ہوم » نیوز » اسپورٹس

پاکستان وزیر کا متنازعہ بیان، کہا-کشمیر آزاد ہوگا تبھی ہندوستان سے کھیلیں گے کرکٹ

پاکستان کی عمران حکومت میں وزیر فردوس عاشق اعوان (Firdous Ashiq Awan) بے بنیاد بیان دے کر پوری دنیا میں اپنا مذاق بنوا رہی ہیں۔

  • Share this:
پاکستان وزیر کا متنازعہ بیان، کہا-کشمیر آزاد ہوگا تبھی ہندوستان سے کھیلیں گے کرکٹ
عمران خان حکومت میں وزیر فردوس عاش اعوان نے متنازعہ بیان دیا ہے۔

نئی دہلی: 6 جنوری، 2013... یہ وہ تاریخ ہے جب ہندوستان اور پاکستان کی ٹیم آپس میں کسی دوطرفہ سیریز میں مدمقابل ہوئی تھیں۔ گزشتہ 7 سالوں سے دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک کوئی ایک بھی دوطرفہ سیریز نہیں کھیلی گئی ہے۔ پاکستان کے دہشت گردی کو پناہ دینے کی وجہ سے ہندوستان نے پڑوسی ملک سے کرکٹ کے میدان میں بھی دوری بنا لی ہے۔ حالانکہ پاکستان کے وزراء کو کچھ الگ ہی لگتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ جیسے ہندوستانی ٹیم، پاکستان سے کرکٹ کھیلنا چاہتی ہے، لیکن وہ ان کی ٹیم ہے جو ہندوستانی ٹیم سے مقابلہ نہیں کھیل رہی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر فردوس عاشق اعوان نے ہندوستان کے خلاف ایک بے بنیاد بیان دیا ہے، جس کے بعد پوری دنیا میں ان کا مذاق اڑ رہا ہے۔


پاکستانی وزیر فردوس عاشق اعوان نے ہندوستان کے خلاف بیان دیا ہے۔
پاکستانی وزیر فردوس عاشق اعوان نے ہندوستان کے خلاف بیان دیا ہے۔


کشمیر کی آزادی کے بعد کھیلیں گے ہندوستان سے کرکٹ


عمران خان حکومت میں وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بے حد عجیب وغریب بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ٹیم تب تک ہندوستان سے کرکٹ نہیں کھیلے گی جب تک وہ کشمیر کو آزاد نہیں کردیتا۔ فردوس عاشق نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنا غلط ہے۔ پاکستانی اخبار دی ٹربیون سے بات چیت کرتے ہوئے فردوس نے کہا، 'ہندوستان نے پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ روکنے کے لئے جھوٹی سازش کی ہ۔ جب تک ہندوستان کشمیری لوگوں کو آزاد نہیں کردیتا، تب تک ہندوستان - پاکستان کا میچ کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کرے گا۔

ہندوستان نے سال 2018 میں جیتا تھا ایشیا کپ
ہندوستان نے سال 2018 میں جیتا تھا ایشیا کپ


واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں پاکستان میں کرکٹ کی واپسی ہوئی ہے۔ سری لنکا کی ٹیم پاکستان میں ونڈے، ٹی -20 سیریز کے ساتھ ساتھ ٹسٹ سیریز بھی کھیل کر گئی۔ اس کے بعد بنگلہ دیش نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔ دونوں ممالک نے پاکستان کو محفوظ ملک بتایا۔ حالانکہ ہندوستانی ٹیم کا پاکستان میں کھیلنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ یہ سب باتیں اس لئے ہورہی ہیں کہ اس سال ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کو ملی ہے اور ہندوستانی ٹیم چاہتی ہے کہ اس ٹورنامنٹ کے انعقاد کے مقام کو تبدیل کیا جائے۔ بی سی سی آئی چاہتی ہے کہ ٹورنامنٹ کا انعقاد دبئی یا ابوظہبی میں ہو، نہیں تو ان کی ٹیم ایشیا کپ میں حصہ نہیں لے گی۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 2019 عالمی کپ میں ہوا تھا مقابلہ
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 2019 عالمی کپ میں ہوا تھا مقابلہ


گزشتہ ایشیا کپ کا میزبان ہندوستان تھا، لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کے ویزا مسئلے کو دیکھتے ہوئے یہ ٹورنامنٹ دبئی میں منعقد ہوا۔ اب سی سی آئی بھی یہی چاہتی ہے کہ ایشیا کپ کا انعقاد پاکستان کے بجائے کہیں اور کیا جائے۔
First published: Feb 09, 2020 03:48 PM IST