உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کرکٹ میں آیا بھونچال، رمیز راجہ سے چھینی گئی چیئرمین کی کرسی: رپورٹ

    پاکستان کرکٹ میں آیا بھونچال، رمیز راجہ سے چھینی گئی چیئرمین کی کرسی

    پاکستان کرکٹ میں آیا بھونچال، رمیز راجہ سے چھینی گئی چیئرمین کی کرسی

    Ramiz raja Removed: پاکستان کرکٹ بورڈ میں گزشتہ کئی دنوں سے بڑی تبدیلی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے عہدے سے ہٹنے کے بعد سے ہی بورڈ میں اتھل پتھل چل رہا تھا۔

    • Share this:
      لاہور: رمیز راجہ (Ramiz Raja) کو لے کر پاکستان کی حکومت نے بڑا فیصلہ لیا ہے۔ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے چیئرمین عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پاکستان میں نئی حکومت بننے کے بعد سے ہی رمیز راجہ کے عہدے کو لے کر تعطل کی صورتحال تھی۔ گزشتہ دنوں سابق وزیراعظم عمران خان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

      شہباز شریف (Shahbaz Sharif) نئے وزیر اعظم بنے ہیں۔ حالانکہ رمیز راجہ عہدے پر بنے رہنا چاہتے تھے۔ انہوں نے چیف رہتے ہوئے کئی بڑے فیصلے لینے کی کوشش کی۔ وہ ہندوستان اور پاکستان سمیت 4 ممالک کا ٹورنا منٹ کرانا چاہتے تھے۔ اس کا انہوں نے خاکہ بھی تیار کرلیا تھا، لیکن آئی سی سی نے ان کے اس فیصلے کوخارج کردیا تھا۔

      جیو نیوز کی خبر کے مطابق، نئے چیئرمین کے لئے شہباز شریف کی طرف سے دو نئے کے نام کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ اس میں نجم سیٹھی اور شکیل شیخ کا نام شامل ہے۔ اس سے پہلے رمیز راجہ نے بورڈ کے ملازمین سے کہا تھا کہ انہیں حکومت کی طرف سے کام کرنے کے لئے ہری جھنڈی مل گئی ہے۔ عمران خان کے جانے کے بعد اب بورڈ کے سابق اراکین کا ایک گروپ گھریلو کرکٹ کے پرانے فارمیٹ میں واپس جانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اسے لے کر بھی کوئی فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔

      2 تہائی اکثریت ضروری

      حالانکہ چیئرمین کو ہٹانے کے لئے  گورننگ بورڈ ہی فیصلہ کرتا ہے۔ اس کے مطابق، دو تہائی اکثریت کے بعد ہی اسے ہٹایا جاسکتا ہے۔ تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ میں ہمیشہ حکومت کی مداخلت رہی ہے۔ اس سے قبل 2018 میں جب عمران خان وزیر اعظم بنے تھے، تب نجم سیٹھی نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد احسان مانی کو یہ عہدہ ملا تھا۔ گزشتہ دنوں آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی۔ کنگارو ٹیم 24 سال بعد یہاں دوطرفہ سیریز کھیلنے آئی تھی۔ اس میں رمیز راجہ کا رول اہم مانا جاتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: