ہوم » نیوز » اسپورٹس

پی سی بی پر بھڑکے شعیب، کہا۔ میرا کام ٹی وی پر بیٹھنا نہیں، پاکستان کا کرکٹ چلانے دیں

ایک چیٹ شو میں اختر نے کہا کہ پی سی بی کو دوسرے ممالک سے سیکھنا چاہئے کہ سابق کھلاڑیوں کا ملک میں کرکٹ کو آگے لے جانے کے لئے کس طرح استعمال کیا جانا چاہئے۔

  • Share this:
پی سی بی پر بھڑکے شعیب، کہا۔ میرا کام ٹی وی پر بیٹھنا نہیں، پاکستان کا کرکٹ چلانے دیں
شعیب اختر کی فائل فوٹو

نئی دہلی۔ پاکستان کے سابق تیز گیندباز شعیب اختر پاکستان کرکٹ بورڈ پر جم کر برسے۔ انہوں نے ٹیم مینجمنٹ میں سابق کھلاڑیوں کو شامل نہ کرنے پر پی سی بی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے لئے شعیب اختر نے ہندوستان کی مثال بھی پیش کی جہاں بی سی سی آئی کی کمان سابق کپتان سوربھ گنگولی کے ہاتھ میں ہے۔ شعیب اپنی بیباک رائے رکھنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ خراب فیصلوں کو لے کر پاکستان کرکٹ بورڈ کی بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ ایک چیٹ شو میں اختر نے کہا کہ پی سی بی کو دوسرے ممالک سے سیکھنا چاہئے کہ سابق کھلاڑیوں کا ملک میں کرکٹ کو آگے لے جانے کے لئے کس طرح استعمال کیا جانا چاہئے۔


شعیب اختر نے ساتھ ہی پاکستان میں ایلیٹ کلاس کی ذہنیت پر بھی سوالیہ نشان لگائے۔ پاکستان کے تیز گیندباز نے کہا کہ اعلی عہدوں پر بیٹھے افراد اپنے ماتحت صرف کمزور لوگوں کو ہی دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ انھیں انتظامیہ میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اختر نے کہا کہ سبھیکرکٹ کھیلنے والے ممالک نے انتظامیہ میں سابق کرکٹرز کو شامل کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ نئے نئے مقام حاصل کر رہے ہیں۔ وہیں، پی سی بی نے ایسا نہیں کیا ، یہی وجہ ہے کہ ملک میں کرکٹ جدوجہد کر رہا ہے۔


شعیب اختر۔


اس دوران شعیب اختر اتنے ناراض ہوگئے کہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ میرا کام صرف ٹی وی پر بیٹھنا نہیں ہے ، مجھے پاکستان کا کرکٹ چلانے کا موقع ملنا چاہئے۔ اختر نے ہندوستان اور جنوبی افریقہ کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ سوربھ گنگولی بی سی سی آئی کے صدر ہیں ، راہل دراوڑ این سی اے چیئرمین ہیں ، جبکہ گریم اسمتھ کرکٹ ڈائریکٹر ہیں اور مارک باؤچر ہیڈ کوچ ہیں۔ جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس ہے۔
First published: Mar 18, 2020 02:03 PM IST