உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پہلے بیٹی کی موت اور اب میچ کے آخری دن ٹیم انڈیا کے بلے باز کو ملی والد کے موت کی خبر، ویڈیو کال پر دیکھا والد کا جنازہ

     انہیں یہ خبر ٹیم منیجر نے دی، جنہوں نے سولنکی کو ڈریسنگ روم میں بلایا، پھر والد کی موت کے بارے میں بتایا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق وشنو نے ویڈیو کال پر ڈریسنگ روم کے ایک کونے میں بیٹھ کر والد کی آخری رسوم کو ادا ہوتے ہوئے دیکھا۔

    انہیں یہ خبر ٹیم منیجر نے دی، جنہوں نے سولنکی کو ڈریسنگ روم میں بلایا، پھر والد کی موت کے بارے میں بتایا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق وشنو نے ویڈیو کال پر ڈریسنگ روم کے ایک کونے میں بیٹھ کر والد کی آخری رسوم کو ادا ہوتے ہوئے دیکھا۔

    انہیں یہ خبر ٹیم منیجر نے دی، جنہوں نے سولنکی کو ڈریسنگ روم میں بلایا، پھر والد کی موت کے بارے میں بتایا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق وشنو نے ویڈیو کال پر ڈریسنگ روم کے ایک کونے میں بیٹھ کر والد کی آخری رسوم کو ادا ہوتے ہوئے دیکھا۔

    • Share this:
      بڑودہ کے کرکٹر وشنو سولنکی (vishnu solanki) کے جذبے کو پورا ملک سلام کر رہا ہے۔ سولنکی (Ranji Trophy) فی الحال بھونیشور میں رنجی ٹرافی (Ranji Trophy) کھیل رہے ہیں اور انہوں نے چندی گڑھ کے خلاف سنچری بنائی۔ ان کی سنچری بہت خاص ہے۔ دراصل انہوں نے یہ تیز اننگز بیٹی کی آخری رسوم ادا کرنے کے بعد کھیلی۔ اس میچ سے چند روز قبل ان کی نومولود بیٹی کی موت ہو گئی تھی، جس کی آخری رسوم ادا کرنے کے بعد وہ میدان میں واپس آئے اور سنچری اسکور کی لیکن یہ میچ ان کے لیے اتنا آسان نہیں رہا۔

      ایلیٹ گروپ بی میں چندی گڑھ کے خلاف میچ کے آخری دن انہیں صبح ایک اور بری خبر ملی جس کی وجہ سے وہ اور بھی بری طرح ٹوٹ گئے لیکن اس کے باوجود انہوں نے ٹیم کو نہیں چھوڑا۔ وشنو سولنکی کو میچ کے آخری دن خبر ملی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا ہے۔
      بیٹی کے جنم اور 24 گھنٹے میں ہی موت کی خبر، آخری رسوم ادا کرکے میدان پر لوٹا Team India کا یہ کھلاڑی، پھر لگائی سنچری، لیکن نہیں منایا جشن۔۔۔

      ڈریسنگ روم میں ویڈیو کال پر دیکھی ویڈیو کی آخری رسوم
      انہیں یہ خبر ٹیم منیجر نے دی، جنہوں نے سولنکی کو ڈریسنگ روم میں بلایا، پھر والد کی موت کے بارے میں بتایا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق وشنو نے ویڈیو کال پر ڈریسنگ روم کے ایک کونے میں بیٹھ کر والد کی آخری رسوم کو ادا ہوتے ہوئے دیکھا۔

      ریاستی یونین سکریٹری اجیت لیلے نے بتایا کہ سولنکی کو گھر واپس آنے کا اختیار دیا گیا تھا، لیکن ٹیم منیجر نے بتایا کہ سولنکی نے ٹیم کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ وشنو سولنکی کے والد گزشتہ دو ماہ سے بیمار تھے اور اسپتال میں تھے۔ وہ پچھلے دو ماہ سے میڈیکل ایمرجنسی سے جوجھ رہے تھے۔ وشنو گھر جانے کی کوشش بھی کرتے تو وقت پر نہیں پہنچ پاتے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: