உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رمیز راجہ گال میں پاکستانی ٹیم کی جیت سے خوش، یاد آیا 1987 میں ہندوستان کو ہرانے والا دن

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر رمیز راجہ نے گال ٹسٹ میں سری لنکا کے خلاف حالیہ جیت کو 1987 میں ہندوستان کے خلاف بنگلورو ٹسٹ میں ملی تاریخی جیت کے برابر قرار دیتے ہوئے ٹیم کی تعریف کی ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر رمیز راجہ نے گال ٹسٹ میں سری لنکا کے خلاف حالیہ جیت کو 1987 میں ہندوستان کے خلاف بنگلورو ٹسٹ میں ملی تاریخی جیت کے برابر قرار دیتے ہوئے ٹیم کی تعریف کی ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر رمیز راجہ نے گال ٹسٹ میں سری لنکا کے خلاف حالیہ جیت کو 1987 میں ہندوستان کے خلاف بنگلورو ٹسٹ میں ملی تاریخی جیت کے برابر قرار دیتے ہوئے ٹیم کی تعریف کی ہے۔

    • Share this:
      کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے چیئرمین رمیز راجہ (Ramiz Raja) نے گالے ٹسٹ میں سری لنکا کے خلاف حالیہ جیت کو 1987 میں ہندوستان کے خلاف بنگلورو ٹسٹ میں ملی تاریخی جیت کے برابر قرار دیتے ہوئے ٹیم کی تعریف کی۔ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف دو ٹسٹ کی سیریز کے ابتدائی مقابلے میں جیت کے لئے ملے 342 رنوں کے ہدف کو میچ کے پانچویں دن حاصل کرکے تاریخ رقم کر دی۔ ٹیم نے گالے میں چوتھی اننگ میں سب سے بڑے ہدف کو حاصل کرنے کے ساتھ سیریز میں 0-1 کی سبقت قائم کی۔

      رمیز راجہ نے پاکستان کے ایک نیوز چینل سے کہا، ’مشکل حالات کے نظریے سے میں کہوں گا کہ ہدف کا تعاقب کرنے کے معاملے میں یہ پاکستان کی سب سے بہترین ٹسٹ جیت میں سے ایک ہے۔ مشکل حالات کے ضمن میں میں کہوں گا کہ گالے ٹسٹ کی جیت اس جیت کے برابر ہے، جو ہم نے بنگلورو میں ہندوستان کے خلاف اسپنروں کی مددگار پچ پر حاصل کی تھی‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      جڈیجہ کے نشانے پر کپل دیو کا بڑا ریکارڈ، پڑھیں ODI میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کن 5 ہندوستانی نے حاصل کئے سب سے زیادہ وکٹ

      سابق ٹسٹ کپتان رمیز راجہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور سابق کپتان عمران خان کی قیادت والی اس ٹیم کا حصے تھے، جس نے 1987 مین بنگلورو میں کم اسکور والے ٹسٹ میں ہندوستان کو شکست دی تھی۔ پاکستان نے اس ٹسٹ کو 16 رن سے جیتا تھا۔ رمیز راجہ نے کہا کہ بابر اعظم کو پوری چھوٹ ملنے سے مضبوط ٹیم کی تشکیل میں مدد ملی۔

      انہوں نے کہا کہ ‘یہ ٹیم ان کی جائیداد ہے اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ وہ کپتان کے طور پر اور ٹیم کے دوسرے کھلاڑی کارکردگی کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا، ’میں صدر کے طور پر ٹیم کے معاملوں میں مداخلت کرسکتا ہوں، لیکن میں نے کبھی ایسا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہم نے بابر اعظم کو کھلی چھوٹ دی ہے اور انہوں نے ایک اچھی ٹیم بنائی ہے‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: