உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ON This Day: اسپاٹ فکسنگ نے کرکٹ کو داغدار کیا، پاکستان کے تین کھلاڑیوں کو جانا پڑا تھا جیل

    ON This Day: اسپاٹ فکسنگ (Spot Fixing) نے آج سے 11 سال پہلے کرکٹ پر بڑا داغ لگایا تھا۔ پاکستان کے تین کرکٹروں پر پیسے لینے کے الزام لگے تھے اور آئی سی سی (ICC) کی طرف سے ان پرپابندی بھی عائد کی گئی تھی۔ اس وقت ٹیم کے کپتان رہے سلمان بٹ (Salman Butt) بھی اس میں شامل تھے۔

    ON This Day: اسپاٹ فکسنگ (Spot Fixing) نے آج سے 11 سال پہلے کرکٹ پر بڑا داغ لگایا تھا۔ پاکستان کے تین کرکٹروں پر پیسے لینے کے الزام لگے تھے اور آئی سی سی (ICC) کی طرف سے ان پرپابندی بھی عائد کی گئی تھی۔ اس وقت ٹیم کے کپتان رہے سلمان بٹ (Salman Butt) بھی اس میں شامل تھے۔

    ON This Day: اسپاٹ فکسنگ (Spot Fixing) نے آج سے 11 سال پہلے کرکٹ پر بڑا داغ لگایا تھا۔ پاکستان کے تین کرکٹروں پر پیسے لینے کے الزام لگے تھے اور آئی سی سی (ICC) کی طرف سے ان پرپابندی بھی عائد کی گئی تھی۔ اس وقت ٹیم کے کپتان رہے سلمان بٹ (Salman Butt) بھی اس میں شامل تھے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: آج سے 11 سال پہلے ہوئے ایک حادثہ نے کرکٹ کو جھکجھور کر رکھ دیا تھا۔ 28 اگست 2010 کو لارڈس میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے ٹسٹ میچوں کے دوران 2 گیند باز محمد عامر (Mohammad Amir) اور محمد آصف (Mohammed Asif) نے پیسے لے کر نوبال پھینکی۔ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ (Salman Butt) بھی دونوں کےساتھ اسپاٹ فکسنگ میں شامل تھے۔ ان تینوں پاکستان کے کھلاڑیوں پر پابندی ہی نہیں لگی، انہیں جیل تک جانا پڑا۔

      پاکستان کے ہی ایجنٹ جس نے اس اسپاٹ فکسنگ (Spot Fixing) کی بات کو بتایا تھا، اسے بھی سزا ملی تھی۔ آئی سی سی نے جانچ کے بعد فروری 2011 میں تینوں کرکٹروں پر پابندی عائد کردی تھی۔ محمد عامر پر پانچ سال، محمد آصف پر 7 سال اور سلمان بٹ پر 10 کی پابندی عائد کی گئی۔ حالانکہ محمد آصف کی دو اور سلمان بٹ کی 5 سال کی سزا معطل تھی۔ یعنی وہ ستمبر 2015 کے بعد کرکٹ میں واپسی کرسکتے تھے۔ محمد عامر نے سال 2016 میں انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی اور لارڈس میں ہی اپنا کم بیک ٹسٹ بھی کھیلا۔

      محمد عامر کو 6 ماہ کی سزا ملی

      اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں نومبر 2011 میں لندن کی ایک عدالت نے تینوں کرکٹروں کو جیل کی سزا سنائی۔ سلمان بٹ کو 2 سال اور 6 ماہ، محمد آصف کو ایک سال اور محمد عامر کو 6 ماہ کی سزا ملی تھی۔ حالانکہ تین ماہ بعد محمد عامر کو رہا کردیا گیا تھا۔ جنوری 2015 میں انہوں نے کرکٹ میں واپسی کی۔ ایک سال بعد انہیں پھر پاکستان کے لئے کھیلنے کا موقع ملا۔ حالانکہ سلمان بٹ اور محمد آصف گھریلو کرکٹ میں ہی واپسی کرسکے۔ انہیں پھر انٹرنیشنل مقابلے کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔

      واپسی کے بعد پھر لیا ریٹائرمنٹ

      محمد عامر نے کرکٹ میں واپسی کے بعد دسمبر 2020 میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیا۔ ان کے اور ٹیم منیجمنٹ کے درمیان تنازعہ رہا۔ انہوں نے کھلے طور پر منیجمنٹ کی تنقید بھی کی تھی۔ محمد عامر سال 2017 میں چمپئنز ٹرافی جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے۔ انہوں نے 36 ٹسٹ میں 119.61 ونڈے میں 81 اور 50 ٹی-20 انٹرنیشنل میچ میں 59 وکٹ حاصل کئے۔ محمد عامر ابھی 29 سال کے ہی ہیں اور ان کے پھر سے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کو لے کر قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ وہ ابھی انگلینڈ میں رہ رہے ہیں۔ محمد آصف کی بات کی جائے تو انہوں نے 23 ٹسٹ میں 106، 38 ونڈے میں 46 اور 11 ٹی-20 میں 13 وکٹ حاصل کئے۔ وہیں سابق کپتان سلمان بٹ نے 33 ٹسٹ میں 1889 رن، 78 ونڈے میں 2725 اور 24 ٹی-20 انٹرنیشنل میں 595 رن بنائے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: