உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایسا کیا ہوا کہ ایشیا کپ میں جیت کے بعد پاکستان میں دو لوگوں کی ہوگئی موت

    جیت کے جشن کے درمیان پشاور شہر میں ہوائی فائرنگ سے دو افراد کے جاں بحق ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ میں ملوث 41 افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

    جیت کے جشن کے درمیان پشاور شہر میں ہوائی فائرنگ سے دو افراد کے جاں بحق ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ میں ملوث 41 افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

    جیت کے جشن کے درمیان پشاور شہر میں ہوائی فائرنگ سے دو افراد کے جاں بحق ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ میں ملوث 41 افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      پشاور: ایشیا کپ 2022 کے سپر 4 راؤنڈ میں پاکستان نے بدھ کو افغانستان کو شکست دے دی۔ اس جیت کے ساتھ ہی پاکستان نے فائنل میں جگہ پکی کرلی۔ پاکستان کے میچ جیت کر فائنل میں جگہ بنانے کی خوشی پر وہاں موجود لوگوں نے زبردست جشن منایا۔ اس خوشی میں پاکستان کے کئی شہروں میں ہوائی فائرنگ کے واقعات رونما ہوئے۔ لیکن جیت کے جشن کے درمیان پشاور شہر میں ہوائی فائرنگ سے دو افراد کے جاں بحق ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ میں ملوث 41 افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

      پولیس کے مطابق واقعہ پشاور شہر کے علاقے متنی ادیجئی میں پیش آیا۔ کچھ لوگ یہاں پاکستان کے میچ کی جیت کا جشن منا رہے تھے اور اسی دوران کچھ لوگ بندوقوں سے ہوا میں فائرنگ کر رہے تھے۔ اس فائرنگ کی زد میں دو افراد آگئے۔ گولی لگنے سے ان کی موت ہوگئی۔ ہوائی فائرنگ میں سدیس نامی شخص گولی لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ متنی میں ہوائی فائرنگ سے ایک اور شخص خیام کی بھی موت ہو گئی۔

      ہندستان۔پاکستان کے مقابلے میں آصف علی کا کیچ چھوڑنے پر ارشدیپ کے ساتھ شخص نے کی بدتمیزی

      ٹیم انڈیا میں ہوں گی یہ بڑی تبدیلیاں! یہ پلئینگ 11 ٹیم کو دلائیں گے جیت


      دوسری جانب کئی دیگر علاقوں سے بھی ہوائی فائرنگ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ دلجاک روڈ، نوتھیہ اور کوٹلہ محسن خان میں ہوائی فائرنگ سے تین خواتین زخمی ہوگئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہر بھر کے مختلف تھانوں کی حدود سے ہوائی فائرنگ کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں اور پولیس نے ہوائی فائرنگ میں ملوث 41 افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: