دیکھا اور گیند کو دیکھا، جس کے سبب میں نے پُل آوٹ کیا‘۔ پاکستان نے پہلا میچ چار وکٹ جبکہ دوسرا میچ 8 وکٹ سے جیتا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: