உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ON This Day: مہندر سنگھ دھونی بطور کپتان صرف 49 دن، 7 میچ میں بن گئے تھے ورلڈ چمپئن، 2 بار پاکستان کو ہرایا

    دھونی بطور کپتان صرف 49 دن، 7 میچ میں بن گئے تھے ورلڈ چمپئن، 2 بار پاکستان کو ہرایا

    دھونی بطور کپتان صرف 49 دن، 7 میچ میں بن گئے تھے ورلڈ چمپئن، 2 بار پاکستان کو ہرایا

    ON This Day: آج ہی کے دن یعنی 24 ستمبر کو تاریخ رقم کی تھی۔ ایم ایس دھونی (MS Dhoni) کی کپتانی میں ٹیم انڈیا (Team India) نے 2007 کا ٹی-20 عالمی کپ (T20 World Cup 2007) کا خطاب جیتا تھا۔ یہ ٹورنامنٹ کا پہلا سیزن تھا۔ سچن تندولکر، راہل دراوڑ اور سوربھ گانگولی جیسے عظیم کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ میں نہیں اترنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد 7 اگست کو دھونی کو ٹیم انڈیا کی کمان دی گئی تھی اور ٹیم نے 24 ستمبر کو خطاب جیت لیا

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: مہندر سنگھ دھونی (MS Dhoni) نے آج ہی کے دن یعنی 24 ستمبر کو تاریخ رقم کی تھی۔ دھونی کی کپتانی میں ٹیم نے 2007 کا ٹی-20 عالمی کپ (T20 World Cup 2007) کا خطاب جیتا تھا۔ یہ ٹورنامنٹ کا پہلا سیزن تھا۔ سچن تندولکر، راہل دراوڑ اور سوربھ گانگولی جیسے عظیم کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ میں نہیں اترنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد 7 اگست کو دھونی کو ٹیم انڈیا کی کمان دی گئی تھی اور ٹیم نے 24 ستمبر کو خطاب جیت لیا۔ یعنی بطور کپتان دھونی نے صرف 49 دنوں میں ٹیم انڈیا کو عالمی چمپئن بنا دیا تھا۔

      مہندر سنگھ دھونی کو عالمی کپ کا خطاب جیتنے کے لئے صرف 7 میچ کھیلنے پڑے۔ حالانکہ 13 ستمبر کو ہندوستان اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان کھیلا گیا پہلا مقابلہ بارش کے سبب منسوخ ہوگیا تھا۔ 14 ستمبر کو ٹیم نے دوسرے مقابلے میں سخت حریف پاکستان کو بال آوٹ میں ہرایا تھا۔ ٹیم انڈیا نے پہلے کھیلتے ہوئے 9 وکٹ پر 141 رن بنائے۔ جواب میں پاکستان کی ٹیم بھی 7 وکٹ پر 141 رن بناسکی تھی۔ اس طرح سے یہ مقابلہ ٹائی ہوگیا تھا، لیکن بال آوٹ میں ٹیم انڈیا کو جیت ملی تھی۔



      یوراج سنگھ نے 6 چھکے کا عالمی ریکارڈ بنایا

      حالانکہ تیسرے میچ میں ٹیم انڈیا کو نیوزی لینڈ سے 10 رن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم ٹیم نے اگلے میچ میں انگلینڈ کو شکست دے کر عالمی کپ کی امید کو زندہ رکھا تھا۔ یوراج سنگھ نے تیز گیند باز اسٹورٹ براڈ کے اوور میں 6 چھکے لگانے کا عالمی ریکارڈ بنایا تھا۔ انہوں نے 12 گیندوں پر سب سے تیز نصف سنچری بھی لگائی تھی۔ ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے 4 وکٹ پر 218 رن بنائے۔ جواب میں انگلینڈ کی ٹیم 6 وکٹ پر 218 رن بنائے۔ جواب میں انگلینڈ کی ٹیم 6 وکٹ پر 200 رن ہی بناسکی۔

      جنوبی افریقہ کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ یقینی بنائی

      ٹیم نے سپر-8 کے اپنے آخری مقابلے میں جنوبی افریقہ کو 37 رنوں سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی تھی۔ ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے 5 وکٹ پر 153 رن بنائے تھے۔ 5 ویں نمبر پر اترے روہت شرما نے ناٹ آوٹ 50 رن بنائے تھے۔ انہوں نے 40 گیندوں کا سامنا کیا تھا۔ 7 چوکے اور دو چھکے لگائے تھے۔ دھونی نے بھی 45 رنوں کی طوفانی اننگ کھیلی تھی۔ جواب میں افریقہ کی ٹیم 9 وکٹ پر 116 رن ہی بناسکی تھی۔ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز رودر پرتاپ سنگھ نے 13 رن دے کر 4 وکٹ لئے تھے۔

      مہندر سنگھ دھونی کی قیادت والی نوجوان ٹیم نے سیمی فائنل میں عظیم آسٹریلیا کی ٹیم کو 15 رنوں سے شکست دی تھی۔ میچ میں یوراج سنگھ نے 70 رنوں کی یادگار اننگ کھیلی تھی۔
      مہندر سنگھ دھونی کی قیادت والی نوجوان ٹیم نے سیمی فائنل میں عظیم آسٹریلیا کی ٹیم کو 15 رنوں سے شکست دی تھی۔ میچ میں یوراج سنگھ نے 70 رنوں کی یادگار اننگ کھیلی تھی۔


      سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو دی شکست

      مہندر سنگھ دھونی کی قیادت والی نوجوان ٹیم نے سیمی فائنل میں عظیم آسٹریلیا کی ٹیم کو 15 رنوں سے شکست دی تھی۔ میچ میں یوراج سنگھ نے 70 رنوں کی یادگار اننگ کھیلی تھی۔ ٹیم انڈیا نے پہلے کھیلتے ہوئے 5 وکٹ پر 188 رنوں کا بڑا اسکور کھڑا کیا تھا۔ یوراج سنگھ نے 30 گیندوں پر 70 رن بنائے تھے۔ 5 چوکے اور 5 چھکے لگائے تھے۔ جواب میں آسٹریلیا کی ٹیم 7 وکٹ پر 173 رن ہی بناسکی تھی۔ ایس سری سنت نے 12 رن دے کر 2 وکٹ حاصل کئے تھے۔

      یادگار فائنل میں پاکستان کو شکست دی

      24 ستمبر کو جوہانسبرگ میں کھیلے گئے فائنل میں ٹیم نے پاکستان کو دلچسپ مقابلے میں 5 رن سے شکست دی تھی۔ سلامی بلے باز گوتم گمبھیر نے 75 رنوں کی شاندار اننگ کھیلی تھی۔ انہوں نے 54 گیندوں کا سامنا کیا۔ 8 چوکے اور دو چھکے لگائے۔ روہت شرما نے بھی 16 گیندوں پر ناٹ آوٹ 30 رنوں کی اہم اننگ کھیلی تھی۔ ہدف کا تعاقب کرنے اتری پاکستان کی ٹیم نے 77 رنوں پر 6 وکٹ گنوا دیئے تھے۔ ایسے میں لگ رہا تھا کہ ٹیم آسانی سے میچ جیت لے گی، لیکن مصباح الحق نے پاکستانی ٹیم کو زبردست واپسی کرائی۔ انہوں نے 43 رن بنائے اور آکری اوور میں آوٹ ہوئے۔ آخری اوور میں پاکستان کو جیتنے کے لئے 13 رن بنانے تھے اور ایک وکٹ باقی تھا۔ تیز گیند باز جوگیندر شرما نے پہلی گیند وائیڈ پھینکی۔ اس کے بعد اگلی گیند پر مصباح الحق رن نہیں بناسکے۔ دوسری گیند پر انہوں نے شاندار چھکا لگایا۔ اب پاکستان کو 4 گیند پر صرف 6 رن بنانے تھے۔ تیسری گیند پر اسکوپ شاٹ کھیلنے کے چکر میں مصباح الحق نے شارٹ فائن لیگ پر سری سنت کو کیچ دے دیا اور اس طرح سے ٹیم انڈیا نے عالمی کپ کا خطاب جیت لیا۔ جیت کے ساتھ ایم ایس دھونی ہندوستانی کرکٹ میں نیا ستارہ بن کر ابھرے۔ دھونی کی قیادت میں بعد میں ٹیم انڈیا نے سال 2011 عالمی کپ اور 2013 چمپئنز ٹرافی کا بھی خطاب جیتا۔ وہ تینوں خطاب جیتنے والے دنیا کے واحد کپتان بھی ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: