உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بڑی خبر: آسٹریلیائی عظیم کرکٹر Shane Warne کا ہوا حادثہ، بیٹا بھی تھا بائیک پر سوار

    بڑی خبر: شین وارن کا ہوا حادثہ، بیٹا بھی تھا بائیک پر سوار

    بڑی خبر: شین وارن کا ہوا حادثہ، بیٹا بھی تھا بائیک پر سوار

    سابق آسٹریلیائی اسپنر شین وارن (Shane Warne) اپنے بیٹے جیکسن کے ساتھ بائیک چلا رہے تھے، تبھی وہ گرگئے۔ اس کے بعد شین وارن اسپتال بھی گئے۔ انہیں خوف تھا کہ کہیں ان کا پیر یا پھر ہپ نہ ٹوٹ گئے ہوں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: شین وارن کا حادثہ ہوگیا ہے۔ سابق آسٹریلیائی اسپنر شین وارن (Shane Warne) بیٹے جیکسن کے ساتھ بائیک رائیڈنگ کر رہے تھے، تبھی وہ گرگئے اور 15 میٹر سے زیادہ تک گھسیٹتے گئے۔ سڈنی مارننگ ہیرالڈ کی خبر کے مطابق، انہیں کافی چوٹیں آئی ہیں۔ حادثہ کے بعد شین وارن نے کہا تھا کہ مجھے چوٹیں آئی ہیں اور بہت درد بھی ہے۔ حادثہ کے بعد شین وارن اسپتال گئے۔ انہیں خوف تھا کہی کہیں ان کا پیر یا ہپ نہ ٹوٹ گئے ہوں۔ حالانکہ قسمت سے وہ سنگین چوٹ سے بچ گئے۔ حالانکہ آسٹریلیائی عظیم کھلاڑی کو امید ہے کہ وہ 8 دسمبر سے گابا میں شروع ہونے والی ایشیز سیریز (Ashes Series) کے نشریات سے متعلق کاموں کے لئے لوٹ آئیں گے۔ گزشتہ دنوں شین وارن ایک ماڈل اور ٹی وی اداکارہ جیسیکا پاور کو فحش پیغام بھیجنے کے الزامات کے سبب پھر تنازعہ میں آگئے تھے۔

      ماڈل کو فحش پیغام بھیجنے کے سبب تنازعہ میں رہے شین وارن

      جیسیکا نے شین وارن کے کئے گئے پیغام کے اسکرین شاٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا، جس میں شین وارن نے ان سے ہوٹل کے کمرے میں ملنے کی بات کہی تھی۔ آسٹریلین ماڈل ایلی گانسالوس اور امیزون اینتھنی نے بھی شین وارن پر الزام لگائے تھے کہ سابق آسٹریلیائی گیند باز نے انہیں بھی فحش پیغام بھیجے تھے۔

      آسٹریلیا کے کچھ کرکٹر فحش پیغام کو لے کر سرخیوں میں رہے۔ آسٹریلیا کے ٹسٹ کپتان ٹم پین (Tim Paine) کو اس حرکت کے سبب کپتانی چھوڑنی پڑی تھی اور پھر انہیں کرکٹ سے بریک بھی لینا پڑا۔ ٹم پین کی جگہ حال ہی میں پیٹ کمنس کو آسٹریلیا کا اگلا ٹسٹ کپتان بنایا گیا، جس کی شین وارن نے حمایت بھی کی تھی۔ شین وارن نے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ یہ تیز گیند باز ٹم پین سے یہ ذمہ داری لے۔ دراصل ایک خاتون ملازم کو 2017 میں فحش پیغام بھیجنے کے معاملے کی کرکٹ آسٹریلیا کے ذریعہ جانچ کے درمیان ٹم پین نے ٹسٹ کپتانی چھوڑ دی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: