ہوم » نیوز » اسپورٹس

پاکستان کے عظیم اسپنر نے 1900 سے زیادہ وکٹ لئے، فکسنگ میں پھنسے، قومی ٹیم کے کوچ بھی بنے

HBD Mushtaq Ahmed: مشتاق احمد (Mushtaq Ahmed) پاکستان کے عظیم لیگ اسپنر گیند باز مانے جاتے تھے۔ وہ 1992 عالمی کپ (World Cup) جیتنے والی ٹیم میں بھی شامل تھے۔ کرکٹ میں زبردست گیند بازی کی بدولت 1900 سے زیادہ وکٹ لینے والے مشتاق احمد آج پاکستانی ٹیم کے اسپن گیند بازی کوچ ہیں۔

  • Share this:
پاکستان کے عظیم اسپنر نے 1900 سے زیادہ وکٹ لئے، فکسنگ میں پھنسے، قومی ٹیم کے کوچ بھی بنے
پاکستان کے عظیم اسپنر نے 1900 سے زیادہ وکٹ لئے، فکسنگ میں پھنسے، قومی ٹیم کے کوچ بھی بنے

نئی دہلی: مشتاق احمد (Mushtaq Ahmed) پاکستان کے عظیم لیگ اسپنر گیند باز مانے جاتے تھے۔ وہ 1992 عالمی کپ (World Cup) جیتنے والی ٹیم میں بھی شامل تھے۔ آج ہی کے دن 28 جون 1970 کو ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ حالانکہ کیریئر کے دوران ان پر فکسنگ کے الزام بھی لگے اور جرمانہ بھی لگایا گیا۔ کرکٹ میں زبردست گیند بازی کی بدولت 1900 سے زیادہ وکٹ لینے والے مشتاق احمد آج پاکستانی ٹیم کے اسپن گیند بازی کوچ ہیں۔


مشتاق احمد نے 16 سال کی عمر میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کرلیا تھا۔ ملتان کی طرف سے شاندار کارکردگی کرنے کے بعد پاکستان کی انڈر-19 ٹیم میں جگہ ملی۔ ٹیم 1988 عالمی کپ کے فائنل تک پہنچی۔ حالانکہ اسے فائنل میں آسٹریلیا سے شکست ملی۔ مشتاق احمد یہاں 19 وکٹ لے کر مشترکہ طور پر ٹاپ پر رہے۔ گھریلو سیزن میں مسلسل اچھی کارکردگی کرنے کے بعد انہیں انٹرنیشنل ڈیبیو کا موقع ملا۔


مشتاق احمد 1990 میں میچ فکسنگ میں پھنسے تھے۔ ان پر آسٹریلیا کے خلاف جان بوجھ کر میچ ہرانے کا الزام لگا۔ اس کے بعد ان پر 3500 پاونڈ کا جرمانہ لگایا گیا۔
مشتاق احمد 1990 میں میچ فکسنگ میں پھنسے تھے۔ ان پر آسٹریلیا کے خلاف جان بوجھ کر میچ ہرانے کا الزام لگا۔ اس کے بعد ان پر 3500 پاونڈ کا جرمانہ لگایا گیا۔


1989 میں ونڈے سے کیا تھا آغاز

23 مارچ 1989 کو انہیں انٹرنیشنل ڈیبیو کا موقع ملا۔ سری لنکا کے خلاف ونڈے مقابلہ میں انہوں نے 33 رن دے کر دو وکٹ لئے۔ پاکستان نے یہ میچ 30 رن سے جیتا تھا۔ 1990 میں انہیں ٹسٹ ڈیبیو کا موقع مل گیا۔ 1992 عالمی کپ میں مشتاق احمد نے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے 16 وکٹ لئے۔ وہ صرف وسیم اکرم سے پیچھے تھے۔ 1995 سے 1998 کے درمیان ہر ٹسٹ سیریز میں انہیں کم از کم 10 وکٹ حاصل کئے۔

1990 میں میچ فکسنگ میں پھنسے تھے

مشتاق احمد 1990 میں میچ فکسنگ میں پھنسے تھے۔ ان پر آسٹریلیا کے خلاف جان بوجھ کر میچ ہرانے کا الزام لگا۔ اس کے بعد ان پر 3500 پاونڈ کا جرمانہ لگایا گیا۔ اتنا ہی نہیں ان پر پاکستانی ٹیم کا کپتان بنائے جانے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ اس معاملے کی جانچ کر رہے افسر نے کہا تھا کہ مشتاق کے خلاف مناسب ثبوت ہیں۔ انہوں نے 309 فرسٹ کلاس میچ میں 1407 وکٹ حاصل کئے۔ 104 بار پانچ اور 32 بار 10 وکٹ لینے کا کارنامہ کیا۔ اس میں 52 ٹسٹ میں لئے 185 وکٹ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 144 ونڈے میں 161 اور لسٹ اے کے 381 میچ میں 461 وکٹ حاصل کئے۔ انہوں نے 29 ٹی-20 میں 42 وکٹ حاصل کئے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 28, 2021 05:10 PM IST