உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان نے آسٹریلیا سے اپنے کھلاڑیوں کو فوراً گھر لوٹنے کا جاری کیا فرمان، جانیں پورا معاملہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ (Pakistan Cricket Board) (پی سی بی) نے بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں حصہ لے رہے اپنے سبھی قومی کھلاڑیوں کو فوراً گھر لوٹنے کو کہا ہے۔ بورڈ نے ایسا کیوں کہا؟ اس کے پیچھے وجہ پاکستان سپر لیگ ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (Pakistan Cricket Board) (پی سی بی) نے بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں حصہ لے رہے اپنے سبھی قومی کھلاڑیوں کو فوراً گھر لوٹنے کو کہا ہے۔ بورڈ نے ایسا کیوں کہا؟ اس کے پیچھے وجہ پاکستان سپر لیگ ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (Pakistan Cricket Board) (پی سی بی) نے بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں حصہ لے رہے اپنے سبھی قومی کھلاڑیوں کو فوراً گھر لوٹنے کو کہا ہے۔ بورڈ نے ایسا کیوں کہا؟ اس کے پیچھے وجہ پاکستان سپر لیگ ہے۔

    • Share this:
      کراچی: پاکستان کے کچھ اسٹار کھلاڑی اس وقت آسٹریلیا میں چل رہی بگ بیش لیگ (big bash league) میں کمال کر رہے ہیں، مگر اب ان کھلاڑیوں کو لیگ کو بیچ میں چھوڑ کر فوراً اپنے گھر لوٹنا پڑے گا۔ اس کی وجہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا فرمان ہے۔ دراصل، پاکستان کرکٹ بورڈ (Pakistan Cricket Board) (پی سی بی) نے بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں حصہ لے رہے اپنے سبھی قومی کھلاڑیوں کو فوراً گھر لوٹنے کو کہا ہے۔ بورڈ نے ایسا کیوں کہا؟ اس کے پیچھے وجہ پاکستان سپر لیگ ہے۔

      پاکستان سپر لیگ کا آغاز 27 جنوری سے ہو رہا ہے اور بورڈ چاہتا ہے کہ کھلاڑیوں کو لیگ کے 7ویں سیزن کی تیاریوں کے لئے پورا وقت مل سکے۔ اسی وجہ سے پی سی بی نے محمد حسنین، فخر زماں، حارث روف اور شاداب خان کو فوراً ملک لوٹنے کو کہا ہے۔

      کراچی اور لاہور کے اسٹیڈیم میں ہوں گے لیگ کے میچ

      بورڈ نے اس کی بھی تصدیق کی ہے کہ پی ایس ایل کا انعقاد طے پروگرام کے مطابق، کراچی اور لاہور میں دو مرحلوں میں کیا جائے گا۔ پی سی بی نے پہلے ہی ٹورنامنٹ کا پروگرام جاری کردیا ہے۔ 27 جنوری سے 7 فروری تک مقابلے کراچی کے قومی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ پھر 10 فروری سے مقابلے لاہور میں کھیلے جائیں گے۔

      لیگ کے اس سیزن کا پہلا مقابلہ کراچی کنگس بنام ملتان سلطان کے درمیان کھیلا جائے گا۔ وہیں 10 فروری کو لاہور کے اسٹیڈیم میں پہلا میچ ملتان سلطان بنام پیشاور ظالمی کے درمیان کھیلا جائے گا۔ 21 فروری تک لیگ میں کل 30 مقابلے کھیلے جائیں گے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: