உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فلائٹ میں نماز پر ہنگامہ، کھڑکی پر مارے لات گھونسے، زبردستی سیٹ پر باندھا، پھر ہوا یہ۔۔۔

    واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے جہاں لوگ پاکستانیوں کا مذاق اڑانے سے نہیں چوک رہے ہیں۔

    واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے جہاں لوگ پاکستانیوں کا مذاق اڑانے سے نہیں چوک رہے ہیں۔

    واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے جہاں لوگ پاکستانیوں کا مذاق اڑانے سے نہیں چوک رہے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      اسلام آباد۔ پاکستان میں ایک مسافر کو پرواز کے دوران زمین پر لیٹ کر نماز پڑھنے، کھڑکیوں کے شیشے پر لاتیں مارنے اور ساتھی مسافروں کے ساتھ پرتشدد احتجاج کرنے پر بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے جہاں لوگ پاکستانیوں کا مذاق اڑانے سے نہیں چوک رہے ہیں۔ پاکستانی چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق یہ واقعہ 14 ستمبر کو پیش آیا، جب پشاور سے دبئی کے درمیان پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی پرواز میں ایک مسافر نے عجیب و غریب حرکت کرنا شروع کردی۔

      پی آئی اے کی پرواز پی کے 283 میں سیٹوں پر مکے مارنے اور طیارے کی کھڑکی کو لات مارنے جیسی عجیب حرکتیں کرنے پر مسافر فلائٹ کے عملے کے ساتھ جم کر بحث کی۔ اس کے ساتھ ہی مسافر نے طیارے کی کھڑکی کو توڑنے کی کوشش میں اسے نقصان پہنچایا۔ پاکستانی نیوز چینل کے مطابق کھڑکی توڑنے کی کوشش کے بعد مسافر نماز پڑھنے کے لیے ہوائی جہاز کے فرش پر منہ کے بل لیٹ گیا۔ مسافر کی حرکتیں دیکھ کر جب عملے نے مسافر کو زبردستی بٹھانے کی کوشش کی تو اس نے ان پر حملہ کردیا۔


      سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال دماغی صحت کیلئے 'سلو پوائزن' ہے، تحقیق میں بڑا انکشاف

      مشہور TikToker کا سنسنی خیز انکشاف، ماں اور بہن کے ساتھ شوہر کو سلاتی ہوں، اور ہوچھا یہ۔۔۔

      اے آر وائی نیوز نے بتایاکیا کہ مسافر کو ہوا بازی کے قوانین کے مطابق اس کی سیٹ سے باندھ دیا گیا  تھا تاکہ صورتحال کو قابو میں کیا جا سکے اور معاملے کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ دبئی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے بعد مسافر کو سکیورٹی حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے جنہیں فلائٹ کے کپتان نے واقعے کی اطلاع دی۔ پی آئی اے حکام کے مطابق مسافر کو بعد میں ایئر لائنز نے بلیک لسٹ کر دیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: