ہوم » نیوز » اسپورٹس

سوربھ گانگولی نے کہا- ایک اچھا لیڈر ساتھیوں کی مہارت کو دیتا ہے فروغ

بی سی سی آئی صدر نے کہا کہ کسی بھی کامیابی کے لئے ناکامی سب سے پہلی سیڑھی ہے اور آپ اس کا تجربہ کریں گے لیکن بعد میں آپ محسوس کریں گے کہ ایک بہتر کل آپ کا انتظار کر رہا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: May 31, 2020 07:45 PM IST
  • Share this:
سوربھ گانگولی نے کہا- ایک اچھا لیڈر ساتھیوں کی مہارت کو دیتا ہے فروغ
سوربھ گانگولی نے کہا- ایک اچھا لیڈر ساتھیوں کی مہارت کو دیتا ہے فروغ

کولکاتا: ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر سوربھ گانگولی نے کہا ہےکہ حالات کے ساتھ سمجھوتہ قیادت کی اہم خصوصیات میں سے ایک ہے اور ایک اچھا لیڈر وہی ہے جو اپنی ٹیم کے ساتھیوں کی مہارت کو فروغ دیتا ہے۔ سوربھ گانگولی نے ہفتہ کو ان اکیڈمی کی جانب سے منعقد ایک لائیو سیشن میں 30 ہزار سے زائد نو آموز کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ایک گھنٹے تک چلے اس سیشن میں اپنے تجربات اور اسباق شئیر کئے جس سے نو آموز کھلاڑی حوصلہ افزا رہ سکیں اور خواب کا پیچھا کرنا جاری رکھیں۔


بی سی سی آئی صدر سوربھ گانگولی نے اس دوران نو آموز کھلاڑیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ حالات کے ساتھ سمجھوتہ قیادت کی اہم خصوصیات میں سے ایک ہے۔ ایک اچھے لیڈر کو ہمیشہ اپنی ٹیم کے ارکان کی مہارت کو فروغ دینا چاہیے۔ سابق کپتان نے کہا کہ جو کچھ بھی آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے اپنے اوپر یقین رکھنا بہت ضروری ہے۔ آپ راہل دراوڑ کو یوراج سنگھ کی طرح نہیں بنا سکتے یا یوراج کو راہل دراوڑ نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کامیابی کے لئے ناکامی سب سے پہلی سیڑھی ہے اور آپ اس کا تجربہ کریں گے لیکن بعد میں آپ محسوس کریں گے کہ ایک بہتر کل آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ انہوں  نے اس دوران اپنی زندگی کے مختلف واقعات کے بارے میں بات چیت کی اور اپنے سفر، اصولوں اور کامیاب ہونے کے لئے نصیحتوں کو بھی شئیر کیا۔گنگولی نے ہفتہ کو ان اكیڈمی کی جانب سے منعقد ایک لائیو سیشن میں کئی نو آموزکھلاڑیوں کے سوالات کے بھی جواب دیئے۔


سابق کپتان گانگولی نے کہا کہ جو کچھ بھی آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے اپنے اوپر یقین رکھنا بہت ضروری ہے۔
سابق کپتان گانگولی نے کہا کہ جو کچھ بھی آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے اپنے اوپر یقین رکھنا بہت ضروری ہے۔


بی سی سی آئی صدر نے کہا کہ آپ جو بننا چاہتے ہیں اسے حاصل کرنے کے لئے آپ کو خود پر یقین کرنا ہوگا اور لوگوں سے یہ توقع نہ کریں کہ آپ ان سے کیسا برتاؤ کرنا چاہتے ہیں، انہیں جو وہ ہیں وہی رہنے دیں۔دادا نام سے مشہور گنگولی نے یہ بھی کہا کہ دباؤ کو ہینڈل کرنے کا واحد راستہ دباؤ کے ساتھ جینا ہے۔جتنا زیادہ دباؤ آپ سنبھالتے ہیں اتنا ہی زیادہ بہتر ہوتے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے لیڈر بھی غلطیاں کرتے ہیں لیکن اگر آپ کا فیصلہ درست ہے تو سب اپنے آپ صحیح ہو جاتا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ آپ کو اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہئے اور انہیں اپنے بہتر ورژن بننے کے لئے چھوڑ دینا چاہئے۔غلطیوں سے اپنا حوصلے کو کم نہ ہونے دیں، یہ بڑے ہونے کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناکامی سے سبق لے کر آپ کامیابی کی جانب بڑھیں گے۔ دادا نام سے مشہور گنگولی نے کہا کہ کامیابی کے لئے اپنا راستہ خود بنانا ہوگا اور ذہنی نظم و ضبط بہت اہم ہے۔اس بارے میں فکر مند نہیں ہونا چاہئے کہ دوسرے آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ لوگوں کے مختلف آراسے بے چین نہ ہوں اور توجہ مرکوز رکھیں اور پرسکون رہیں۔

گانگولی نے کہا کہ میں اسے ہمیشہ یاد رکھوں گا، میں تب پاکستان کے خلاف رنز نہیں بنا پارہا تھا۔ میں ٹیم کا کپتان تھا۔
گانگولی نے کہا کہ میں اسے ہمیشہ یاد رکھوں گا، میں تب پاکستان کے خلاف رنز نہیں بنا پارہا تھا۔ میں ٹیم کا کپتان تھا۔


سوربھ گانگولی نے اس دن کو یاد کیا جب ہندوستانی ٹیم نے اپریل فول والے دن ان سے مذاق کیا تھا۔ اپنے ایک پرستار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے گانگولی نے کہا کہ میں اسے ہمیشہ یاد رکھوں گا، میں تب پاکستان کے خلاف رنز نہیں بنا پارہا تھا۔ میں ٹیم کا کپتان تھا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کھلاڑی مذاق بھی کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں رن نہیں کر پا رہا تھا تو میں تھوڑا سا مایوس تھا۔ میں جیسے ہی ڈریسنگ روم میں گیا ٹیم کے کھلاڑی ایک ساتھ آئے سچن اور ہربھجن کہہ رہے تھے کہ آپ نے ٹیم کے بارے میں جو میڈیا میں کہا اس سے ہم لوگ مایوس ہیں۔میں نے کہا کہ میں نے کیا کہا۔انہوں نے کہا کہ اخبارات میں خبر ہے کہ ٹیم جس طرح کھیل رہی ہے آپ اس سے خوش نہیں ہیں۔

گانگولی نے کہا کہ جو انہوں نے سنا اسے سن کر وہ مایوس ہو گئے تھے اور کپتانی سے استعفی دینے کو بھی تیار تھے۔ کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ ہر کوئی ہنس رہا ہے۔گنگولی نے بتایا کہ ہربھجن نے پھر انہیں اس مذاق کے بارے میں بتایا تھا۔ گانگولی نے کہا کہ میں اس وقت کافی مایوس تھا اور تھوڑا سا حیران بھی۔تبھی ہربھجن نے کہا اپریل فول۔ گانگولی نے کہا کہ اس مذاق نے ان کے لئے اچھا کام کیا اور ان کی فارم واپس آ گئی۔ انہوں نے کہا ہےکہ اگر کورونا وائرس کی ویکسین مل جاتی ہے تو کرکٹ چھ سے سات ماہ میں اپنی پرانی پوزیشن میں واپس آئے گی۔ اس وبا کی وجہ سے کھیل مارچ کے وسط سے ہی بند ہے۔ گنگولی نے اپنے آن لائن لیکچر میں کہا کہ یہ ایسی چیز ہے جس نے پوری دنیا کو ہلا دیا ہے۔گنگولی نے کہا کہ کھلاڑی اور عملے کے ٹیسٹ ہوں گے اور یہ کھیل کے درمیان میں نہیں آئیں گے۔
First published: May 31, 2020 07:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading