ہوم » نیوز » اسپورٹس

ثانیہ مرزا نےکہا- میں ٹینس اور ماں کے فرائض دونوں نبھاسکتی ہوں

33 سالہ ثانیہ مرزا نے اس سال کے شروع میں ڈبلیو ٹی اے ٹور میں واپسی کی اور جنوری میں ہوبارٹ انٹرنیشنل کا خطاب جیتا۔ انہوں نے کہا کہ ماں بننےکے بعد کھیل میں لوٹنا آسان نہیں ہوتا ہے۔

  • Share this:
ثانیہ مرزا نےکہا- میں ٹینس اور ماں کے فرائض دونوں نبھاسکتی ہوں
ہرٹ ایوارڈ کی فاتح کا اعلان آن لائن ووٹنگ کی بنیاد پر کیا گیا ۔

نئی دہلی: ہندوستان کی اسٹار ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا نےکہا ہےکہ وہ ٹینس اور ماں کے فرائض میں تال میل رکھتے ہوئے دونوں کو سنبھال سکتی ہیں۔ ہندوستانی فیڈ کپ اسٹار، 6 بار کی گرینڈ سلیم چیمپئن اور سابق نمبر ایک کھلاڑی ثانیہ مرزا نے آل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن (اے آئی ٹی اے) اور ہندوستانی کھیل اتھارٹی (سائی ) کے کوچ کےلئے منعقد کئےگئے ویبی نار میں بدھ کے روز یہ بات کہی۔ کورونا وائرس کی وجہ ملک میں نافذ ہوئےلاک ڈاؤن کے دوران اے آئی ٹی اے اورسائی نےکوچ کےلئے ویبی نارکی شروعات کی ہے۔

33 سالہ ثانیہ مرزا نے اس سال کے شروع میں ڈبلیو ٹی اے ٹور میں واپسی کی اور جنوری میں ہوبارٹ انٹرنیشنل کا خطاب جیتا۔ انہوں نےکہا کہ ماں بننےکے بعد کھیل میں لوٹنا آسان نہیں ہوتا ہے، لیکن ٹینس کی معروف کھلاڑی سیرینا ولیمس اور باکسنگ کی عظیم کھلاڑی ایم سی میري كوم کی طرح ثانیہ مرزا نےکورٹ پرکامیاب واپسی کی۔ انہوں نےکورونا کی وجہ سے ٹینس کے ملتوی ہونے سے پہلےفیڈکپ میں اہم کردار نبھاتے ہوئے ہندوستان کو پہلی بار فیڈ کپ کے پلے آف میں پہنچایا جس کی وجہ سے انہیں فیڈ کپ ہرٹ ایوارڈ کےلئے نامزد کیا گیا ہے۔


ٹینس اور زچگی کے بیچ تال میل کے سلسلے میں ثانیہ مرزا نےکہا کہ میں جس طرح زندگی میں اورچیزوں کو سنبھالتی ہوں ٹھیک اسی طرح میں ٹینس اور ماں کے فرائض دونوں کو سنبھال رہی ہوں۔
ٹینس اور زچگی کے بیچ تال میل کے سلسلے میں ثانیہ مرزا نےکہا کہ میں جس طرح زندگی میں اورچیزوں کو سنبھالتی ہوں ٹھیک اسی طرح میں ٹینس اور ماں کے فرائض دونوں کو سنبھال رہی ہوں۔


ٹینس اور زچگی کے بیچ تال میل کے سلسلے میں ثانیہ مرزا نےکہا کہ میں جس طرح زندگی میں اورچیزوں کو سنبھالتی ہوں ٹھیک اسی طرح میں ٹینس اور ماں کے فرائض دونوں کو سنبھال رہی ہوں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میرے آس پاس ایسے لوگ ہیں، جو میری مدد کرتے ہیں۔ میری ماں اور میری بہن میری کافی مدد کرتی ہیں۔ ثانیہ مرزا کا یہ بھی خیال ہےکہ کوچوں کو لڑکیوں کو ٹریننگ دیتے وقت کافی توجہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹینس اسٹار نےکہا کہ عام طور پرجب آپ لڑکیوں کو ٹریننگ دیتے ہو تو آپ کو لڑکوں کے مقابلے میں تھوڑی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرے والد ہمیشہ کہتے تھےکہ خاتون ٹینس کھلاڑی کے ساتھ کام کرنا مشکل ہے کیونکہ لڑکیوں کو کئی طرح کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے”۔
First published: May 07, 2020 06:19 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading