ہوم » نیوز » اسپورٹس

ریٹائرمنٹ کے بعد محمد عامر نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر کی تنقید، بولے- باس گیری برداشت کے باہر

محمد عامر(Mohammad Amir) نے محض 28 سال کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ کو الوداع کہہ دیا، اب انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (Pakistan Cricket Board) کے خلاف جم کر بیان بازی کی ہے۔

  • Share this:
ریٹائرمنٹ کے بعد محمد عامر نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر کی تنقید، بولے- باس گیری برداشت کے باہر
ریٹائرمنٹ کے بعد محمد عامر نے پی سی بی پر کی تنقید، بولے- باس گیری برداشت کے باہر

نئی دہلی: دنیا کے بہترین تیز گیند بازوں میں سے ایک محمد عامر (Mohammad Amir) نے محض 28 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ لے کر سبھی کو حیران کردیا تھا۔ بڑی بات یہ ہے کہ محمد عامر انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنا چاہتے تھے، لیکن انہوں نے پی سی بی کی حرکتوں کی وجہ سے کرکٹ کو الوداع کہہ دیا۔ محمد عامر نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ویڈیو میں ؛پی سی بی کے خلاف جم کر بیان بازی کی ہے۔ محمد عامر نے موجود ٹیم منیجمنٹ کو لتاڑ لگاتے ہوئے کہا کہ وہ صرف باس گیری چلاتا ہے، وہ کسی کھلاڑی کی عزت نہیں کرتا۔


محمد عامر نے پی سی بی کو دھو ڈالا


محمد عامر نے پی سی بی پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا، ’پی سی بی میں بس باس گری چلتی ہے۔ میری وسیم خان اور احسان مانی سے کوئی دشمنی نہیں ہے، لیکن میں موجودہ ٹیم منیجمنٹ کے خلاف ہوں، جو کھلاڑیوں کو دبانے میں لگا ہوا ہے۔ یہ جی ہاں، باس کا کاروبار بند ہونا چاہئے’۔


سوشل میڈیا سے ٹیم سے باہر ہونے کا پتہ چلا: محمد عامر

محمد عامر نے اپنے ویڈیو میں آگے کہا کہ انہیں پاکستانی ٹیم سے باہر ہونے کا پتہ سوشل میڈیا سے چلا۔ محمد عامر نے کہا، ’مجھے سوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ میں پاکستانی ٹیم سے باہر کردیا گیا ہوں۔ یہ کھلاڑی کی بے عزتی نہیں ہے تو کیا ہے کہ ٹیم منیجمنٹ اسے یہ تک نہیں بتاتا کہ تم ٹیم سے باہر ہو’۔ محمد عامر ٹیم منیجمنٹ کے خلاف اور بھی بولے۔ انہوں نے کہا، ’ٹیم میں کئی ایسے کھلاڑی ہیں، جو صرف ایک ہی فارمیٹ کھیل رہے ہیں، ٹیم منیجمنٹ کو اس سے کوئی پریشانی نہیں ہے، لیکن میں دو فارمیٹ کھیلنے کی بات کر رہا ہوں تو اسے اس سے پریشانی ہے’۔



آئی سی سی ونڈے رینکنگ میں ٹاپ - میں ہوں: محمد عامر

محمد عامر نے مزید کہا، ’میں کوئی کمزور دماغ کا شخص نہیں ہوں۔ اگر میں ایسا ہوتا تو کبھی 2010 کے بعد واپسی نہیں کرتا، جو لوگ ٹی وی چینلوں پر میرے خلاف منفی باتیں کرتے ہیں، انہیں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں آج بھی آئی سی سی ونڈے رینکنگ میں ٹاپ -10 میں ہوں’۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 20, 2020 10:58 PM IST