உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روی شاستری نے 1983 عالمی کپ سے کیا آسٹریلیا سے سیریز جیتنے کا موازنہ

    روی شاستری ۔ فائل فوٹو ۔

    روی شاستری ۔ فائل فوٹو ۔

    وراٹ کوہلی کے پسندیدہ کوچ شاستری نے کپتان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیاب قیادت کی وجہ سے ہی ہندوستان کو یہ جیت ملی ہے۔ سابق کرکٹر نے کہاکہ مجھے نہیں لگتا کہ وراٹ کے مقابلے میں کوئی دوسرا ٹیسٹ کرکٹ کو اتنے جوش جذبہ کے ساتھ کھیلتا ہے۔

    • Share this:
      سڈنی: ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے چیف کوچ روی شاستری نے آسٹریلیا میں پیرکوٹسٹ سیریز جیت کا موازنہ کپل دیوکی قیادت میں پہلی بارملک کوملی تاریخی 1983 عالمی کپ جیت سے کیا ہے۔ ہندستان نے پیرکو سڈنی میچ ڈرا ہونے کے ساتھ آسٹریلیا کو اسی کی زمین پر1-2 سے شکست دے کرچارٹسٹ میچوں کی سیریز جیت لی جواس کی یہاں 70 برسوں میں پہلی ٹسٹ سیریز جیت ہے۔

      کوچ نے میچ ختم ہونے کے بعد جیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وراٹ کوہلی اور ان کی ٹیم کی جم کرتعریف کی اوراس جیت کا موازنہ پہلی عالمی کپ جیت سے کیا۔ انہوں نے کہاکہ میں آپ کو بتا دوں کہ یہ کتنا اچھا ہے۔ عالمی کپ 1983 عالمی چمپئن شپ 1985، یہ سب سے بڑی جیت، بہت بڑی جیت ہے کیونکہ اس کھیل کے حقیقی فارمیٹ میں ہے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ ہے جو سب سے مشکل ہے۔
      روی شاستری نے کپتان وراٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جوگزرگیا وہ تاریخ ہے اورآنے والا راز ہے ۔ ہم نے 71 برسوں بعد یہاں جیت درج کی ہے اور یہ موجودہ ہے۔ میں اپنے کپتان اوران کی ٹیم کو سلام کرتا ہوں جنہوں نے پہلی بار آسٹریلیا میں جیت دلائی ہے۔
      وراٹ کوہلی کے پسندیدہ کوچ شاستری نے کپتان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیاب قیادت کی وجہ سے ہی ہندوستان کو یہ جیت ملی ہے۔ سابق کرکٹر نے کہاکہ مجھے نہیں لگتا کہ وراٹ کے مقابلے میں کوئی دوسرا ٹیسٹ کرکٹ کو اتنے جوش جذبہ کے ساتھ کھیلتا ہے۔ کم سے کم میرے حساب سے کوئی اور بین الاقوامی کیپٹن اس معاملے میں ان کے قریب نہیں ہے۔


      شاستری نے کہاکہ وراٹ خود کوکھل کردکھاتے ہیں، لیکن باقی کپتانوں میں ویسی شخصیت نظر نہیں آتی ہے۔ وراٹ مثال پیش کرتے ہیں۔ پوری ٹیم ان کے جیسا بننا چاہتی ہے۔ یہ تبدیلی گزشتہ دو سے تین برسوں میں دکھا ئی دی ہے اور ٹیم کے کھلاڑی پہلے سے زیادہ خود اعتماد بنے ہیں اور ان کی صلاحیت پر انحصار کرتے ہیں۔
      چیف کوچ نے کہا کہ آسٹریلیا میں ملی جیت پوری ٹیم کی محنت کا نتیجہ ہے جس کی ابتدا گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے دورے سے ہوئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا یہ دورہ آسٹریلیا میں آکرشروع نہیں ہوا بلکہ ہم نے اس کی تیاری 12 ماہ پہلے جنوبی افریقہ میں ہی کر دی تھی۔ ہم نے اس وقت ارادہ کیا تھا کہ ہم ایک مختلف سطح کی کرکٹ کھیلیں گے ۔ ہم کمبی نیشنز کے ساتھ تجربہ کر رہے ہیں اور بہترین ٹیم کو ہی آگے لے جاتے ہیں۔
      روی شاستری نے کہاکہ ہم نے جنوبی افریقہ اور انگلینڈ میں بہت کچھ سیکھا، ہم نے وہاں غلطیاں کیں اور انہیں اس سیریز میں نہیں دہرایا۔ ہم نے اپنی پچھلی غلطیوں سے کافی سیکھا اور گھریلو میدان پر بھی اس میں سدھار کیا۔ اس لئے گزشتہ 12 ماہ میں ہم نے جو سیکھا اسے یہاں لاگو کر پانا سب سے زیادہ اچھا رہا۔
      First published: