உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پی سی بی چیف رمیز راجہ کی جان کو خطرہ! پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پہلی بار پیش ہونے پر کیا بڑا انکشاف

    گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بننے کے بعد رمیز راجہ پہلی بار کھیل پر قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے کئی انکشاف کئے۔ چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ سیکورٹی اسباب کی وجہ سے پی سی بی کی بلیٹ پروف گاڑی کا استعمال کرتے ہیں۔

    گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بننے کے بعد رمیز راجہ پہلی بار کھیل پر قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے کئی انکشاف کئے۔ چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ سیکورٹی اسباب کی وجہ سے پی سی بی کی بلیٹ پروف گاڑی کا استعمال کرتے ہیں۔

    گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بننے کے بعد رمیز راجہ پہلی بار کھیل پر قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے کئی انکشاف کئے۔ چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ سیکورٹی اسباب کی وجہ سے پی سی بی کی بلیٹ پروف گاڑی کا استعمال کرتے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجہ نے کھیل کو لے کر بنی قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی سے کہا ہے کہ وہ سیکورٹی اسباب سے بلیٹ پروف گاڑی کا استعمال کرتے ہیں۔ بورڈ چیئرمین کے طورپر ملنے والے فائدے اور بھتوں سے جڑے سوالوں کے جواب میں رمیز راجہ نے کہا، وہ پی سی بی پر بڑا مالی بوجھ نہیں ہے، کیونکہ وہ اپنی صحت کے علاوہ بھی کئی اور چیزوں پر ہونے والے خرچ خود اٹھاتے ہیں۔ اس میٹنگ سے جڑے ذرائع نے کہا، ‘رمیز راجہ نے کمیٹی کے اراکین سے کہا تھا کہ انہوں نے سیکورٹی خطرے کے سبب صرف پی سی بی کی بلیٹ پروف گاڑی کا استعمال کیا ہے۔ وہ پی سی بی سے کسی بھی طرح کا فائدہ لینے سے ہمیشہ بچتے ہیں‘۔

      ذرائع نے مزید کہا، قومی اسمبلی کمیٹی کے کسی بھی رکن نے حکومت بدلنے کے بعد رمیز راجہ سے بورڈ کے چیئرمین کے طور پر ان کے مستقبل کے بارے میں نہیں پوچھا اور نہ ہی کسی نے ان سے اس بارے میں سوال کیا کہ انہوں نے استعفیٰ دینے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا جیسا کہ ان سے پہلے دوسرے بورڈ چیئرمین نے حکومت بدلنے کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

      رمیز راجہ نے کمیٹی کے اراکین سے کہا تھا کہ انہوں نے سیکورٹی خطرے کے سبب صرف پی سی بی کی بلیٹ پروف گاڑی کا استعمال کیا ہے۔
      رمیز راجہ نے کمیٹی کے اراکین سے کہا تھا کہ انہوں نے سیکورٹی خطرے کے سبب صرف پی سی بی کی بلیٹ پروف گاڑی کا استعمال کیا ہے۔


      رمیز راجیہ پہلی بار پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے

      رمیز راجہ نے دو گھنٹے لمبے چلے سیشن میں کمیٹی کے اراکین کو واضح کیا کہ انہوں نے صرف سروس ضوابط کے تحت پی سی بی صدر کو ملنے والے روزانہ بھتے، ہوٹل اور سفر کے لئے پیسے لیتے ہیں۔ اس میٹنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ان سے پہلے بھی جو لوگ پی سی بی کے چیئرمین رہے تھے، انہوں نے بھی سیکورٹی خطروں کی وجہ سے بلیٹ پروف کار کا استعمال کیا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے، جب پی سی بی چیئرمین کے طور پر رمیز راجہ کسی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

      اسٹینڈنگ کمیٹی نے رمیز راجہ سے آڈٹ رپورٹ مانگی

      ذرائع نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے سیشن کے دوران رمیز راجہ سے پوچھا تھا کہ پی سی بی نے سالانہ اخراجات پر آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کیوں نہیں سونپی؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ یہ ایک سرکاری دستاویز ہے اور کسی بھی وقت ان کے لئے دستیاب کرایا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اراکین نے انہیں اسٹینڈنگ کمیٹی کی آئندہ میٹنگ میں آڈٹ رپورٹ خود جمع کرنے کے لئے کہا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ رمیز راجہ نے کمیٹی کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ آڈیٹر جنرل کے آفس نے 13-2012 سے بورڈ کے اکاونٹ کا آڈٹ کیا ہے۔

      رمیز راجہ کے کام کاج سے اسٹینڈنگ کمیٹی خوش

      کھیلوں کو لے کر بنائی گئی پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے رمیز راجہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی، مستقبل کے دوروں اور پاکستان سپر لیگ کے بارے میں بھی پوچھا تھا۔ زیادہ تر اراکین نے رمیز راجہ کے چیئرمین بننے کے بعد سے ہی ٹیم کی کارکردگی سے متعلق بھی اطمینان ظاہر کیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: