உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    قطر میں فیفا ورلڈ کپ 2022 کی افتتاحی تقریب کا آغاز، دنیا بھر کے شائقین پرجوش، پہلا مقابلہ قطر اور ایکواڈور کے درمیان

    تصویر

    تصویر

    قطر ورلڈ کپ 2022 کا آغاز آج یعنی اتوار کو میزبان ملک قطر کے ساتھ ایکواڈور کے ساتھ ہو رہا ہے۔ یہ ایک ماہ تک جاری رہنے والا فٹ بال شو آخرکار 12 سالہ محنت کے بعد شروع ہوا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Qatar
    • Share this:
      قطر میں فیفا ورلڈ کپ 2022 کی افتتاحی تقریب کا آغاز ہوگیا ہے۔ جہاں دنیا بھر کے شائقین موجود ہیں۔ پہلا مقابلہ قطر اور ایکواڈور کے درمیان ہورہا ہے۔ جو کہ البیت اسٹڈیم میں کھیلا جارہا ہے۔ شائقین نے ورلڈ کپ ٹرافی کی پہلی جھلک دیکھی ہے، جو البیت اسٹیڈیم میں شائقین کو دکھائی گئی۔ یہ ٹرافی 6.17 کلوگرام 18 کیرٹ سونے کی ہے،  جس کی ایک دلچسپ تاریخ ہے۔ ٹرافی میں سونے کی قیمت موجودہ نرخوں پر تقریباً 250,000 ڈالر ہے۔ آج کی رقم میں اصل کی قیمت 20 ڈالر ملین بتائی جاتی ہے۔

      اتوار کو قطر کے البیت اسٹیڈیم، الخور میں ثقافتی شو کے ساتھ افتتاحی تقریب کا آغاز ہونے کے بعد بی ٹی ایس گلوکار جنگ کوک اسٹیج شیئر کیا۔ شاندار روشنی اور موسیقی کے ساتھ اس کا آغاز ہوا۔ اس سے قبل فرانس کے لیجنڈ مارسل ڈیسیلی نے ورلڈ کپ کی ٹرافی شائقین کے سامنے پیش کی۔ یہ ایونٹ گروپ اے میں قطر اور ایکواڈور کے درمیان فیفا ورلڈ کپ 2022 کے افتتاحی میچ سے پہلے ہو رہا ہے۔ افتتاحی تقریب کا آغاز آئی ایس ٹی رات 8 بجے ہوچکا ہے۔ جنوبی کوریا کے مشہور بینڈ بی ٹی ایس کے گلوکار جنگ کوک بھی افتتاحی تقریب میں دوسروں کے ساتھ پرفارم کیا۔

      قطر ورلڈ کپ 2022 کا آغاز آج یعنی اتوار کو میزبان ملک قطر کے ساتھ ایکواڈور کے ساتھ ہو رہا ہے۔ یہ ایک ماہ تک جاری رہنے والا فٹ بال شو آخرکار 12 سالہ محنت کے بعد شروع ہوا ہے۔  فیفا ورلڈ کپ کا 2022 ایڈیشن کئی اعتبار سے منفرد ہے۔ پہلی بار موسم سرما میں فیفا ورلڈ کپ کا انعقاد ہورہا ہے۔ یقیناً اس کا مطلب یہ ہے کہ شائقین اس سے مزید لطف اندوز ہوں گے۔ دوحہ کا اسٹیڈیم 974 ری سائیکل شپنگ کنٹینرز سے بنا ہے اور اسے ورلڈ کپ کے بعد ختم کر دیا جائے گا۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      قطر کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم اتوار کو ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب کے لیے قطر پہنچے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے گزشتہ سال قطر کا سال کا بائیکاٹ ختم کیا تھا لیکن ابوظہبی اور دوحہ کے درمیان تعلقات اس رفتار سے گرم نہیں ہوئے جس رفتار سے ریاض اور قاہرہ کے رہنما افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے دوحہ پہنچے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: