உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    PAK vs AUS 2nd ODI: بابر اعظم اورامام الحق کی طوفانی اننگ کی بدولت پاکستان نے 349 رنوں کا ہدف حاصل کیا

    بابر اعظم اورامام الحق کی طوفانی اننگ کی بدولت پاکستان نے 349 رنوں کا ہدف حاصل کیا

    بابر اعظم اورامام الحق کی طوفانی اننگ کی بدولت پاکستان نے 349 رنوں کا ہدف حاصل کیا

    Pakistan vs Australia 2nd ODI: پاکستان نے کپتان بابر اعظم (Babar Azam) اور امام الحق (Imam Ul Haq) کی سنچری کی بدولت آسٹریلیا کو 6 وکٹ سے شکست دی۔ آسٹریلیا نے 8 وکٹ پر 348 رن بنائے، لیکن پاکستان نے اس ہدف کو 6 گیند باقی رہتے ہوئے حاصل کرلیا۔ 

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان نے جمعرات کو اپنے کپتان بابر اعظم (Babar Azam) اور امام الحق (Imam Ul Haq) کی سنچری کی بدولت آسٹریلیا سے ملے 349 رنوں کے ہدف کو 6 گیند باقی رہتے ہوئے حاصل کرلیا۔ آسٹریلیا نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے اس دوسرے ونڈے میچ (PAK vs AUS 2nd ODI) میں مقررہ 50 اوور میں 8 وکٹ گنواکر 348 رن بنائے۔ پاکستان نے 49 اوور میں 4 وکٹ پر 352 رن بناکر جیت درج کی۔ میزبان ٹیم نے اپنے ونڈے تاریخ میں پہلی بار اتنے بڑے ہدف کو حاصل کیا ہے۔ پاکستان نے اس جیت کے ساتھ تین میچوں کی ونڈے سیریز میں 1-1 سے برابری حاصل کی۔ سیریز کا تیسرا اور آخری ونڈے لاہور کے اسی میدان پر ہفتہ کے روز 2 اپریل کو کھیلا جائے گا۔

      309 رنوں کی ٹیم اسکور پر آوٹ ہوئے بابر اعظم

      349 رنوں کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری پاکستان کے سلامی بلے باز امام الحق نے فخر زماں کے ساتھ 118 رنوں کی اوپننگ شراکت کی۔ اس کے بعد کپتان بابر اعظم کے ساتھ دوسرے وکٹ کے لئے 111 رنوں کی پارٹنرشپ کرتے ہوئے ٹیم کا اسکور 229 رن پر پہنچا دیا۔ بابر اعظم نے پھر محمد رضوان کے ساتھ اننگ کو آگے بڑھایا اور دونوں نے تیسرے وکٹ کے لئے 80 رن جوڑے۔ بابر اعظم ٹیم کے 309 کے اسکور پر پویلین لوٹے جب ناتھن ایلس نے مارنس لابوشین کے ہاتھوں انہیں کیچ کرایا۔ آسٹریلیا کے لئے ایڈم زمپا نے دو وکٹ حاصل کئے، لیکن 10 اوور میں 71 رن لٹائے۔ ناتھن ایلس اور مارکس اسٹائنس کو بھی 1-1 وکٹ ملا۔

      پاکستان کی سرزمیں پر آسٹریلیا کا سب سے بڑا اسکور

      آسٹریلیا نے پاکستان کی سرزمین پر اپنا سب سے بڑا اسکور کھڑا کیا۔ حالانکہ آسٹریلیا کے گیند باز 350 کے قریب کے اس اسکور کا بچاو نہیں کر پائے۔ میکڈرموٹ اور ہیڈ کے علاوہ مارنس لابوشین نے 59 جبکہ آل راونڈر مارکس اسٹائنس نے 49 رنوں کی طوفانی اننگ کھیلی۔ اس سے قبل آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف ہی کراچی میں نومبر 1998 میں اپنے گزشتہ دورے پر سب سے زیادہ 8 وکٹ پر 324 رن بنائے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      IPL 2022: لکھنو نے درج کی پہلی جیت، چنئی سپرکنگس کو 210 رن بناکر بھی ملی شکست

      میکڈمورٹ اور ہیڈ نے لگائی سنچری

      اس سے قبل بین میکڈمورٹ کے کیریئر کی پہلی سنچری اور سلامی بلے باز ٹریوس ہیڈ کے ساتھ ان کی بڑی سنچری شراکت سے آسٹریلیا نے 8 وکٹ پر 348 رنوں کا بڑا اسکور کھڑا کیا۔ اپنا چوتھا ونڈے کھیل رہے میکڈ مورٹ نے 108 گیندوں میں 10 چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 104 رنوں کی اننگ کھیلنے کے علاوہ ہیڈ کے ساتھ دوسرے وکٹ کے لئے 162 رنوں کی شراکت داری کی۔ ٹریوس ہیڈ نے 70 گیندوں پر 89 رن بنائے، جس میں 6 چوکے اور 5 چھکے شامل رہے۔

      شاہین شاہ آفریدی کا ’چوکا‘

      پاکستان کی طرف سے گیند باز شاہین شاہ آفریدی سب سے کامیاب گیند باز رہے، جنہوں نے 63 رن دے کر چار وکٹ حاصل کئے۔ محمد وسیم نے بھی 56 رن دے کر دو وکٹ حاصل کئے۔ ٹاس ہارکر بلے بازی کرنے اتری آسٹریلیا کی شروعات خراب رہی اور اس نے میچ کی تیسری ہی گیند پر کپتان ایرون فنچ (0) کا وکٹ گنوا دیا، جنہیں شاہین شاہ آفریدی نے ایل بی ڈبلیو آوٹ کیا۔ ہیڈ اور میکڈمورٹ نے اس کے بعد پاکستان کے گیند بازوں کو 24 اوور تک کامیابی سے محروم رکھا اور اس دوران تیزی سے رن جمع کئے۔ زاہد محمود نے ہیڈ کو آفریدی کے ہاتھوں کیچ کراکر اس شراکت کو توڑا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: