உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Asia Cup 2022: پاکستان پر بھاری پڑ گیا کرکٹ کا نیا ضابطہ، ہندوستان نے اٹھایا جم کر فائدہ

    Asia Cup 2022: پاکستان پر بھاری پڑ گیا کرکٹ کا نیا ضابطہ

    Asia Cup 2022: پاکستان پر بھاری پڑ گیا کرکٹ کا نیا ضابطہ

    India vs Pakistan: ہندوستان کے خلاف دلچسپ مقابلے میں پاکستان کرکٹ ٹیم اور بابر اعظم کو آئی سی سی کا ایک نیا ضابطہ بھاری پڑ گیا ہے۔ آئی سی سی کے نئے ضابطے کی چپیٹ میں ہندوستانی کپتان روہت شرما بھی آئے تھے۔ وقت رہتے ہوئے بابر اعظم اگر روہت شرما کی غلطی سے نصیحت حاصل کرتے تو پاکستان کو جیت مل سکتی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: ہاردک پانڈیا کی طوفانی اننگ اور رویندر جڈیجہ کی محتاط اننگ کی بدولت ہندوستان نے ایشیا کپ 2022 میں پاکستان پر دلچسپ جیت درج کی۔ پاکستان نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ٹیم انڈیا کے سامنے 148 رنوں کا ہدف رکھا۔ سانس روک دینے والے اس مقابلے میں ہندوستان کو 2 گیند باقی رکھتے ہوئے جیت ملی۔ اس مقابلے میں ہندوستان کے کپتان روہت شرما اور پاکستان کے کپتان بابر اعظم دونوں ہلکے دباو میں نظر آئے۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں ٹیموں کو آئی سی سی نے نئے ضابطے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ دراصل، ہندوستان اور پاکستان کے گیند باز مقررہ وقت میں 20 اوور ڈالنے میں کامیاب رہے۔ اس کا اثر میچ کے نتیجے پر بھی پڑا۔

      آئیے پہلے جانتے ہیں کیا ہے آئی سی سی کا نیا ضابطہ

      آئی سی سی نے نئے ضابطے کے مطابق، گیند بازی کرنے والی ٹیم کو ہر حال میں طے وقت کے اندر اپنے کوٹے کے اوور پورے کرنے ہوں گے۔ اگر ٹیم اوور ریٹ میں مقررہ وقت سے پیچھے رہتی ہے تو باقی بچے اوور میں اس کا ایک فیلڈر 30 گز کے دائرے سے باہر نہیں کھڑا ہو پائے گا۔ اسے اندر ہی رہنا ہوگا۔ اس ضابطے سے گیند بازی کرنے والی ٹیم کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ فی الحال پاور پلے (پہلے 6 اوور) کے بعد 30 گز کے سرکل کے باہر 5 فیلڈر رہتے ہیں، لیکن نئے ضابطوں کے بعد صرف  4 فیلڈر ہی گھیرے کے باہر رہ پائیں گے۔ یہ ضابطہ 16 جنوری 2022 سے نافذ ہے۔

      آخری اووروں میں سلو اوور ریٹ کے سبب روہت شرما کو ایک فیلڈر 30 گز کے اندر لانا پڑا۔
      آخری اووروں میں سلو اوور ریٹ کے سبب روہت شرما کو ایک فیلڈر 30 گز کے اندر لانا پڑا۔


      روہت شرما بھی نئے ضابطے کے پھیرے میں پھنسے

      پاکستان کی ٹیم ایک وقت 17 اوور میں سات وکٹ کے نقصان پر 114 رن بناکر جدوجہد کر رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ٹیم 135 کا اسکور بھی نہیں بنا پائے گی، لیکن آخری اووروں میں سلو اوور ریٹ کے سبب روہت شرما کو ایک فیلڈر 30 گز کے اندر لانا پڑا۔ اس کے بعد پاکستان پچھلے بلے باز آخری 17 گیندوں میں 33 رن بنانے میں کامیاب رہے۔

      آخری تین اوور میں بابر اعظم کو ایک فیلڈر سرکل کے اندر لانا پڑا۔
      آخری تین اوور میں بابر اعظم کو ایک فیلڈر سرکل کے اندر لانا پڑا۔


      بابر اعظم کو بھی لگا گہرا جھٹکا

      پاکستان کی ٹیم مقررہ وقت میں 17 اوور ہی پھینک سکی تھی۔ اس کے بعد آخری تین اوور میں بابر اعظم کو ایک فیلڈر سرکل کے اندر لانا پڑا۔ یہیں سے برابری پر چل رہا میچ ہندوستان کے حق میں جھک گیا۔ ہندوستان کو آخری 18 گیندوں میں 32 رن چاہئے تھا۔ نسیم شاہ 18واں اوور ڈالنے آئے تو ان کے اوور میں ہاردک پانڈیا-رویندر جڈیجہ نے 11 رن جوڑے۔

      اب ہندوستان کو 12 گیندوں میں 21 رنوں کی ضرورت تھی۔ بابر اعظم نے 19ویں اوور میں پاکستان کے سب سے تجربہ کار گیند باز حارث روف کو گیند سونپی۔ ہاردک پانڈیا نے حارث روف کو تین چوکے لگائے۔ ہندوستان 14 رن بنانے میں کامیاب رہا۔ آخری اوور میں ہاردک پانڈیا نے اسپنر محمد نواز کی گیند پر چھکا لگاکر ہندوستان کو جیت دلا دی۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: