உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    World Boxing Championship: نکہت زرین ورلڈ چیمپئن بن کر میری کام کی کلب میں ہوئیں شامل، کبھی ٹرائل کو لے کر لیجنڈ سے ہوا تھا تنازع

    World Boxing Championship: نکہت زرین ورلڈ چیمپئن بن کر میری کام کی کلب میں ہوئیں شامل، کبھی ٹرائل کو لے کر لیجنڈ سے ہوا تھا تنازع (Nikhat zareen Instagram)

    World Boxing Championship: نکہت زرین ورلڈ چیمپئن بن کر میری کام کی کلب میں ہوئیں شامل، کبھی ٹرائل کو لے کر لیجنڈ سے ہوا تھا تنازع (Nikhat zareen Instagram)

    World Boxing Championship: خاتون باکسر نکہت زرین نے تاریخ رقم کردی ہے ۔ انہوں نے ورلڈ چیمپئن شپ میں گولڈ جیتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایم سی میری کام کی برابری کرلی ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : خاتون باکسر نکہت زرین نے تاریخ رقم کردی ہے ۔ انہوں نے ورلڈ چیمپئن شپ میں گولڈ جیتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایم سی میری کام کی برابری کرلی ہے ۔ وہ جونیئر کٹیگری میں ورلڈ چیمپئن بن چکی ہیں ۔ 24 سالہ نکہت نے تھائی لینڈ کی باکسر کی جٹاماسا جتپونگ کو ایک طرفہ مقابلے میں پانچ صفر سے ہراکر گولڈ میڈل حاصل کیا ۔ نکہت زرین نے سیمی فائنل میں برازیل کی کیرولن ڈی ایملیڈا کو ہرایا تھا ۔ یہ مقابلہ بھی انہوں نے دبدبہ کے ساتھ ایک طرفہ طور پر جیتا تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: IPL 2022: لکھنو دلچسپ جیت کے ساتھ پلے آف میں، کے کے آر کی ٹیم ہار کر باہر


      چھ مرتبہ کی ورلڈ چیمپئن ایم سی میری کام، سریتا دیوی، جونی آر ایل اور لیکھا سی ایسی ہندوستانی خاتون مکے باز ہیں، جنہوں نے ورلڈ خطاب اپنے نام کئے ہیں۔ اب نظام آباد کی مکے باز زرین بھی اس فہرست میں شامل ہوگئی ہیں ۔چھ مرتبہ کی چیمپئن ایم سی میری کام (2002، 2005، 2006، 2008، 2010 اور 2018)، سریتا دیوی (2006)، جینی آر ایل (2006) اور لیکھا کے سی اس سے قبل عالمی خطاب جیت چکی ہیں۔

       

      یہ بھی پڑھئے : جسپریت بمراہ کا ایک اور بڑا کارنامہ، ایسا کرنے والے پہلے ہندوستانی تیز گیند باز


      زرین کے گولڈ کے علاوہ منیشا مون (57 کلوگرام) اور ڈیبیو کررہی پروین ہوڈا (63 کلوگرام) نے کانسہ کے تمغے جیتے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں ہندوستان کے 12 رکنی دستے نے حصہ لیا۔ پچھلے ٹورنامنٹ کے مقابلہ میں ہندوستان کے تمغوں کی تعداد میں ایک تمغے کی کمی ہوئی ہے، لیکن چار سال بعد ایک ہندوستانی باکسر عالمی چیمپئن بن گئی ۔ میری کام نے 2018 میں ہندوستان کے لئے آخری گولڈ میڈل جیتا تھا۔

      اس ٹورنامنٹ میں ہندوستان کی بہترین کارکردگی 2006 میں رہی تھی ، جب ملک نے چار گولڈ ، ایک سلور اور تین کانسہ سمیت آٹھ میڈل جیتے تھے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: