உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بیٹی کے جنم اور 24 گھنٹے میں ہی موت کی خبر، آخری رسوم ادا کرکے میدان پر لوٹا Team India کا یہ کھلاڑی، پھر لگائی سنچری، لیکن نہیں منایا جشن۔۔۔

     پہلے بیٹی کی آخری رسومات ادا کیں، پھر دوسری ذمہ داری نبھانے میدان پر لوٹے۔ اپنی بیٹی کی موت سے بری طرح ٹوٹے ہوئے سولنکی نے چنڈی گڑھ کے خلاف میدان میں کہرام مچا دیا دیا۔

    پہلے بیٹی کی آخری رسومات ادا کیں، پھر دوسری ذمہ داری نبھانے میدان پر لوٹے۔ اپنی بیٹی کی موت سے بری طرح ٹوٹے ہوئے سولنکی نے چنڈی گڑھ کے خلاف میدان میں کہرام مچا دیا دیا۔

    پہلے بیٹی کی آخری رسومات ادا کیں، پھر دوسری ذمہ داری نبھانے میدان پر لوٹے۔ اپنی بیٹی کی موت سے بری طرح ٹوٹے ہوئے سولنکی نے چنڈی گڑھ کے خلاف میدان میں کہرام مچا دیا دیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: بڑودہ کے بلے باز وشنو سولنکی ( Vishnu Solanki) نے رنجی ٹرافی  (Ranji Trophy) کے ایک میچ میں بلے سے کہرام مچاتے ہوئے سنچری بنائی۔ دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے تک وہ 131 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ تھے۔ ان کی اسناننگز کے دم پر  بڑودہ کی ٹیم 400 رنز کے قریب پہنچ گئی۔ سنچری بنانے کے بعد وشنو نے کوئی جشن نہیں منایا۔ شاید ان کا جسم میدان میں تھا، لیکن من بیٹی کے  پاس تھا۔ جو اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ انہوں نے گزشتہ دنوں  میں اپنی دونوں ذمہ داریاں نبھائیں۔ ایک باپ اور ایک کھلاڑی دونوں کی ذمہ داری ادا کی۔

      پہلے بیٹی کی آخری رسومات ادا کیں، پھر دوسری ذمہ داری نبھانے میدان پر لوٹے۔ اپنی بیٹی کی موت سے بری طرح ٹوٹے ہوئے سولنکی نے چنڈی گڑھ کے خلاف میدان میں کہرام مچا دیا۔ کھیل کے دوسرے دن وہ پانچویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے میدان میں آئے اور دوسرے دن ناٹ آؤٹ لوٹے۔ انہوں نے 161 گیندوں پر 12 چوکوں کی مدد سے ناٹ آؤٹ  103 رنز بنائے۔  کچھ دن   قبل اس بلے باز نے اپنی نوزائیدہ بیٹی کو کھو دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے بیٹی کی آخری رسومات میں شرکت کی اور پھر ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے دوبارہ کرکٹ کے میدان پر آگئے۔




      اصل زندگی کے ہیرو وشنو سولنکی'
      ہر کوئی سولنکی کو سلام کر رہا ہے۔ سوراشٹرا کے وکٹ کیپر بلے باز شیلڈن جیکسن نے ٹویٹ کیا کہ وشنو اور ان کے خاندان کو سلام۔ یہ کسی بھی طرح سے آسان نہیں ہے۔ مزید کئی سنچریاں اور کامیابی کے لیے نیک خواہشات۔



      بڑودہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے سی ای او ششیر ہٹنگڈی نے لکھا کہ ایک کرکٹر کی کہانی، جس نے کچھ دن پہلے اپنی بیٹی کو کھو دیا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کی آخری رسومات ادا کیں اور واپس آکر اپنی ٹیم کی نمائندگی کی اور سنچری اسکور کی۔ ان کا نام سوشل میڈیا پر شاید 'لائکس' نہیں لائے، لیکن میرے لیے وشنو سولنکی اصل زندگی کے ہیرو ہیں۔

      ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق سولنکی کو بیٹی کی پیدائش کی خبر 11 فروری کی آدھی رات کو ملی لیکن 24 گھنٹے کے اندر ہی انہیں بیٹی کی موت کی خبر ملی گئی۔ وہ اس وقت ٹیم کے ساتھ بھونیشور میں تھے۔ وہ اپنی بیٹی کی آخری رسوم میں شرکت کے لیے وڈودرا  کیلئے اڑان بھری اور 3 دن کے اندر واپس ٹیم میں شامل ہوگئے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: