உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹی-20 عالمی کپ: پاکستان ٹی-20 عالمی کپ جیتنے کی راہ پر، بابراعظم کی ٹیم میں چمپئن والی سبھی 5 خوبیاں

    ٹی-20 عالمی کپ: پاکستان ٹی-20 عالمی کپ جیتنے کی راہ پر

    ٹی-20 عالمی کپ: پاکستان ٹی-20 عالمی کپ جیتنے کی راہ پر

    T20 World Cup 2021: بابر اعظم (Babar Azam) کی کپتانی والی پاکستانی ٹیم (Pakistan Cricket Team) میں ہر وہ بات ہے، جوکسی چمپئن ٹیم کے لئے ضروری ہے۔ یہاں پر ہم ایسی پانچ باتوں کا ذکر کر رہے ہیں، جو عالمی چمپئن بننے کے لئے ضروری ہیں اور یہ سبھی پاکستان کی ٹیم میں بھی ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کرکٹ اور قسمت کب کروٹ بدل لیں، کوئی بھروسہ نہیں۔ ٹی-20 عالمی کپ (T20 World Cup 2021) میں یہ محاورہ ہر روز آزمایا جا رہا ہے۔ ہندوستانی ٹیم (Team India) جو ٹورنامنٹ سے پہلے ہاٹ فیورٹ تھی، وہ آج کرو یا مرو کے پھیر میں پھنسی ہے۔ وہیں، پاکستان (Pakistan) جسے ٹی-20 عالمی کپ (T20 World Cup) شروع ہونے سے پہلے تک کوئی بھی زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں تھا، وہ وجے رتھ پر سوار سیمی فائنل کی طرف نکل چکا ہے۔ بابر اعظم (Babar Azam) کی کپتانی والی پاکستانی ٹیم (Pakistan Cricket Team) میں ہر وہ بات ہے، جو کسی چمپئن ٹیم کے لئے ضروری ہے۔ یہاں پر ہم ایسی پانچ باتوں کا ذکر کر رہے ہیں، جو عالمی چمپئن بننے کے لئے ضروری ہیں اور یہ سبھی پاکستان کی ٹیم میں بھی ہیں۔

      بہترین اوپننگ جوڑی

      پاکستانی اننگ کی شروعات کا ذمہ کپتان بابر اعظم (Babar Azam) خود سنبھالتے ہیں۔ ان کے جوڑی دار ہوتے ہیں محمد رضوان۔ یہ جوڑی ابھی تک سپرہٹ رہی ہے۔ دونوں سلامی بلے باز غضب کی فارم میں ہیں۔ بابر اعظم تین میچ میں 128 اور محمد رضوان (Rizwan) اتنے ہی میچ میں 120 رن بناچکے ہیں۔ کرکٹ مداح بھولے نہیں ہوں گے کہ ان دونوں کی بلے بازی کی بدولت ہی پاکستان نے ہندوستان کو 10 وکٹ سے شکست دی تھی۔ بابر اعظم کی گزشتہ تین اننگ ناٹ آوٹ، 9 اور 15 رن کی رہی ہیں۔ ان کے نام سب سے تیزی سے 2000 ٹی-20 رن بنانے کا عالمی ریکارڈ ہے۔ محمد رضوان نے گزشتہ تین اننگوں میں 79 رن ناٹ آوٹ، 33 رن اور 8 رن بنائے ہیں۔

      ایک نہیں دو دو فنیشر

      اوپنر کسی بھی ٹیم کو بہترین شروعات دیتے ہیں۔ بہترین بنیاد رکھتے ہیں، لیکن اگر مڈل آرڈر میں بھروسے مند بلے باز نہیں ہیں تو ایک دو میچ تو جیتے جاسکتے ہیں، ٹورنامنٹ نہیں۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہی کہی جاسکتی ہے کہ اس کا مڈل آرڈر نہ صرف فارم میں ہیں، بلکہ اس کے پاس بہترین فنیشر بھی ہیں۔ وہ بھی ایک نہیں، دو دو۔ پاکستان کو اگر ہندوستان کے خلاف سلامی بلے باز بابر اعظم اور محمد رضوان نے جتایا تو نیوزی لینڈ اور افغانستان کے خلاف شعیب ملک اور آصف علی نے ہدف تک پہنچایا۔ آصف علی نے اس ٹورنا منٹ میں محض 19 گیندوں کا سامنا کیا ہے اور 7 چھکے لگا دیئے ہیں۔ شعیب ملک نیوزی لینڈ کے خلاف ناٹ آوٹ لوٹے اور افغانستان کے خلاف میچ جتانے والی پارٹنرشپ کرکے پویلین لوٹے۔

      بہترین آل راونڈر

      تاریخ گواہ ہے کہ بنا بہترین آل راونڈر کے کوئی بھی ٹیم عالمی کپ نہیں جیت سکی ہے۔ بابر اعظم کی پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں 2 آل راونڈر کے ساتھ میدان پر اتر رہی ہے۔ اس کے پاس عماد وسیم (Imad Wasim) جیسا گیند بازی آل راونڈر ہے۔ بائیں ہاتھ کے اس اسپنر پر بابر اعظم کو کتنا یقین ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ہندوستان کے خلاف عماد وسیم سے اوپننگ گیند بازی کرا دی تھی۔ ٹیم کے دوسرے آل راونڈر تجربہ کار محمد حفیظ (Mohammad Hafeez) ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: