உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راشد خان نے میچ کے دوران دکھایا اپنے ملک کے لئے پیار، گیند باز کے چہرے کو دیکھ کر ہر کوئی کر رہا ہے سلام

    راشد خان نے میچ کے دوران دکھایا اپنے ملک کے لئے پیار، گیند باز کے چہرے کو دیکھ کر ہر کوئی کر رہا ہے سلام

    راشد خان نے میچ کے دوران دکھایا اپنے ملک کے لئے پیار، گیند باز کے چہرے کو دیکھ کر ہر کوئی کر رہا ہے سلام

    راشد خان فی الحال انگلینڈ کی ’دی ہنڈریڈ‘ لیگ میں کھیل رہے ہیں، مگر اس دوران انہیں اپنے ملک کی تشویش ہے۔ میچ کے دوران بھی راشد خان نے اپنے ملک افغانستان کے لئے اپنی حمایت دکھائی۔ ’دی ہنڈریڈ‘ لیگ کے ایلیمینیٹر مقابلے میں ٹرینٹ راکیٹس کے راشد خان جب ساودرن بریو کے خلاف میدان پر اترے، تو ان کے چہرے کو دیکھ کر ہر کوئی انہیں سلام کرنے لگا

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان ان دنوں مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ وہان طالبان (Taliban) کا قبضہ ہوچکا ہے۔ طالبانیوں کے خوف سے لوگ اپنا گھر اور اپنا ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ افغانستان کے اسٹار کرکٹر راشد خان (Rashid Khan) نے گزشتہ دنوں دنیا کے لیڈروں سے اپیل کی تھی کہ انہیں بحران میں مرنے کے لئے نہ چھوڑا جائے۔ ان کی خود کی فیملی افغانستان میں پھنسی ہوئی ہے۔ وہ فی الحال انگلینڈ کی ’دی ہنڈریڈ‘ لیگ میں کھیل رہے ہیں، مگر اس دوران انہیں اپنے ملک کی تشویش ہے۔

      میچ کے دوران بھی راشد خان نے اپنے ملک افغانستان کے لئے اپنی حمایت دکھائی۔ ’دی ہنڈریڈ‘ لیگ کے ایلیمینیٹر مقابلے میں ٹرینٹ راکیٹس کے راشد خان جب ساودرن بریو کے خلاف میدان پر اترے، تو ان کے چہرے کو دیکھ کر ہر کوئی انہیں سلام کرنے لگا۔



      اتنے اہم مقابلے میں اس کھلاڑی نے دنیا کے سامنے ایک بار پھر اپنے ملک افغانستان کے لئے اپنا پیار دکھایا اور چہرے پر اپنے ملک کا پرچم بناکر میدان پر اترے۔ حالانکہ اس مقابلے میں ٹرینٹ کو 7 وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

      راشد خان اس مقابلے میں چل نہیں پائے۔ انہوں نے کفایتی گیند بازی ضرور کی، لیکن کوئی بھی کامیابی نہیں ملی۔ ان کے لئے یہ لیگ ختم ہوگئی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ اپنے گھر لوٹتے ہیں، یا پھر انگلینڈ کے کچھ دن ٹھہرنے کے بعد آئی پی ایل 2021 کے دوسرے مرحلے کے لئے ابوظہبی روانہ ہوتے ہیں۔ حالانکہ آئی پی ایل کی ان کی فرنچائزی سن رائزرس حیدرآباد نے واضح کردیا ہے کہ راشد خان دوسرے مرحلے میں کھیلیں گے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: