உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وراٹ کوہلی کی جگہ روہت شرما کو کیوں بنایا گیا کپتان؟ سوربھ گانگولی نے کیا انکشاف

     وراٹ کے بغیر خطاب جیتنا یہ بتاتا ہے کہ ٹیم کتنی مضبوط ہے۔ روہت کو بڑے ٹورنامنٹ میں کامیابی ملی ہے۔ اُن کے پاس ایک اچھی ٹیم ہے، تو امید ہے کہ وہ اس سے اچھے رزلٹ لا سکتے ہیں۔

    وراٹ کے بغیر خطاب جیتنا یہ بتاتا ہے کہ ٹیم کتنی مضبوط ہے۔ روہت کو بڑے ٹورنامنٹ میں کامیابی ملی ہے۔ اُن کے پاس ایک اچھی ٹیم ہے، تو امید ہے کہ وہ اس سے اچھے رزلٹ لا سکتے ہیں۔

    وراٹ کے بغیر خطاب جیتنا یہ بتاتا ہے کہ ٹیم کتنی مضبوط ہے۔ روہت کو بڑے ٹورنامنٹ میں کامیابی ملی ہے۔ اُن کے پاس ایک اچھی ٹیم ہے، تو امید ہے کہ وہ اس سے اچھے رزلٹ لا سکتے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: بی سی سی آئی (BCCI) نے اچانک وراٹ کوہلی (Virat Kohli) کی جگہ روہت شرما (Rohit Sharma) کو ونڈے کا کپتان بنادیا۔ روہت نے حال ہی میں ٹی ٹوئنٹی کی بھی کپتانی سنبھالی ہے۔ انڈین کرکٹ بورڈ نے صرف ایک بیان جاری کرکے یہ جانکاری دی تھی۔ اس کے بعد سے ہی اس پر کافی تنازع کھڑا ہورہا ہے۔ کئی سینئر کھلاڑی اور کوہلی کے فینس کو بی سی سی آئی کا یہ طریقہ پسند نہیں آرہا ہے۔ اب بی سی سی آئی صدر سوربھ گانگولی(Sourav Ganguly) نے کرکٹ نیکسٹ سے خاص بات چیت میں اس پورے تنازع پر اپنی بات رکھی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ کیوں وراٹ کوہلی کی جگہ روہت کو سلیکٹرس نے ونڈے کا کیپٹن بنایا ہے۔

      وراٹ کوہلی کو ونڈے کی کپتانی سے ہٹانے کے بعد سے ہی تنازع ہورہا ہے۔ گانگولی پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ ٹی20 اور ونڈے کا ایک ہی کپتان بنانے کا فیصلہ بی سی سی آئی اور سلیکٹرس نے مل کر لیا ہے۔ حالانکہ، جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ کیسے یہ فیصلہ مستقبل میں انڈین کرکٹ کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا؟ اس پر گانگولی نے کہا، ’’جیسا میں نے کہا۔۔۔ میں نے شخصی طور سے اُن سے (کوہلی) سے درخواست کی تھی کہ وہ ٹی20 ٹیم کی کپتانی نہ چھوڑیں۔ ظاہر ہے، انہوں نے ورک لوڈ محسوس کیا۔ جو ٹھیک ہے، وہ ایک عظیم کرکٹر ہیں۔ وہ اپنے کرکٹ کو لے کر کافی سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے طویل عرصے تک کپتانی کی ہے اور یہ چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔ کیونکہ میں نے بھی لمبے وقت تک کپتانی کی ہے، اس لئے مجھے پتہ ہے۔‘‘

      گانگولی نے آگے کہا، ’’سلیکٹرس بھی وہائٹ بال کرکٹ میں صرف ایک ہی کپتان چاہتے تھے اور اس لئے یہ فیصلہ لیا گیا۔ مجھے نہیں پتہ کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا، یہ ایک اچھی ٹیم ہے اور اس میں کچھ شاندار کھلاڑی ہیں اور مجھے امید ہے کہ نتیجے اچھے ہی آئیں گے۔‘‘ گانگولی سے یہ پوچھا گیا کہ کیوں وہائٹ بال کرکٹ میں ایک ہی کپتان ضروری ہے؟ جب ایک ہی گیند سے الگ الگ فارمیٹ میں کھیل ہو رہا ہے؟ اس پر گانگولی نے کہا، ایک اچھی ٹیم میں بہت سارے لیڈرس نہیں ہوتے ہیں۔ شائد ونڈے اور ٹی ٹوئنٹی کا ایک ہی کپتان رکھنے کی وجہ یہی ہے۔

      آپ ٹی20 اور ونڈے میں روہت شرما سے کافی امید لگارہے ہیں۔ کیا آپ کو امید ہے کہ وہ پہلے کے کپتانوں کی طرح ٹیم کی قیادت میں کرنے کے قابل ہوں گے؟ اس کے جواب میں گانگولی نے کہا، ’’بے شک، اس لئے سلیکٹرس نے اُن کی حمایت کی ہے۔ وہ اچھا کرنے کا راستہ تلاش کریں گے اور مجھے امید ہے کہ وہ کرے گا۔ آئی پی ایل (Mumbai Indians) کے لئے اُن کا ریکارڈ شاندار ہے۔ وہ پانچ خطاب جیت چکے ہیں۔ انہوں نے کچھ سال پہلے ایشیا کپ میں ہندوستان کی کپتانی کی تھی، جسے ہندوستان نے جیتا تھا اور تب ٹیم انڈیا کوہلی کے بغیر جیتی تھی۔ وراٹ کے بغیر خطاب جیتنا یہ بتاتا ہے کہ ٹیم کتنی مضبوط ہے۔ روہت کو بڑے ٹورنامنٹ میں کامیابی ملی ہے۔ اُن کے پاس ایک اچھی ٹیم ہے، تو امید ہے کہ وہ اس سے اچھے رزلٹ لا سکتے ہیں۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: