உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شعیب اختر رینگ کر چلنے کو تھے مجبور، ماں کو ڈاکٹر نے دی تھی بیٹے کے نصف معذور ہونے کی وارننگ

    شعیب اختر رینگ کر چلنے کو تھے مجبور، ماں کو ڈاکٹر نے دی تھی بیٹے کے نصف معذور ہونے کی وارننگ

    شعیب اختر رینگ کر چلنے کو تھے مجبور، ماں کو ڈاکٹر نے دی تھی بیٹے کے نصف معذور ہونے کی وارننگ

    پاکستان کے عظیم گیند باز رہے شعیب اختر نے انکشاف کیا کہ جلد ہی میلبورن میں ان کے گھٹنے کا بڑا علاج ہوگا۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کیریئر کے دوران 9 سرجری کے ساتھ ساتھ بائیں گھٹنے پر 42 اور دائیں گھٹنے پر 62 انجکشن لینے کے بارے میں بھی بتایا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان (Pakistan) کے شعیب اختر (Shoaib Akhtar) کا شمار دنیا کے عظیم تیز گیند بازوں میں ہوتا ہے۔ ان کی رفتار اور انداز نے انہیں کرکٹ کی دنیا میں سب سے مشکل گیند بازوں میں سے ایک بنایا۔ حالانکہ اس کے لئے انہیں ایک بڑی قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ یہاں تک کہ پاکستانی عظیم کھلاڑی کو آج بھی ان چوٹوں کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں ہر دن باتھ میں مجبوراً رینگنا پڑا۔ سڈنی مارننگ ہیرالڈ کو دیئے ایک انٹرویو میں شعیب اختر نے کہا کہ میں یقیناً ہر صبح باتھ روم میں رینگتا ہوں۔ آج بھی میرے پاس جام ہے۔ اسی طرح سے میرے کیریئر کا آغاز ہوا۔ سال 1999 ہی میرے لئے واحد ایسا سال تھا، جو درد سے محفوظ رہا۔

      46 سال کے عظیم گیند باز نے بتایا کہ پیدائش سے ہی ان کے گھٹنے میں پریشانی تھی۔ بچپن میں ڈاکٹر نے ان کی ماں کو وارننگ دے دی تھی کہ وہ نصف معذور ہوجائیں گے۔ شعیب اختر نے بتایا کہ میں 6 سال کی عمر تک چل بھی نہیں سکتا تھا۔ میں رینگتا تھا۔ ڈاکٹر ہمیشہ میری ماں سے کہتے تھے کہ یہ نصف معذور ہوجائے گا۔ وہ عام لوگوں کی طرح نہیں چل پائے گا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      شعیب اختر ہوئے موجودہ دور کی کرکٹ سے مایوس، ICC کو دئے یہ بڑے مشورے

      جلد ہی میلبورن میں ہوگا علاج

      شعیب اختر نے کہا کہ میرے گھٹنوں کی ہڈی پر ہڈی بن گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تصور کریں میں کس درد سے گزرا۔ یہ خوفناک تھا۔ میں آئیس باتھ کے دوران سو جاتا تھا۔ کئی بار ٹیم کے ساتھی مجھے جگاتے تھے اور کہتے تھے کہ صبح کے 4 بجے ہیں، باہر نکلو اور بسترپر سونے جاو۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی چوٹ چھپاتا تھا۔ بہت زیادہ مقابلہ تھا اور میڈیا کو یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ آخر کیوں میں مستقل طور پر نہیں کھیلتا۔

      اس انٹرویو میں شعیب اختر نے انکشاف کیا کہ جلد ہی میبلورن میں ان کے گھٹنے کا دوبارہ آپریشن ہوگا۔ انہیں کیریئر کے دوران 9 سرجری کے ساتھ ساتھ بائیں گھٹنے پر 42 اور دائیں گھٹنے پر 62 انجکشن لینے کے بارے میں بھی بتایا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: