உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’خواتین فٹبالروں نے شارٹس پہنے، لیکن لیگنگ نہیں‘ گھٹیا سوال پوچھنے پر سوالوں کے زد میں پاکستانی صحافی

    پاکستان نے 14 ستمبر کو کھیلے گئے میچ میں مالدیپ کو 7 گول سے ہرا دیا تھا۔

    پاکستان نے 14 ستمبر کو کھیلے گئے میچ میں مالدیپ کو 7 گول سے ہرا دیا تھا۔

    Pakistan Women Football: کٹھمنڈو میں ختم ہوئے سیف چمپئن شپ میں 14 ستمبر کو کھیلے گئے ایک میچ میں پاکستان نے مالدیپ کو ریکارڈ سات گول سے ہرایا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      کٹھمنڈو: پاکستان خواتین فٹبال ٹیم کے منیجر سے ایک عجیب سوال پوچھنے کے بعد ایک پاکستانی صحافی کی تنقید ہو رہی ہے۔ دراصل، اس نے پوچھا تھا کہ کھلاڑیوں نے فٹبال کھیلتے وقت شارٹس پہنے، لیکن لیگنگ کیوں نہیں پہنی۔ کٹھمنڈو میں ختم ہوئے سیف چمپئن شپ میں 14 ستمبر کو کھیلے گئے ایک میچ میں پاکستان کے ذریعہ مالدیپ کو سات گول سے ہرانے کے فوراً بعد ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ اعتراض ظاہر کیا۔

      ایک لمبے وقفے کے بعد کسی بین الاقوامی ٹورنا منٹ میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم کے لئے یہ گزشتہ آٹھ سالوں میں سیف چمپئن شپ میں ان کی پہلی جیت تھی، لیکن ٹورنا منٹ کو کور کرنے والے رپورٹر نے جیت کی بجائے کھلاڑیوں کی کٹ پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ پسند کیا۔



      میچ کے بعد پریس کانفرنس میں رپورٹر نے ٹیم کے منیجر اور دیگر افسران سے پوچھا، ‘جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم اسلامک ری پبلک آف پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں، جو ایک اسلامی ملک ہے، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ لڑکیاں شارٹس کیوں پہن رہی ہیں، جبکہ لیگنگ نہیں‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      ٹی20 عالمی کپ: شعیب ملک کو پاکستانی ٹیم سے باہر کرنے پر شاہد آفریدی کا سوال

      یہ بھی پڑھیں۔
      پاکستان کو ٹی20 عالمی کپ سے پہلا لگا بڑا جھٹکا، 3 کھلاڑی زخمی، 2 کو تو انگلینڈ جانا پڑا

      سات میں سے چار گول کرنے کے لئے برطانوی-پاکستانی فٹبالر نادیہ خان کی تعریف کرتے ہوئے کئی لوگوں نے کھلاڑیوں کی حصولیابیوں کے بجائے ان کے کپڑوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے رپورٹر پر تنقید کی۔ قومی ٹیم کے کوچ عادل رزقی نے اس سوال سے حیران ہوکر کہا کہ کھیلوں میں ‘سبھی کو ترقی پسند ہونا چاہئے‘۔ انہوں نے کہا، ’جہاں تک جرسی کا سوال ہے، ہم نے کبھی کسی کو روکنے کی کوشش نہیں کی، یہ کچھ ایسا ہے، جس پر ہمارا کنٹرول نہیں ہے‘۔

      وائرل ہوئے ویڈیو نے رپورٹر کے سوال سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔ ٹی وی ہوسٹ اور آرجے انوشے اشرف، اسکواش کھلاڑی نورینا شمس اور کئی دیگر لوگ کھلاڑی کی حمایت میں سامنے آئے اور رپورٹ کو اس کی ‘خراب ذہنیت‘ کے لئے اس پر حملہ بولا۔ دیگر لوگوں نے بھی رپورٹر کی تنقید کی اور کہا کہ اگر انہیں کھلاڑیوں کو شارٹس میں دیکھنے میں پریشانی ہے، تو انہیں اس پروگرام کو کور نہیں کرنا چاہئے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: