ہوم » نیوز » اسپورٹس

پاکستان کے سابق سلامی بلے باز کا دعویٰ- ٹی- 20 عالمی کپ اکیلا ہی جتا سکتا تھا

پاکستان کے سابق سلامی بلے باز عمران نذیر نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ میں فائنل میچ میں اچھا کھیل رہا تھا، لیکن بدقسمتی سے رن آؤٹ ہوگیا اور میچ ہمارے ہاتھ سے نکلتا چلا گیا، مجھے اس پر آج بھی افسوس ہے۔

  • Share this:
پاکستان کے سابق سلامی بلے باز کا دعویٰ- ٹی- 20 عالمی کپ اکیلا ہی جتا سکتا تھا
عمران نذیر نے کہا- ٹی 20 عالمی کپ اکیلا ہی جتا سکتا تھا

لاہور: پاکستانی ٹیم کے سابق جارح مزاج سلامی بلے باز عمران نذیر کا کہنا ہے کہ میں 2007 کا ٹی- 20 ورلڈ کپ اکیلا ہی جتا سکتا تھا۔ تفصیلات کے مطابق ٹیم کے سابق اوپنر بیٹسمین عمران نذیر نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ میں فائنل میچ میں اچھا کھیل رہا تھا لیکن بدقسمتی سے رن آؤٹ ہوگیا اور میچ ہمارے ہاتھ سے نکلتا چلا گیا، مجھے اس پر آج بھی افسوس ہے۔ 38 سالہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ فائنل جیتنا چاہئے تھا، کرکٹ کے حوالے سے یہ میری زندگی کا سب سے افسوس ناک لمحہ رہے گا، یہ میری آخری سانس تک تکلیف دیتا رہے گا، ہمیں تاریخ تخلیق کرنے کا موقع ملا تھا لیکن بدقسمتی سے ہار گئے۔


پاکستان کے سابق سلامی بلے باز عمران نذیر نے کہا کہ فائنل میں اچھی شروعات اور ٹھوس شراکت قائم کی تھی، لیکن اہم بات یہ ہے کہ آپ میچ کو ختم کیسے کرتے ہیں۔ ہم میچ کا اختتام جیت پر نہ کرسکے، ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہے، یہ ایک بہت بڑا ٹورنامںٹ تھا۔ فائل فوٹو
پاکستان کے سابق سلامی بلے باز عمران نذیر نے کہا کہ فائنل میں اچھی شروعات اور ٹھوس شراکت قائم کی تھی، لیکن اہم بات یہ ہے کہ آپ میچ کو ختم کیسے کرتے ہیں۔ ہم میچ کا اختتام جیت پر نہ کرسکے، ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہے، یہ ایک بہت بڑا ٹورنامںٹ تھا۔ فائل فوٹو


واضح رہے کہ 2007 کے ورلڈ کپ فائنل میں ایم ایس دھونی کی قیادت میں ہندوستان نے پاکستان کے خلاف 5 رن سے کامیابی حاصل کی تھی۔ سابق اوپنر عمران نذیر نے کہا کہ فائنل میں اچھی شروعات اور ٹھوس شراکت قائم کی تھی، لیکن اہم بات یہ ہے کہ آپ میچ کو ختم کیسے کرتے ہیں۔ ہم میچ کا اختتام جیت پر نہ کرسکے، ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہے، یہ ایک بہت بڑا ٹورنامںٹ تھا۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 01, 2020 05:09 PM IST