ہوم » نیوز » اسپورٹس

شعیب اختر، آفریدی کے بعد ایک اورپاکستانی کھلاڑی نے کی ہند - پاک میچ کی وکالت، کہا- یہ جنگ نہیں ہے

پاکستان کے سابق آف اسپنر ثقلین مشتاق (Saqlain Mushtaq) نےکہا کہ کرکٹ کوئی جنگ نہیں ہے، اس لئے ہند - پاک (India vs Pakistan) کے میچ ہونےچاہئے۔ ثقلین مشتاق کو بھی لگتا ہےکہ ہندوستان اور پاکستان کو اپنے کرکٹ کی حریف ٹیم سے شروع کرنی چاہئے۔

  • Share this:
شعیب اختر، آفریدی کے بعد ایک اورپاکستانی کھلاڑی نے کی ہند - پاک میچ کی وکالت، کہا- یہ جنگ نہیں ہے
شعیب اختر، آفریدی کے بعد ثقلین مشتاق نےکی ہند - پاک میچ کی وکالت

نئی دہلی: جب سے کورونا وائرس پھیلا ہے پاکستان کی طرف سے مسلسل ہندوستان - پاکستان سیریز کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے عظیم گیند باز شعیب اختر اور شاہد آفریدی نے اس کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اب ایک اور پاکستانی کھلاڑی ہندوستان - پاکستان میچ کی وکالت کررہا ہے۔ پاکستان کے سابق آف اسپنر ثقلین مشتاق (Saqlain Mushtaq) نےکہا کہ کرکٹ کوئی جنگ نہیں ہے، اس لئے ہند - پاک (India vs Pakistan) کے میچ ہونےچاہئے۔


ایشیز سے بڑے ہیں ہند - پاک میچ


شعیب اختر اور شاہد آفریدی کی طرح ثقلین مشتاق (Saqlain Mushtaq) کو بھی لگتا ہےکہ ہندوستان اور پاکستان کو اپنے کرکٹ کی حریف ٹیم سے شروع کرنی چاہئے۔ ثقلین مشتاق نےکہا، ’آپ کھلاڑیوں کو نائک سمجھتے ہیں۔ ان کا کام اچھا کرنا ہوتا ہے۔ جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہے، کرکٹ جنگ نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہےکہ دونوں ممالک کو کرکٹ کھیلنا چاہئے’۔ انہوں نے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئےکہا کہ میں نے مداحوں کو دونوں ممالک کا جھنڈا ہاتھ میں لئے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ کھیل کی طاقت ہے۔ انہوں نےکہا ’سچن تندولکر اور شین وارن نے امریکہ میں (2015 میں) آل اسٹارس میچوں کا انعقاد کیا تھا۔ آپ کو یقین نہیں ہوگا کہ میں نے مداحوں کو ہندوستان اور پاکستان کےجھنڈے کے ساتھ دیکھا’۔ انہوں نےکہا، ’اس سے دونوں ممالک کو قریب لایا جاسکتا ہے۔ میں آئی سی سی سے بھی اس پر غور کرنےکی گزارش کروں گا۔ مالی طور پر، یہ بی سی سی آئی اور پی سی بی دونوں کےلئے فائدہ مند ہوگا۔ یہ سیریز ایشیز سےکافی بڑی ہے’۔


ثقلین مشتاق کو لگتا ہےکہ ہندوستان اور پاکستان کو اپنے کرکٹ کی حریف ٹیم سے شروع کرنی چاہئے۔
ثقلین مشتاق کو لگتا ہےکہ ہندوستان اور پاکستان کو اپنے کرکٹ کی حریف ٹیم سے شروع کرنی چاہئے۔


ثقلین مشتاق نے آر اشون سے ظاہر کی ہمدردی

پاکستان کے سابق گیند باز ثقلین مشتاق (Saqlain Mushtaq) نےکہا کہ وہ اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہیں کہ خود کو ثابت کرچکے روی چندرن اشون جیسے کھلاڑی کو ٹیم انڈیا کی ونڈے اور ٹی -20 ٹیم سے باہرکیوں رکھا گیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ ٹسٹ میں کامیابی حاصل کرنے والا گیند باز محدود اووروں کےکرکٹ میں بھی کامیاب رہتا ہے۔ آئی پی ایل میں مستقل طور پرکھیلنے والے آراشون جولائی 2017 کے بعد سے ونڈے اور ٹی -20 ٹیم سے باہر ہیں۔ رویندرجڈیجہ کے ساتھ بھی یہی حالت تھی، لیکن وہ اپنی شاندار قابلیت سے اب تینوں فارمیٹ میں کھیل رہے ہیں۔

ثقلین مشتاق نے آر اشون سے ہمدردی ظاہر کی ہے۔
ثقلین مشتاق نے آر اشون سے ہمدردی ظاہر کی ہے۔


ثقلین مشتاق (Saqlain Mushtaq) نےکہا کہ ’چاہے قابلیت مستقل ہو، چاہے آپ انگلی سے اسپن کرتے ہو یا آپ کلائی کے اسپنر ہوں۔ آپ کی صلاحیت، کھیل کی حالت کو پرکھنےکی صلاحیت بہت اہمیت رکھتی ہے۔ مجھےحیرانی ہوئی جب آراشون کو یک روزہ کرکٹ کے لئے نظر اندازکردیا گیا۔ ثقلین مشتاق نےکہا، ’جسے یہ معلوم ہو کہ پانچ یک روزہ میچ کو بلے بازکو کیسے آوٹ کرنا ہے، اس کےلئے محدود اووروں کےکرکٹ میں یہ آسان کام ہے۔ رن روکنےکا کام کوئی بھی کرسکتا ہے، لیکن جو وکٹ لینا جانتا ہے وہ رنوں پر لگام بھی لگا سکتا ہے۔ آر اشون کو دونوں آتا ہے۔ آپ اسے ٹیم سے باہرکیسے رکھ سکتے ہیں؟ آپ کو اپنے بہترین کھلاڑیوں کی حمایت کرنی ہوگی’۔ واضح رہےکہ ہندوستانی سلیکٹروں نے2017 چمپئنز ٹرافی کے بعد ٹیم میں کلائی کے اسپنروں کلدیپ یادو اور یجویندر چہل کو موقع دیا۔ دونوں نے محدود اووروں کے میچ میں خود کو ثابت بھی کیا، لیکن 2019 عالمی کپ کے بعد ایک ساتھ پلیئنگ الیون میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں رہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 27, 2020 03:06 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading