ہوم » نیوز » اسپورٹس

محمد عامر نے کہا- پاکستانی ڈریسنگ روم کا ماحول خوفناک، مصباح الحق - وقار یونس آگ بگولہ

پاکستان کے تیز گیند باز محمد عامر (Mohammad Amir) نے کہا ہے کہ چیف کوچ مصباح الحق اور گیند بازی کوچ وقار یونس نے انہیں ذہنی طور پر پریشان کیا ہے۔

  • Share this:
محمد عامر نے کہا- پاکستانی ڈریسنگ روم کا ماحول خوفناک، مصباح الحق - وقار یونس آگ بگولہ
محمد عامر نے کہا- پاکستانی ڈریسنگ روم کا ماحول خوفناک، مصباح الحق - وقار یونس آگ بگولہ

نئی دہلی: پاکستانی ٹیم منیجمنٹ سے اختلاف کے سبب حال ہی میں بین الاقوامی کرکٹ کو ریٹائرمنٹ لینے والے سابق تیز گیند باز محمد عامر (Mohammad Amir) نے پاکستانی کرکٹ ٹیم میں ’خوفناک’ ڈریسنگ روم روایت پر لگانے کسنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے میڈیا سے کہا، ’کھلاڑیوں کو کچھ آزادی دیجئے۔ ڈریسنگ روم میں اس خوفناک ماحول پر لگام لگائیے، کیونکہ یہی کھلاڑی آپ کو میچوں میں جیت دلاتے ہیں’۔


محمد عامر نے گزشتہ ماہ یہ الزام لگاتے ہوئے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا کہ قومی ٹیم کی انتظامیہ نے انہیں ذہنی طور پر پریشان کیا ہے، جس میں چیف کوچ مصباح الحق اور گیند بازی کوچ وقار یونس شامل ہیں۔ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز نے کہا کہ انہیں ٹیم سے ان کی کارکردگی کی وجہ سے نہیں بلکہ ذاتی موضوعات کے سبب باہر کیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’موضوع کارکردگی کی نہیں تھی، میں جانتا ہوں کہ میں مضبوط واپسی کرسکتا ہوں، لیکن یہ اس ذہنی پریشانی کی بات ہے، جس سے وہ آپ گزارتے ہیں’۔


محمد عامر نے کہا کہ اگر کوچ کارکردگی کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں 21 وکٹ لینے کے آئندہ دن ہی انہیں باہر کیوں کر دیا گیا۔ انہوں نے پوچھا، ’اگر یہ ذاتیات پر مبنی موضوع نہیں ہے تو یہ کیا ہے’۔ محض 28 سال کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ کو الوداع کہنے والے محمد عامر نے پاکستان کے لئے 36 ٹسٹ، 61 ونڈے اور 50 ٹی -20 میچ کھیلے ہیں۔ محمد عامر نے 119 ٹسٹ وکٹ، 81 ونڈے وکٹ اور 59 ٹی -20 وکٹ حاصل کیا ہے۔


ریٹائرمنٹ لینے کے بعد محمد عامر نے کہا تھا، ’مجھے نہیں لگتا ہے کہ میں اس منیجمنٹ میں کرکٹ کھیل سکتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس بار مجے کرکٹ چھوڑ دینا چاہئے۔ میرا ذہنی طور سے استحصال ہو رہا ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ میں اس استحصال کو اور زیادہ جھیل سکتا ہوں۔ میں نے 2010 سے 2015 تک کافی استحصال برداشت کیا ہے، میں کھیل سے دور تھا اور یہی میری غلطی کی سزا ہے۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 15, 2021 10:14 AM IST