உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سوربھ گانگولی نے وراٹ کوہلی کی پریس  کانفرنس پر توڑی خاموشی، جانیں کیا کچھ کہا

     وراٹ کوہلی کو اس ماہ کے شروع میں ونڈے کپتان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور اس کے اگلے ہی دن، سوربھ گنگولی نے دعویٰ کیا کہ بی سی سی آئی نے ستمبر میں کوہلی سے انٹرنیشنل T20 کی کپتانی نہیں چھوڑنے کیلئے کہا تھا۔

    وراٹ کوہلی کو اس ماہ کے شروع میں ونڈے کپتان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور اس کے اگلے ہی دن، سوربھ گنگولی نے دعویٰ کیا کہ بی سی سی آئی نے ستمبر میں کوہلی سے انٹرنیشنل T20 کی کپتانی نہیں چھوڑنے کیلئے کہا تھا۔

    وراٹ کوہلی کو اس ماہ کے شروع میں ونڈے کپتان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور اس کے اگلے ہی دن، سوربھ گنگولی نے دعویٰ کیا کہ بی سی سی آئی نے ستمبر میں کوہلی سے انٹرنیشنل T20 کی کپتانی نہیں چھوڑنے کیلئے کہا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سوربھ گانگولی (Sourav Ganguly) نے آخر کار وراٹ کوہلی (Virat Kohli) کی دھماکہ خیز پریس کانفرنس کا جواب دے دیا ہے۔ اپنی پریس کانفرنس میں وراٹ کوہلی نے ونڈے کپتان کے عہدے سے ہٹائے جانے کی بات کی اور بی سی سی آئی (BCCI) کے صدر کے تبصروں کی تردید کی۔ وراٹ کوہلی کو اس ماہ کے شروع میں ونڈے کپتان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور اس کے اگلے ہی دن، سوربھ گنگولی نے دعویٰ کیا کہ بی سی سی آئی نے ستمبر میں کوہلی سے انٹرنیشنل T20 کی کپتانی نہیں چھوڑنے کیلئے کہا تھا۔ اس وجہ سے سلیکٹرز کو انہیں 50 اوورز کی کپتانی سے ہٹانا پڑا، کیونکہ وہ وائٹ بال فارمیٹ کے لیے ایک کپتان چاہتے تھے۔ تاہم، کوہلی نے جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز کے لیے روانہ ہونے سے قبل بدھ کو اپنی دھماکہ خیز پریس کانفرنس کے دوران گنگولی کے بیان کی تردید کی تھہ۔
      پریس کانفرنس نے بی سی سی آئی کو سوالوں میں ڈال دیا ہے کیونکہ ب وراٹ کوہلی کی برخاستگی کو خراب طریقے سے سنبھالنے کیلئے ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ اور صدر کو کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ سوربھ گانگولی نے ابھی تک اس پورے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے نیوز 18 کو بتایا، ’’میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ بی سی سی آئی اس سے مناسب طریقے سے نمٹے گا۔
      دراصل، جنوبی افریقہ کے دورے پر روانہ ہونے سے ایک دن پہلے وراٹ کوہلی نے پریس کانفرنس میں کہا تھا، ' جو کچھ بھی سمواد کے بارے میں کہا گیا تھا، جو فیصلے کے بارے میں کہا گیا، وہ غلط تھا۔ مجھ سے ٹیسٹ سیریز کے لیے 8 دسمبر کو سلیکشن میٹنگ سے ڈیڑھ گھنٹے قبل رابطہ کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے کسی کا میرے ساتھ کوئی سمواد نہیں ہوا تھا۔ جب میں نے اپنی T20 کپتانی چھوڑںے کا کا فیصلہ سنایا تھا تو اس کے بعد کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے آگے کہا، جب میں نے ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی چھوڑی تو میں نے سب سے پہلے بی سی سی آئی سے رابطہ کیا اور انہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کرایا۔ ان کے سامنے اپنی بات رکھی۔ میں نے وجہ بتائی کہ میں T20 کپتانی چھوڑنا چاہتا تھا اور میرے اس فیصلے کو انہوں نے اچھی طرح سے لیا تھا، کوئی جھجھک نہیں تھی اور ایک بار کیلئے بھی مجھ سے نہیں کہا گیا تھا کہ تمہیں T20 کپتانی نہیں چھوڑنی چاہئے
      واضح ہو کہ ہندستانی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے ون ڈے کی کپتانی سے ہٹائے جانے کے بعد پہلی بار پریس کانفرنس کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ روہت شرما کی قیادت میں جنوبی افریقہ (India vs South Africa) کے آئندہ دورے پر ون ڈے سیریز کھیلنے کے لیے دستیاب ہوں گے۔ 16 دسمبر کو ٹیم انڈیا (team india) جنوبی افریقہ روانہ ہوگی جہاں اسے 3 ٹیسٹ اور 3 ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلنی ہے۔ ٹیسٹ سیریز کا آغاز 26 دسمبر سے ہوگا۔

      جب وراٹ کوہلی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ونڈے سیریز سے باہر ہوں گے تو انہوں نے جواب دیا، ’’میں انتخاب کے لیے دستیاب ہوں۔ آپ کو یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے۔ آپ ان لوگوں سے پوچھیں جو یہ اور ان کے ذرائع بتا رہے ہیں۔ جہاں تک میرا سوال ہے، میں انتخاب کے لیے ہمیشہ دستیاب ہوں۔ گزشتہ وقت سے میرے بارے میں جو کچھ بھی کہا جا رہا ہے وہ بالکل قابل اعتبار نہیں ہے۔ میں ون ڈے میچز کے لیے دستیاب ہوں اور میں ہمیشہ سے کھیلنے کا منتظر تھا۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: