உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شعیب اختر سے لائیو شو میں باہر جانے کے لئے کہا گیا، سابق گیند باز نے توہین کے بعد دیا استعفیٰ

    شعیب اختر سے لائیو شو میں باہر جانے کے لئے کہا گیا، سابق گیند باز نے توہین کے بعد دیا استعفیٰ

    شعیب اختر سے لائیو شو میں باہر جانے کے لئے کہا گیا، سابق گیند باز نے توہین کے بعد دیا استعفیٰ

    ’راولپنڈی ایکسپریس‘ نام سے مشہور شعیب اختر نے پاکستان کے لئے 46 ٹسٹ اور 163 ونڈے میچ کھیلے ہیں۔ شو کے ہوسٹ نعمان نیاز نے انہیں واپس بلانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کوئی ردعمل نہیں ظاہرکیا اور معمول کے مطابق شو کو جاری رکھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان کے سابق تیز گیند باز شعیب اختر (Shoaib Akhtar) اس وقت تنازعہ میں گھر گئے، جب انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام سے باہر نکل کر کرکٹ تجزیہ کار کے طور پر اپنی نوکری سے استعفیٰ دے دیا۔ دراصل، لائیو شو کے دوران شعیب اختر پی ٹی وی (PTV) پر شو کے میزبان کے ذریعہ سیٹ چھوڑنے کے لئے کہا گیا، جس کے بعد وہیں اپنی مائیک اتارا اور اسٹوڈیو سے باہر چلے گئے۔ 46 سال کے شعیب اختر نے کہا کہ ٹی-20 عالمی کپ میں نیوزی لینڈ پر پاکستان (Pakistan vs New Zealand) کی پانچ وکٹ کی جیت کے بعد شو میں میزبان کے ذریعہ ان کے ساتھ برا برتاو کیا گیا اور ان کی توہین کی گئی۔ ’راولپنڈی ایکسپریس‘ نام سے مشہور شعیب اختر نے پاکستان کے لئے 46 ٹسٹ اور 163 ونڈے میچ کھیلے ہیں۔ شو کے ہوسٹ نعمان نیاز نے انہیں واپس بلانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کوئی ردعمل نہیں ظاہرکیا اور معمول کے مطابق شو کو جاری رکھا۔

      اس حادثہ سے شو کے دوسرے گیسٹ سر ووین رچرڈس، ڈیوڈ گاور، راشد لطیف، عمرگل، راشد لطیف، عاقب جاوید اور پاکستان خاتون ٹیم کی کپتان ثنا میر جیسے عظیم لوگ واضح طور پر ہل گئے۔ شعیب اختر کے واک آوٹ نے سوشل میڈیا پر طوفان لادیا ہے، جس میں بیشتر صارفین نے ان کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پی ٹی وی اسپورٹس ہوسٹ نعمان نیاز سے معافی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے، جو ایک مشہور کرکٹ تاریخ داں اور تجزیہ نگار ہیں۔ نیاز پی ٹی وی کھیل محکمہ کے سربراہ ہیں۔

      شعیب اختر اور شو کے ہوسٹ کے درمیان بحث کے ویڈیو سوشل میڈیا پر جم کر شیئر کئے جا رہے ہیں۔ اس حادثہ کے ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شعیب اختر نے بدھ کو خود ٹوئٹر پر اپنی صورتحال واضح کی۔ شعیب اختر نے ٹوئٹ کیا، ’سوشل میڈیا پر کئی کلپ وائرل ہو رہی ہیں تو میں نے سوچا کہ میں واضح کردوں۔ ڈاکٹر نعمان نیاز کا لہجہ نفرت انگیز اور توہین آمیز تھا، انہوں نے مجھے شو چھوڑنے کے لئے کہا۔ یہ خاص طور پر شرمناک تھا، کیونکہ آپ کے پاس ووین رچرڈس اور ڈیوڈ گاور جیسے عظیم ہیں، جو میرے کچھ ہم عصروں اور سینئروں کے ساتھ سیٹ پر بیٹھے ہیں اور لاکھوں لوگ دیکھ رہے ہیں‘۔

      انہوں نے مزید لکھا، ’میں نے یہ کہہ کر سبھی کو شرمندگی سے بچانے کی کوشش کی کہ میں اس آپسی سمجھ کے ساتھ ڈاکٹر نعمان نیاز بھی عاجزی سے معافی مانگیں گے اور ہم شو کے ساتھ آگے بڑھیں گے، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور تب میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا‘۔ پریشانی واضح طور پر تب شروع ہوئی، جب شعیب اختر نے میزبان کے ذریعہ ایک سوال کی لائن کو نظر انداز کردیا گیا اور تیز گیند باز حارث روف کے بارے میں بات کرنے لگے۔ شعیب اختر پاکستان سپر لیگ فرنچائزی لاہور قلندرس اور اس کے کوچ عاقب کی حارث روف کی تلاش کرنے اور اسے ٹھیک سے حمایت دینے کے لئے تعریف کر رہے تھے۔

      شعیب اختر نے کہا کہ جب انہوں نے سابق ٹسٹ تیز گیند باز کی طرف اشارہ کیا تو نعمان نے انہیں بیچ میں روکنے کی کوشش کی۔ سابق تیز گیند باز نے کہا، ’یہ وہ شخص ہے جو سبھی سہرا کا حقدار ہے۔ یہ لاہور قلندرس ہی تھے، جنہوں نے ہمیں حارث روف دیا‘۔ میزبان واضح طور پر ناراض اور چڑھ گیا، کیونکہ شعیب اختر نے انہیں کمزور کرنے کی کوشش کی تھی۔ تب شو کے ہوسٹ نے شعیب اختر سے کہا کہ وہ اس کے ساتھ نازیبا سلوک کر رہا تھا اور وہ اسے برداشت نہیں کرے گا اور ایسی صورتحال میں بہتر ہوگا کہ وہ شو چھوڑ دے اور ایک کمرشیل بریک کے لئے چلا جائے۔



      شو کے ہوسٹ نے کہا، ’آپ میرے ساتھ غلط برتاو کر رہے ہیں اور میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ اس شو کو ابھی چھوڑ کر چلے جائیں‘۔ بریک کے بعد جب شو دوبارہ شروع ہوا تھا تو ڈرامہ مزید بڑھ گیا، جب شعیب اختر نے کہا کہ وہ ناگہانی حادثہ کو بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہوں نے میزبان سے معافی کا مطالبہ کیا۔ ہوسٹ اس کے لئے نہیں مانے اور شو کو شروع کردیا۔ کچھ منٹ بعد شعیب اختر نے شو میں اپنے ساتھی تجزیہ نگاروں کی طرف رخ کیا اور ان سے معافی مانگنے کے بعد کہا کہ وہ پی ٹی وی اسپورٹس سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

      انہوں نے کہا، ’اس کے لئے مجھے افسوس ہے، لیکن میں پی ٹی وی اسپورٹس سے فوراً استعفیٰ دے رہا ہوں، کیونکہ ملک کے سامنے لائیو ٹیلی ویژن پر میری توہین کی گئی اور میرے ساتھ برا برتاو کیا گیا‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: